8

بلوچستان میں انسانی المیہ جنم لے چکا ہے انسانی جان کی کوئی اہمیت نہیں رہی ہے، اپوزیشن جماعتیں بلوچستان۔

کوئٹہ بلوچستان کی موجودہ سیاسی، امن و امان اور معاشی صورتحال کے پیش نظر آل پارٹیز کانفرنس کا اجلاس نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی زیرِ صدارت محمدشہی ہاؤس کوئٹہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی میزبانی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل میر کبیر جان محمدشہی نے کی۔
اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی صدر سینیٹر مولانا عبدالواسع، عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی صدر عبدالخالق ہزارہ، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی صدر احمد جان، بلوچستان نیشنل پارٹی کے موسیٰ بلوچ اور جماعت اسلامی کے زاہد اختر سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شرکاء نے بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں انسانی جانوں کے تحفظ، سیاسی سرگرمیوں، معیشت اور کاروباری زندگی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق مختلف شاہراہوں اور کاروباری سرگرمیوں کی بندش، سرحدی راستوں کی بندش اور بعض علاقوں میں کرفیو جیسی صورتحال نے عوامی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔
رہنماؤں نے کہا کہ اشیائے خوردونوش کی ترسیل متاثر ہونے کے باعث مستقبل میں خوراک کے بحران کا خدشہ بھی پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے زیارت، ہنہ اوڑک اور کھڈکوچہ میں پیش آنے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات سیاسی جماعتوں کے درمیان مشترکہ موقف اور مؤثر سیاسی کردار کے متقاضی ہیں۔
شرکاء نے کہا کہ بلوچستان میں سیاست اور سیاسی جماعتوں کے کردار کو محدود کرنے کی کوششیں ناقابل قبول ہیں، اس لیے سیاسی جماعتوں کو اختلافات سے بالاتر ہوکر مشترکہ موقف اختیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے سیاسی اتحادوں کے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے بلوچستان کی سطح پر ایک پائیدار سیاسی اتحاد تشکیل دینے کی ضرورت ہے، جس کی بنیاد باہمی اعتماد اور احترام پر ہو۔
اجلاس میں شرکاء نے کہا کہ پائیدار امن کے لیے سیاسی و جمہوری جماعتوں کو متحد ہوکر مؤثر سیاسی جدوجہد کا آغاز کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں سیاسی جماعتیں مختلف دباؤ اور مشکلات کے درمیان اپنا کردار ادا کررہی ہیں۔
رہنماؤں نے سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی اقدامات، بجلی کی تنصیبات اور بنیادی سہولیات سے متعلق مسائل پر بھی اظہار خیال کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ طویل سرحدی نگرانی اور حفاظتی اقدامات کے باوجود بعض علاقوں میں بدامنی کے واقعات کیسے پیش آ رہے ہیں۔
اجلاس میں کھڈکوچہ میں باغات اور باغبانوں سے متعلق اقدامات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ لوگوں کو گھروں، کاروبار اور باغات سے محروم کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں اور اس معاملے کو سیاسی و قانونی سطح پر اٹھانے کی ضرورت ہے۔
سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ عوام کے لیے ان کا گھر، باغ، دکان اور کاروبار ہی ان کا پاکستان ہے۔ اگر کسی شخص کا گھر، باغ، دکان یا کاروبار تباہ کیا جائے گا تو اسے محسوس ہوگا کہ اس سے اس کا پاکستان چھینا جارہا ہے۔

شرکاء نے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق جاری بحث پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو سیاسی اتفاقِ رائے اور تمام متعلقہ فریقین کی مشاورت کے بغیر آگے بڑھانا مزید بے چینی کا باعث بن سکتا ہے۔
اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ سیاسی جماعتوں کا یہ اتحاد بلوچستان کے عوام کے لیے اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔ شرکاء نے کہا کہ بلوچستان کے وسائل پر صوبے کے عوام کا حق ہے اور اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان میں بسنے والی تمام اقوام اس صوبے کو اپنا مشترکہ وطن سمجھتی ہیں اور صوبے کے وسائل پر تمام باشندوں کا یکساں حق ہے۔ اجلاس میں سیاسی، جمہوری اور آئینی جدوجہد کے ذریعے عوامی مسائل کے حل اور صوبے کے وسائل کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں