2

محکمہ صحت بلوچستان اور یونیورسٹی آف اوسلو کے درمیان ڈیجیٹل ہیلتھ کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

محکمہ صحت بلوچستان اور یونیورسٹی آف اوسلو کے درمیان ڈیجیٹل ہیلتھ کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

کوئٹہ: محکمہ صحت، حکومتِ بلوچستان اور ناروے کی ممتاز یونیورسٹی آف اوسلو کے HISP سینٹر کے درمیان بلوچستان میں ڈیجیٹل ہیلتھ نظام کو مزید مستحکم بنانے، DHIS2 کے مؤثر نفاذ، مقامی اختراعات، تحقیق اور تکنیکی استعداد کار کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔

مفاہمتی یادداشت پر بلوچستان ہیلتھ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (BHMIS/DHIS2) کی جانب سے صوبائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر ابابگر بلوچ جبکہ یونیورسٹی آف اوسلو کے HISP سینٹر کی جانب سے پروفیسر ڈاکٹر کرسٹن برا نے دستخط کیے۔ یہ مفاہمتی یادداشت سیکرٹری صحت بلوچستان سید مجیب الرحمٰن کی موجودگی اور نگرانی میں طے پائی۔

تقریب میں یونیسیف بلوچستان کی جانب سے ڈاکٹر عامر، بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر احمد ولی اور ہیلتھ سروسز ریفارمز یونٹ (HSRU) بلوچستان کے ڈاکٹر شاہکو مینگل بھی موجود تھے۔

بلوچستان میں DHIS2 کے نفاذ، رپورٹنگ کمپلائنس میں بہتری اور نظام کو فعال و مؤثر بنانے میں یونیسیف پاکستان کا تعاون بنیادی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ یونیسیف پاکستان نے متعلقہ عملے کی تربیت، ضروری آلات کی فراہمی، عملی نفاذ، مسلسل تکنیکی معاونت اور فیڈبیک کی بنیاد پر نظام میں بہتری کے لیے بھرپور تعاون فراہم کیا۔ اسی طرح HISP پاکستان نے یونیسیف کے تعاون سے DHIS2 کی تکنیکی تشکیل، مقامی ضروریات سے ہم آہنگی اور صوبے بھر میں اس کے مؤثر نفاذ میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں بلوچستان میں ڈیجیٹل ہیلتھ انفارمیشن سسٹم کو مضبوط بنانے اور ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کو فروغ دینے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔

مفاہمتی یادداشت کا بنیادی مقصد محکمہ صحت بلوچستان اور یونیورسٹی آف اوسلو کے درمیان علمی، تحقیقی اور عملی تعاون کو فروغ دینا، جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے صحت کے نظام کو بہتر بنانا اور دونوں اداروں کے تجربات اور مہارت سے باہمی استفادہ کرنا ہے۔

معاہدے کے تحت بلوچستان میں DHIS2 کے نفاذ کو مزید وسعت دی جائے گی، جبکہ پرائمری ہیلتھ کیئر کی ڈیجیٹلائزیشن، موسمیاتی تبدیلی اور صحت، اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں مقامی اختراعات کو فروغ دیا جائے گا۔ محکمہ صحت بلوچستان کے اندر ایک مضبوط اور پائیدار DHIS2 کور ٹیم کا قیام اور متعلقہ افسران و تکنیکی عملے کی استعداد کار میں اضافہ بھی تعاون کے اہم نکات میں شامل ہے۔

دونوں ادارے DHIS2 سے متعلق تجربات، کامیاب عملی ماڈلز اور مقامی اختراعات کا باہمی تبادلہ کریں گے۔ بلوچستان میں متعارف کرائے گئے مؤثر اقدامات اور حاصل ہونے والے تجربات کو عالمی DHIS2 کمیونٹی تک پہنچایا جائے گا اور انہیں DHIS2 ایشیا کانفرنس، اوسلو میں منعقد ہونے والی DHIS2 سالانہ کانفرنس اور دیگر متعلقہ بین الاقوامی فورمز پر پیش کیا جائے گا۔

مفاہمتی یادداشت کے تحت باہمی مطالعاتی دوروں، تکنیکی اجلاسوں، مشترکہ تحقیق، علمی مطبوعات اور مشترکہ دلچسپی کے دیگر مواد کے تبادلے کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ دونوں ادارے مشترکہ سرگرمیوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے لیے رابطہ کار نامزد کریں گے۔ یونیورسٹی آف اوسلو کی جانب سے اولاو پوپے جبکہ محکمہ صحت بلوچستان کی جانب سے ڈاکٹر ابابگر بلوچ مشترکہ سرگرمیوں کی پیش رفت اور انتظام کی ذمہ داری انجام دیں گے۔

معاہدے کے مقاصد کے حصول کے لیے دستیاب انسانی اور مالی وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے مخصوص پروگرام، منصوبے اور تعاون کے مزید معاہدے تشکیل دیے جائیں گے، جبکہ مفاہمتی یادداشت کے دائرۂ کار میں دونوں فریق نئی مشترکہ سرگرمیوں کی تجاویز بھی پیش کر سکیں گے۔

اس موقع پر یونیورسٹی آف اوسلو کے نمائندوں نے محکمہ صحت، حکومتِ بلوچستان کے ڈیجیٹلائزیشن اقدامات کو مثالی قرار دیتے ہوئے BHMIS ٹیم کی جانب سے DHIS2 کے نفاذ، رپورٹنگ کمپلائنس، ڈیٹا کے استعمال اور نظام کی بہتری کے لیے کیے گئے کام کو سراہا۔

یونیورسٹی آف اوسلو کی جانب سے توقع ظاہر کی گئی کہ بلوچستان کا ڈیجیٹل ہیلتھ ماڈل نہ صرف پاکستان کے دیگر صوبوں اور اداروں کے لیے قابلِ تقلید ثابت ہوگا بلکہ DHIS2 کے مؤثر استعمال، شراکت داری اور مقامی اختراعات کے حوالے سے عالمی سطح پر بھی ایک نمایاں مثال بن کر سامنے آئے گا۔

سیکرٹری صحت بلوچستان سید مجیب الرحمٰن نے اس پیش رفت کو صوبے کے نظامِ صحت کی ڈیجیٹل تبدیلی میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی علمی و تکنیکی تعاون اور ترقیاتی شراکت داروں کی معاونت سے صحت سے متعلق معلومات کے معیار، شواہد پر مبنی فیصلہ سازی، نگرانی، جواب دہی اور عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔

انہوں نے BHMIS ٹیم کی کارکردگی کے ساتھ یونیسیف پاکستان اور HISP پاکستان کے تعاون کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں جدید، مربوط اور ڈیٹا پر مبنی نظامِ صحت کے قیام کے لیے اصلاحات کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔

کوئٹہ: محکمہ صحت، حکومتِ بلوچستان اور ناروے کی ممتاز یونیورسٹی آف اوسلو کے HISP سینٹر کے درمیان بلوچستان میں ڈیجیٹل ہیلتھ نظام کو مزید مستحکم بنانے، DHIS2 کے مؤثر نفاذ، مقامی اختراعات، تحقیق اور تکنیکی استعداد کار کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔

مفاہمتی یادداشت پر بلوچستان ہیلتھ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (BHMIS/DHIS2) کی جانب سے صوبائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر ابابگر بلوچ جبکہ یونیورسٹی آف اوسلو کے HISP سینٹر کی جانب سے پروفیسر ڈاکٹر کرسٹن برا نے دستخط کیے۔ یہ مفاہمتی یادداشت سیکرٹری صحت بلوچستان سید مجیب الرحمٰن کی موجودگی اور نگرانی میں طے پائی۔

تقریب میں یونیسیف بلوچستان کی جانب سے ڈاکٹر عامر، بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر احمد ولی اور ہیلتھ سروسز ریفارمز یونٹ (HSRU) بلوچستان کے ڈاکٹر شاہکو مینگل بھی موجود تھے۔

بلوچستان میں DHIS2 کے نفاذ، رپورٹنگ کمپلائنس میں بہتری اور نظام کو فعال و مؤثر بنانے میں یونیسیف پاکستان کا تعاون بنیادی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ یونیسیف پاکستان نے متعلقہ عملے کی تربیت، ضروری آلات کی فراہمی، عملی نفاذ، مسلسل تکنیکی معاونت اور فیڈبیک کی بنیاد پر نظام میں بہتری کے لیے بھرپور تعاون فراہم کیا۔ اسی طرح HISP پاکستان نے یونیسیف کے تعاون سے DHIS2 کی تکنیکی تشکیل، مقامی ضروریات سے ہم آہنگی اور صوبے بھر میں اس کے مؤثر نفاذ میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں بلوچستان میں ڈیجیٹل ہیلتھ انفارمیشن سسٹم کو مضبوط بنانے اور ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کو فروغ دینے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔

مفاہمتی یادداشت کا بنیادی مقصد محکمہ صحت بلوچستان اور یونیورسٹی آف اوسلو کے درمیان علمی، تحقیقی اور عملی تعاون کو فروغ دینا، جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے صحت کے نظام کو بہتر بنانا اور دونوں اداروں کے تجربات اور مہارت سے باہمی استفادہ کرنا ہے۔

معاہدے کے تحت بلوچستان میں DHIS2 کے نفاذ کو مزید وسعت دی جائے گی، جبکہ پرائمری ہیلتھ کیئر کی ڈیجیٹلائزیشن، موسمیاتی تبدیلی اور صحت، اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں مقامی اختراعات کو فروغ دیا جائے گا۔ محکمہ صحت بلوچستان کے اندر ایک مضبوط اور پائیدار DHIS2 کور ٹیم کا قیام اور متعلقہ افسران و تکنیکی عملے کی استعداد کار میں اضافہ بھی تعاون کے اہم نکات میں شامل ہے۔

دونوں ادارے DHIS2 سے متعلق تجربات، کامیاب عملی ماڈلز اور مقامی اختراعات کا باہمی تبادلہ کریں گے۔ بلوچستان میں متعارف کرائے گئے مؤثر اقدامات اور حاصل ہونے والے تجربات کو عالمی DHIS2 کمیونٹی تک پہنچایا جائے گا اور انہیں DHIS2 ایشیا کانفرنس، اوسلو میں منعقد ہونے والی DHIS2 سالانہ کانفرنس اور دیگر متعلقہ بین الاقوامی فورمز پر پیش کیا جائے گا۔

مفاہمتی یادداشت کے تحت باہمی مطالعاتی دوروں، تکنیکی اجلاسوں، مشترکہ تحقیق، علمی مطبوعات اور مشترکہ دلچسپی کے دیگر مواد کے تبادلے کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ دونوں ادارے مشترکہ سرگرمیوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے لیے رابطہ کار نامزد کریں گے۔ یونیورسٹی آف اوسلو کی جانب سے اولاو پوپے جبکہ محکمہ صحت بلوچستان کی جانب سے ڈاکٹر ابابگر بلوچ مشترکہ سرگرمیوں کی پیش رفت اور انتظام کی ذمہ داری انجام دیں گے۔

معاہدے کے مقاصد کے حصول کے لیے دستیاب انسانی اور مالی وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے مخصوص پروگرام، منصوبے اور تعاون کے مزید معاہدے تشکیل دیے جائیں گے، جبکہ مفاہمتی یادداشت کے دائرۂ کار میں دونوں فریق نئی مشترکہ سرگرمیوں کی تجاویز بھی پیش کر سکیں گے۔

اس موقع پر یونیورسٹی آف اوسلو کے نمائندوں نے محکمہ صحت، حکومتِ بلوچستان کے ڈیجیٹلائزیشن اقدامات کو مثالی قرار دیتے ہوئے BHMIS ٹیم کی جانب سے DHIS2 کے نفاذ، رپورٹنگ کمپلائنس، ڈیٹا کے استعمال اور نظام کی بہتری کے لیے کیے گئے کام کو سراہا۔

یونیورسٹی آف اوسلو کی جانب سے توقع ظاہر کی گئی کہ بلوچستان کا ڈیجیٹل ہیلتھ ماڈل نہ صرف پاکستان کے دیگر صوبوں اور اداروں کے لیے قابلِ تقلید ثابت ہوگا بلکہ DHIS2 کے مؤثر استعمال، شراکت داری اور مقامی اختراعات کے حوالے سے عالمی سطح پر بھی ایک نمایاں مثال بن کر سامنے آئے گا۔

سیکرٹری صحت بلوچستان سید مجیب الرحمٰن نے اس پیش رفت کو صوبے کے نظامِ صحت کی ڈیجیٹل تبدیلی میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی علمی و تکنیکی تعاون اور ترقیاتی شراکت داروں کی معاونت سے صحت سے متعلق معلومات کے معیار، شواہد پر مبنی فیصلہ سازی، نگرانی، جواب دہی اور عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔

انہوں نے BHMIS ٹیم کی کارکردگی کے ساتھ یونیسیف پاکستان اور HISP پاکستان کے تعاون کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں جدید، مربوط اور ڈیٹا پر مبنی نظامِ صحت کے قیام کے لیے اصلاحات کا عمل تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں