
(24نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ عدالت احکامات کی خلاف ورزی کی گئی ہے، بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی فیملی اور پارٹی توہین عدالت کی مرتکب قرار پائی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطاتارڑ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے سیاست کرکے توہین عدالت کے مرتکب ہوئے اس سے گریز کریں،سیکیورٹی سے متعلق پی ٹی آئی کے لوگوں نے رسک بنایا ، اس لیے بانی کو پمز لے جایا گیا، پمز میں شفا استپال کے ڈاکٹرز موجود تھے،میڈیکل بورڈ کی رائے کے بغیر یہ نہیں بتایا جاسکتا کہ کہاں علاج ہونا ہے،ابتدائی رپورٹس کے مطابق بانی پی ٹی آئی ہشاش بشاش ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ شفا استپال کے باہر ٹولیوں کی شکل میں لوگ جمع کئے گئے،کیا عدالت نے سیاست کرنے سے منع نہیں کیا تھا، پریس کانفرنسز ، بیانات دیئے گئے، عدالت احکامات کی خلاف ورزی کی گئی، بانی کے ساتھ یہ مخلص تھے تو راستے میں رکاوٹیں کیوں کھڑی کیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی کا علاج پہلے بھی ہوتا رہا اور جب ضرورت پڑی ہوتا رہے گا،بانی پی ٹی آئی کی صحت پر پروپیگنڈا کیا جارہا ہے،علاج معالجے سے متعلق انتظامیہ نے عدالتی آرڈر پر عملدرآمد کروایا، ہمارا ہمیشہ موقف رہا صحت کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہے،ہم نے کبھی کسی کی صحت کے متعلق توہین آمیز رویہ نہیں اپنایا۔
وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ یہ جب خود وزیراعظم تھے تو لوگوں کی صحت پر طنز کرتے تھے، بانی پی ٹی آئی کے دوسروں کی صحت سے متعلق بیانات سب پر عیاں ہیں،بانی اپنے دور حکومت میں دوسروں کی صحت پر طنز تضحیک آمیز گفتگو کرتے تھے ۔
عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب بار اور پاکستان بار کونسل نے کہا ہے کہ کچھ وکلاء ذاتی بیانات دے رہے ہیں،بار کونسلز نے واضع کردیا پی ٹی آئی سیاسی ایجنڈے کے لیے وکلاء کو استعمال نہ کرے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں انسداد ہیپا ٹائٹس سی مہم جاری ، 2 لاکھ سے زائد افراد کی سکریننگ






