1970 کے بعد پہلی مرتبہ پہلی مرتبہ فشریز کے شعبے کو جدید تقاضوں کے مطابق ایک جامع قانونی فریم ورک دینے کی جانب پیش رفت۔
کوئٹہ: بلوچستان صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے کمیٹی روم میں قائمہ کمیٹی برائے ماہی گیری کا اہم اجلاس چیئرمین کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں بلوچستان فشریز اینڈ ایکوا کلچر بل 2026 کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں کمیٹی کے ارکان عبدالمجید بادینی، ظفر علی آغا، برکت علی رند، میر ظہور بلیدی اور صفیہ فضل سمیت سیکرٹری بلوچستان اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، اسپیشل سیکرٹری اسمبلی عبدالرحمٰن، ڈائریکٹر جنرل فشریز، ایڈیشنل سیکرٹری فشریز، ایڈیشنل سیکرٹری قانون اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے آغاز میں محکمہ فشریز کی جانب سے بلوچستان فشریز اینڈ ایکوا کلچر بل 2026 کے حوالے سے کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ بلوچستان میں ماہی گیری، ایکوا کلچر، فشریز ہاربرز اور ساحلی ترقی سے متعلق موجودہ قوانین مختلف ادوار میں بنائے گئے ہیں اور متعدد قوانین میں منقسم ہونے کے باعث بعض معاملات میں انتظامی و قانونی خلا اور ادارہ جاتی اختیارات میں تداخل پایا جاتا ہے۔
مجوزہ بل کا بنیادی مقصد فشریز اور ایکوا کلچر کے شعبے کے لیے ایک جامع، مربوط اور جدید قانونی نظام تشکیل دینا ہے، جس کے تحت پائیدار ماہی گیری اور ایکوا کلچر، فشریز ہاربرز، ساحلی ترقی، لائسنسنگ، ڈیجیٹل گورننس، نگرانی و مانیٹرنگ، ماحولیاتی تحفظ اور ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کو مؤثر بنایا جائے گا۔
مجوزہ قانون کے ذریعے بلوچستان کی فشریز سے متعلق قانون سازی کو جدید تقاضوں اور بین الاقوامی بہترین طریقۂ کار سے ہم آہنگ کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
بل میں پسنی فشریز ہاربر اتھارٹی اور بلوچستان کوسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو تحلیل کرکے ان کے اثاثہ جات، واجبات، فرائض اور ذمہ داریاں محکمہ فشریز اینڈ کوسٹل ڈویلپمنٹ کو منتقل کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جس کا مقصد ادارہ جاتی کارکردگی، رابطہ کاری اور انتظامی امور کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
اس موقع پر چیئرمین قائمہ کمیٹی مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے اہم نوعیت کے قانون سازی کے عمل کے دوران متعلقہ محکمے کے سیکرٹری کی عدم موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اہم بل پر غور کے لیے متعلقہ اعلیٰ حکام کی موجودگی ضروری ہے تاکہ کمیٹی کو قانون کے تمام پہلوؤں سے مکمل آگاہی حاصل ہو سکے۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ فشریز اینڈ ایکوا کلچر بل 2026 ساحل کے عوام اور بلوچستان کے ماہی گیروں کے لیے ایک انقلابی اور اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ بل ماہی گیروں کے لیے ایک تحفہ ہوگا، کیونکہ 1970 کے بعد پہلی مرتبہ فشریز کے شعبے کو جدید تقاضوں کے مطابق ایک جامع قانونی فریم ورک دینے کی جانب اہم پیش رفت کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس قانون سازی کا مقصد صرف ادارہ جاتی اصلاحات نہیں بلکہ ماہی گیروں کے حقوق، روزگار، فشریز وسائل کے تحفظ اور ساحلی علاقوں کی پائیدار ترقی کو یقینی بنانا بھی ہونا چاہیے۔
اجلاس میں کمیٹی ارکان نے اس امر پر زور دیا کہ بل کی تیاری اور منظوری کے عمل میں ماہی گیروں، فش فارمرز اور ساحلی علاقوں کے عوام کی آراء کو لازمی طور پر شامل کیا جائے۔ ارکان نے کہا کہ چونکہ اس قانون کا براہِ راست تعلق بلوچستان کے ساحلی علاقوں اور فشریز سے وابستہ ہزاروں افراد سے ہے، اس لیے حتمی منظوری سے قبل تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت ضروری ہے۔
کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ بلوچستان فشریز اینڈ ایکوا کلچر بل 2026 کے حوالے سے آئندہ اجلاس گوادر میں منعقد کیا جائے گا، جس میں فش فارمرز، ماہی گیروں اور دیگر متعلقہ نمائندگان کو مدعو کرکے ان کی تجاویز اور آراء حاصل کی جائیں گی۔ اجلاس کے انعقاد میں دشواری کی صورت میں گوادر میں اس اہم قانون سازی کے حوالے سے سیمینار منعقد کرکے عوامی اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی رائے حاصل کرنے کی تجویز بھی دی گئی۔
کمیٹی نے مزید فیصلہ کیا کہ بل پر آئندہ غور کے دوران محکمہ خزانہ اور محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن (S&GAD) کے نمائندگان کو بھی مدعو کیا جائے گا۔ عوام کو بل کے خدوخال، مقاصد اور اہمیت سے آگاہ کرنے کے لیے اس کے اہم نکات کو میڈیا کے ذریعے اجاگر کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
کمیٹی ارکان نے اتفاق کیا کہ بلوچستان میں فشریز اور ایکوا کلچر کے وسائل کے پائیدار فروغ، تحفظ، مؤثر انتظام و انصرام اور ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کے لیے جدید اور جامع قانون سازی ناگزیر ہے، تاہم اس قانون کو مؤثر اور قابلِ عمل بنانے کے لیے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی تجاویز اور تحفظات کو قانون سازی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔
اجلاس کے اختتام پر چیئرمین قائمہ کمیٹی مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے تمام کمیٹی ارکان اور متعلقہ حکام کا شکریہ ادا کیا۔
9






