خوزڑی زمیندار ایکشن کمیٹی کی سابق صوبائی وزیر ملک سلطان ترین کے ہمراہ پریس کانفرنس
کرتے ہوئے کہا کہ
پی ایس ڈی پی Z2026-0011 گریوٹی واٹر سپلائی اسکیم ناقص منصوبہ بندی کا شاہکار ہے –
اسکیم سے شہر کو فائدہ نہیں، خوزڑی کے ہزاروں ایکڑ اراضی بنجر ہونے کا خدشہ ہے –
خوزڑی میں زیر زمین پانی موجود نہیں، واحد ذریعہ خوزڑی ویالہ ہے جو صدیوں سے آباد کر رہا ہے
ندی میں پانی محدود ہے، تیسرا حصہ رقبہ آج تک آباد نہیں ہو سکا –
30 کروڑ کا خوزڑی ڈیم ادھورا، فنڈز کی عدم فراہمی اور خوردبرد سے منصوبہ التوا کا شکار ہے
مطالبہ ہے خوزڑی ڈیم مکمل کیا جائے تو شہر کو بھی پانی ملے گا اور سروتی بند کا خطرہ بھی ختم ہوگا
سروتی حفاظتی بند پر حکومت سالانہ کروڑوں خرچ کرتی ہے، ڈیم سے قومی خزانے کو بچت ہوگی
خوزڑی ندی بعض اوقات خشک رہتی ہے، ایسی صورت میں واٹر سپلائی اسکیم سو فیصد ناکام ہوگی
یہ اسکیم قومی خزانے کے کروڑوں روپے کا ضیاع ہے –
وزیر اعلیٰ بلوچستان نوٹس لیں، متنازعہ اسکیم کا ٹینڈر منسوخ کر کے کہیں اور منتقل کیا جائے
خوزڑی کے زمیندار خود قلت آب کا شکار ہیں، ندی کا پانی کسی اور جگہ منتقل نہیں کرنے دیں گے۔
اگر زبردستی پانی منتقل کرنے کی کوشش کی گئی تو سخت احتجاج کریں گے – زمینداروں کا انتباہ






