تربت میں آل پارٹیز کیچ کا بھرپور احتجاج، بدامنی اور بارڈر بندش کے خلاف، ریلی و جلسہ، نعرے بازی
تربت اور ضلع کیچ میں بدامنی، چوری، ڈکیتی، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، جبری گمشدگیوں، سڑکوں کی بندش اور بارڈر پوائنٹس کی بندش کے خلاف آل پارٹیز کیچ کے زیر اہتمام تربت میں احتجاجی ریلی نکالی گئی جس نے تربت پریس کلب کے سامنے پہنچ کر جلسے کی شکل اختیار کرلی۔
ریلی کی قیادت آل پارٹیز کیچ کے کنوینر یونس جاوید، ڈپٹی کنوینر فدا جان بلیدی، جماعت اسلامی کے رہنما غلام یاسین بلوچ ،بی این پی عوامی کے مرکزی رہنما ظریف زدگ، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے رہنما ڈاکٹر علی جان، نیشنل پارٹی کے رہنما ملا برکت بلوچ ، ایڈووکیٹ مشکور انور، محمد جان دشتی، جے یو آئی کے رہنما مولانا جاوید نعمانی، آل مکران تاجر اتحاد کے صدر اسحاق روشن دشتی، انجمن تاجران کیچ کے صدر نثار آدم جوسکی، تربت سول سوسائٹی کے کنوینر کامریڈ گلزار دوست اور دیگر نے کی جب کہ ریلی میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں، تاجر برادری، کاروباری شخصیات، مزدوروں، طلبہ، سول سوسائٹی اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تربت پریس کلب کے سامنے احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے آل پارٹیز کیچ کے ڈپٹی کنوینر فدا جان بلیدی نے کہا کہ بارڈر کی بندش کسی صورت قابل قبول نہیں کیونکہ صدیوں سے یہی سرحدی تجارت یہاں کے لوگوں کے روزگار اور کاروبار کا بنیادی ذریعہ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تربت سمیت ضلع کیچ میں امن و امان کی صورت حال مسلسل خراب ہے، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کے واقعات نے شہریوں کو عدم تحفظ کا شکار بنا دیا ہے جبکہ سیکیورٹی کے نام پر مختلف اوقات میں سڑکیں بند کرکے عوام کو مشکلات سے دوچار کیا جاتا ہے۔
فدا جان بلیدی نے کہا کہ خواتین کی مبینہ جبری گمشدگیوں اور نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں سمیت دیگر عوامی مسائل پر آل پارٹیز کیچ کے پلیٹ فارم سے پریس کانفرنس کرکے 20 ستمبر کے احتجاج کی کال دی گئی تھی تاہم احتجاج سے قبل لاتعلقی کا سلسلہ شروع کیا گیا اور بعض عناصر نے آل پارٹیز کیچ کے احتجاج سے علیحدگی اختیار کرلی۔
انہوں نے واضح کیا کہ تمام تجارتی اور فیول گزرگاہیں فوری کھولی جائیں کیونکہ اسی کاروبار سے ہمارے بچے پلتے اور تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ تاجر برادری کو تنگ کرنے کے بجائے انہیں سہولیات فراہم کی جائیں جبکہ تاجروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ تاجر برادری عدم تحفظ کا شکار ہے، راستے غیر محفوظ اور عوام غیر محفوظ ہیں لہٰذا مبینہ غیر قانونی ٹیکسوں کا خاتمہ کیا جائے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ پنجگور، واشک اور دیگر علاقوں کے بارڈر محفوظ ہوسکتے ہیں تو ضلع کیچ کا بارڈر غیر محفوظ کیوں ہے؟
فدا جان بلیدی نے کہا کہ عوامی مسائل سے لاتعلقی دراصل عوام سے راہِ فرار اختیار کرنے کے مترادف ہے جب کہ جالگی اور عبدوئی بارڈر فوری طور پر کھولے جائیں۔
جماعت اسلامی کے صوبائی رہنما واجہ غلام یاسین بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فورسز کا بنیادی کام عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے لیکن بدقسمتی سے یہاں سیکیورٹی کے نام پر راستے گھنٹوں بند کیے جاتے ہیں اور عوام کو خوار کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ سیاسی جدوجہد کے راستے مسدود کرنے کے منفی نتائج برآمد ہوں گے ۔
انہوں نے کہا کہ یہ لوگ آئین اور قانون کو ماننے والے ہیں پھر ان سے کیا خطرہ ہے؟ اگر امن و امان چاہتے ہیں تو اپنا رویہ تبدیل کریں، کیونکہ موجودہ رویے کے ساتھ امن و امان کا قیام ممکن نہیں۔
غلام یاسین بلوچ نے کہا کہ ہم شریف، پرامن اور جمہوری لوگ ہیں اور جمہوری سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ ہمارا مقصد امن و امان کی بحالی اور روزگار کی فراہمی کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہر میں بدامنی عروج پر ہے، عوام کے جان و مال محفوظ نہیں، تاہم آل پارٹیز کیچ نے جو احتجاجی جدوجہد شروع کی ہے اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
بی این پی عوامی کے مرکزی نائب صدر کامریڈ ظریف زدگ بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاء اینڈ فورسز کے اداروں کی ذمہ داری عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فارم 47 کے پیداوار سے عوام پہلے ہی لاتعلق ہیں اور احتجاج سے لاتعلقی کا اعلان کرکے وہ اپنے آقاؤں کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔
ظریف زدگ نے الزام عائد کیا کہ بارڈر پر فنسنگ کا کام ان لوگوں کے دور میں ہوا جو آج وزارتوں کے مزے لے رہے ہیں جب کہ دوسری جانب دکانداروں کو مبینہ طور پر بھتے کی پرچیاں مل رہی ہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ ہندوستان کی سرحدوں پر کاروبار کی اجازت ہے مگر بلوچستان کی سرحدوں سے کاروبار کی اجازت نہیں، یہ کون سا انصاف ہے؟
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، بدامنی اور بارڈر کاروبار کی بندش میں وہی قوتیں ملوث ہیں جو آج جعلی نمائندوں کی شکل میں اپنے آقاؤں کو خوش کرنے میں مصروف ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دشت سے لے کر ہوشاپ تک مبینہ بھتہ خوری آزادانہ طور پر جاری ہے۔
ظریف زدگ نے کہا کہ آپسر اور شاد آباد میں گھروں اور دکانوں کو لوٹا گیا جبکہ احتجاج کے دوران پروفیسر ڈاکٹر غفور شاد کے گھر پر حملہ کیا گیا جو انتہائی افسوسناک ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ آل پارٹیز کیچ یہ تحریک یہاں نہیں روکے گی، مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو شٹر ڈاؤن ہڑتال، احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔
ایڈووکیٹ مشکور انور بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈرو اس دن سے جب ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور سردار اختر جان مینگل پارلیمانی سیاست سے دستبرداری کا اعلان کریں
انہوں نے کہا کہ کیچ ایک سیاسی، سماجی اور باشعور معاشرہ ہے، یہاں کے عوام کا گلا دبا کر انہیں خاموش نہیں کرایا جاسکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام کے جان و مال اور معاشی تحفظ کی ضمانت ریاست کے آئین اور قانون نے دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برس سے بارڈر بند ہیں، چودہ لاکھ آبادی والے ضلع کے پاس بارڈر کے علاوہ کون سا معاشی ذریعہ ہے؟ بارڈر ہمارے لیے مرگ و زیست کا مسئلہ ہے۔
مشکور انور نے الزام عائد کیا کہ سرکاری مسلح جتھوں نے عوام کو یرغمال بنا رکھا ہے اور شریف النفس شہریوں کو مسلح جتھوں کے ہاتھوں یرغمال بنانے سے گریز کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ کیچ پر ایسے نمائندے مسلط کیے گئے ہیں جو عوام سے یکسر لاتعلق ہیں۔ عوام کو آزادانہ انتخابات، آزادانہ کاروبار اور روزگار کا حق دیا جائے، بصورت دیگر عوام احتجاج اور جمہوری مزاحمت کا راستہ اختیار کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ آج کے احتجاج نے ثابت کردیا ہے کہ عوام نے غیر سیاسی قوتوں کو مسترد کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سڑکیں بند کی جاتی ہیں، مریضوں کو مشکلات اور تذلیل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، حالانکہ عوام کا تحفظ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔
مشکور انور نے سیکیورٹی اداروں سے مخاطب ہوکر کہا کہ آپ عوام کے ملازم ہیں، مالک نہ بنیں۔ سرحدوں کی حفاظت کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ خدا اور رسول کے نام پر ملک کے ساتھ دشمنی نہ کریں؛ آپ کا موجودہ رویہ عوام دشمن رویہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج کسی ایک پارٹی یا فرد کا احتجاج نہیں بلکہ مفلوک الحال عوام کا احتجاج ہے، جس میں تاجر، مزدور، طلبہ اور معاشرے کے تمام طبقات شامل ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ فیول اور اشیائے خوردونوش کی سرحدی گزرگاہوں کی بندش اور مبینہ غیر ضروری ٹیکس کسی صورت قبول نہیں۔
جلسے سے بی ایس او پجار کے چیئرمین بوہیر صالح، جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا جاوید نعمانی، آل مکران تاجر اتحاد کے چیئرمین حاجی اسحاق روشن دشتی، سابق سینیٹر اسماعیل بلیدی، تربت سول سوسائٹی کے کنوینر گلزار دوست، بارڈر نمائندہ معتبر شیرجان، انجمن تاجران کیچ کے نثار احمد جوسکی اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔
مقررین نے تربت میں بدامنی، چوری، ڈکیتی، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری اور بارڈر پوائنٹس کی بندش پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آل پارٹیز کیچ کے پلیٹ فارم کو مزید منظم کرنے اور سیاسی جدوجہد تیز کرنے کا اعلان کیا۔
مقررین نے آل پارٹیز کیچ کے تین بنیادی مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ
1. ضلع کیچ میں امن و امان فوری طور پر بحال کیا جائے۔
2. سرحدی کاروبار اور تمام تجارتی و فیول گزرگاہیں کھولی جائیں۔
3. سیکیورٹی کے نام پر سڑکوں، دکانوں، عدالتوں اور ہسپتالوں کی بندش کا سلسلہ ختم کیا جائے۔
مقررین نے سیاسی آزادیوں کے حوالے سے بھی سخت موقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں‘‘ کا نعرہ لگانے والے کو صدر بنایا جاتا ہے، ’’جاگ پنجابی جاگ‘‘ کا نعرہ لگانے والے کو ملک کا وزیراعظم بنایا جاتا ہے لیکن بلوچ گلزمین کا نام لینے پر پابندی عائد ہے۔
مقررین نے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ، بی این پی اور بلوچستان نیشنل الائنس کے بعض نمائندوں کی جانب سے عوامی مسائل پر احتجاج سے لاتعلقی اختیار کرنے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ جو لوگ فون کالز پر اپنا قبلہ تبدیل کرتے ہیں، انہیں عوام کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔
جلسے کے اختتام پر آل پارٹیز کیچ کے کنوینر یونس جاوید نے احتجاج میں شریک سیاسی جماعتوں، تاجر برادری، سول سوسائٹی، طلبہ، مزدوروں اور عام شہریوں کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آل پارٹیز کیچ کی جدوجہد یہاں ختم نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ آج کا جلسہ احتجاجی تحریک کا اختتام نہیں بلکہ آغاز ہے۔ اگر عوام کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو آل پارٹیز کیچ احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کرے گی اور شٹر ڈاؤن ہڑتال، دھرنوں اور دیگر جمہوری احتجاجی اقدامات کی جانب جائے گی۔
آل پارٹیز کیچ کے رہنماؤں نے واضح کیا کہ کیچ کے عوام بدامنی، معاشی گھٹن، بارڈر بندش، سڑکوں کی بندش اور عدم تحفظ کی موجودہ صورتحال کو مزید برداشت نہیں کریں گے اور اپنے حقوق کے لیے جمہوری و سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔






