3

لیجنڈری ہاکی سٹرائیکر کی ادھورا خواب پورا ہونے کی امید ؛خوابوں کی دوسری جنریشن کو منتقلی کی دلچسپ کہانی

(24نیوز) ساؤتھ ایشیا کی ہاکی لیجنڈ پریتم سیواچ کے لیے، ہفتہ کو ویلز کے خلاف 2026 کا FIH مینز ورلڈ کپ کا افتتاحی میچ ایک میچ سے کچھ زیادہ تھا۔ انہیں اپنا مدتوں پہلے کا ادھورا خواب پورا ہونے کی آس تھی۔ اس ہی جگہ گزشتہ صدی کے اختتام سے کچھ پہلے وہ بھی ورلڈ کپ جیت لے جانے کا خواب لے کر آئی تھیں لیکن خالی ہاتھ واپس گئی تھیں۔ اب انہیں یہ ادھورا خواب پورا ہونے کی اس لئے امید ہے کہ ان کا بیٹا بھارت کی ٹیم میں کھیل رہا ہے۔

 ہالینڈ میں 1998 کے ورلڈ کپ میں بھارت کی نمائندگی کرنے کے اٹھائیس سال بعد، پریتم اپنے بیٹے یشدیپ سیواچ کو اسی ملک میں کھیل کے سب سے بڑے سٹیج پر اپنا سینئر ڈیبیو کرتے ہوئے دیکھیں گی جہاں وہ کبھی خود بھارت کی قومی جرسی پہن کر کھیلتی نظر آتی تھیں۔ فخر سے بھری ماں کے لیے، یہ ایک ایسا لمحہ ہے جو اس کے اپنے بین الاقوامی کیریئر کی یادیں دلا رہا ہے — اور اپنے بیٹے کو ہاکی کے میدان میں وہ حاصل کرتے ہوئے دیکھنے کی خوہشمند ہیں جو انہیں نہیں مل سکا۔

 پریتم نے کہا، “یہ میرے لیے بہت بڑا لمحہ ہوگا۔ میرا بیٹا اب اسی مقام پر کھیلے گا جہاں میں نے بھی ورلڈ کپ کھیلا تھا۔ میں نیدرلینڈز میں تھی لیکن حال ہی میں واپس آئی ہوں اور اب ٹی وی پر میچ دیکھوں گی۔ میں نے آج صبح فون پر اسے بتایا ہے کہ تمہیں اپنی ماں کا ادھورا خواب پورا کرنا ہے۔”

پریتم رانی سیواچ بھارتی خواتین کی ہاکی ٹیم کی سابق کپتان اور لیجنڈری سینٹر فارورڈ ہیں۔ انہوں نے  زچگی کے بعد شاندار  واپسی کی تھی اور  2002 کی کامن ویلتھ گیمز  بھارت کے لئے گولڈ میڈل کما کر شہرت حاصل کی تھی۔ بعد میں پریتم نے کوچنگ کے لیے ممتاز ڈروناچاریہ ایوارڈ حاصل کیا۔

یہ بھی پڑھیئے: ہاکی ورلڈ کپ میں پاکستان اور انگلینڈ کا پہلا میچ، انگلینڈ4: پاکستان 1

پریتم یشدیپ کی پیدائش سے برسوں پہلے،  بھارت کی 1998 کے ورلڈ کپ کیلئے بھارتی ٹیم کا حصہ تھیں ۔ اب 25 سال کے،  ان کے بیٹےنے بھارت کی سینئر ٹیم میں مستحکم جگہ پا لی ہے۔ انہوں نے  2022 میں  بھارت کی جانب سے ڈیبیو کیا تھا۔ اپنے ملک کی طرف سےورلڈ کپ میں وہ  پہلی مرتبہ شریک ہیں۔یش دیپ پہلے ایک بڑے بین الاقوامی ٹورنامنٹ کے دباؤ کا تجربہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے  2021 جونیئر ورلڈ کپ میں بھارت کی نمائندگی کی تھی۔  لیکن سینئر ورلڈ کپ ایک مختلف چیلنج ہے۔

ویمن ہاکی میں بڑا نام بن کر ریٹائر ہونے والی پریتم نے کہا،  “مجھے یقین ہے کہ یہ ٹیم میڈل کے ساتھ واپس آئے گی۔ ٹیم بہت مضبوط اور حوصلے بلند ہے۔ ہم نے بڑی ٹیموں کے خلاف باقاعدگی سے کھیلا ہے اور ہماری تیاری ٹھوس لگ رہی ہے۔”

پریتم نے  اپنی ہاکی اکیڈمی کے ذریعے کئی بین الاقوامی کھلاڑیوں کو  جنم دیا ہے۔ بھارتی ویمن ٹیم کی سابق سٹرائیکر پریتم کو اپنے اور اپنے بیٹے کے کھیلنے کے انداز میں واضح فرق نظر آتا ہے۔ “وہ بہت سکون سے کھیلتا ہے اور جلدی سیکھتا ہے، جب کہ میری بیٹی کنیکا اور میں زیادہ جارحانہ کھلاڑی ہیں۔ شاید پوزیشننگ کا بھی اثر ہوتا ہے، کیونکہ وہ ایک  ڈیفینڈرہے اور ہم سٹرائیکر ہیں،” پریتم نے مسکراتے ہوئے کہا۔

یہ بھی پڑھیئے: پی سی بی نے ایشیا کپ، ایشین گیمز کیلئے ویمنز سکواڈ کا اعلان کر دیا 

 اپنے بیٹے کو ایک ایسے مقام پر میدان میں اترتے دیکھنا جس میں بہت سی یادیں ہیں،پریتم نے اپنے کیریئر کے مشکل سالوں کو  یاد کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ ویمن  ہاکی کھیل رہی تھیں تو    “اپنے نوزائیدہ بچے کو پیچھے چھوڑنا اور کیمپوں یا ٹورنامنٹ میں رہنا آسان نہیں تھا، لیکن قربانیاں مجھ سے زیادہ میرے خاندان کی طرف سے تھیں،”  تاہم ان قربانیوں کا صلہ اس وقت ملا جب بھارت کی ویمن ٹیم نے مانچسٹر میں کامن ویلتھ گیمز میں گولڈ میڈل جیتا۔

 FIH مینز ورلڈ کپ 2026: ہرمن پریت سنگھ ویلز ناؤ کے خلاف بھارت کی مہم کے آغاز سے بہت خوش تھیں، جب وہ اپنے بیٹے کو  ورلڈ کپ کے سفر پر نکلتے ہوئے دیکھ رہی تھیں۔ کل شب ہوا یہ میچ یشدیپ کی ٹیم نے آسانی سے جیت لیا تھا۔ 

یہ بھی پڑھیئے: پاکستانی سٹار  ثنا بہادر نے آسٹریلین اسکواش ٹورنامنٹ جیت لیا 

پریتم کے پاس ہاکی کھیلنے والی  خواتین کیلئے ایک پیغام ہے انہوں نے کہا کہ صرف خواتین کی ہاکی کا مستقبل نہیں بلکہ ہاکی کھیل کا مستقبل بھی آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر آپ اگلی نسل کو ہاکی سٹک اٹھانے کی ترغیب دینا چاہتی ہیں تو آپ کو جیتنا چاہیے۔ “ہر وقت جیت کے بارے میں سوچیں، چاہے آپ اٹھیں، بیٹھیں، کھائیں یا پییں۔

پریتم کو امید ہے کہ اس ورلڈ کپ میں بھارت کی ہاکی ٹیم سیمی فائنل تک پہنچ سکتی ہے۔  پریتم کے لیے، ہرمن پریت سنگھ کی قیادت میں کھیلنے والی مردوں کی ٹیم کے پاس طویل انتظار کے بعد ورلڈ کپ میڈل کے لیے چیلنج کرنے کا موقع ہے۔ لیکن وہ یہ بھی چاہتی ہیں کہ بھارت کی خواتین کی ٹیم اپنی تاریخ خود لکھے۔ انہوں نے کہا، “مردوں کی ٹیم کے پاس آٹھ اولمپک گولڈ میڈل ہیں اور ایک ورلڈ کپ ہے، اور اب انڈین ویمن کو بھی اپنی میراث خود بنانا ہوگی۔” 

یہ بھی پڑھیں:  بیلجیئم:سیوریج لائن کی کھدائی کے دوران 90 لاکھ یورو کا خزانہ مل گیا 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں