
(محمد عیسیٰ ) سوئی کی لو بی ٹی یو گیس کو صنعتی استعمال کے قابل بنا کر بلوچستان میں صنعتی ترقی کا راستہ کھولا جائےگا۔ حکومت بلوچستان اور وزارتِ پیٹرولیم نے لو بی ٹی یو گیس کو مؤثر اور کارآمد بنانے کیلئے ریگولیٹری اور ادارہ جاتی فریم ورک کی تشکیل کے لیے وزارتِ پیٹرولیم اور حکومت بلوچستان کے نمائندوں پر مشتمل ورکنگ گروپ تشکیل دے دیا ۔
وزارت پٹرولیم اور حکومت بلوچستان نے فیصلہ کیا ہے کہ لو بی ٹی یو گیس کو مونیٹائز کرنے کے لیے جولائی کے اختتام تک جامع تجاویز پر مشتمل فریم ورک تیار کیا جائے گا۔ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی اور وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت اہم اجلاس میں کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی فنڈز مقامی آبادی کی فلاح و بہبود اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرنے پر اتفاق ہوا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ سوئی بلوچستان میں دستیاب لو بی ٹی یو گیس کو سستی بجلی، فرٹیلائزر اور دوسرے شعبوں کے لئے تجارتی بنیادوں پر قابلِ استعمال بنایا جائے گا۔
وزارتِ پیٹرولیم، اوگرا فیلڈ ڈویلپمنٹ اور اوگرا ٹرانسپورٹ لائسنس کے اجرا پر آمادہ ہیں۔
وزارت پیٹرولیم کی جانب سے بلوچستان کو تھرڈ پارٹی کمپنی کے ذریعے ایکویٹی حاصل کرنے کی پیشکش کی گئی ہے۔
پٹرولیم کے وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے کہا کہ بلوچستان کی حکومت جو فیصلہ کرے گی ،وفاقی حکومت اس سے مکمل تعاون کرے گی۔
یہ بھی پرھیں: تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی، عالمی منڈی میں چار ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا
علی پرویز ملک نے کہا، بلوچستان کے وسائل کا فائدہ مقامی افراد تک پہنچانا ہماری اولین ترجیح ہے۔
اس اجلاس میں علی پرویز ملک نے کلچاس ڈرلنگ اور زنک ہیڈ منصوبے کو فعال بنانے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت بھی کر دی۔
بلوچستان کی معاشی ترقی ،صنعتی ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں کھولیں گے، سرفراز بگٹی
وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے اجلاس میں کہا، لو بی ٹی یو گیس کو قابلِ استعمال بنا کر بلوچستان کی معاشی ترقی ،صنعتی ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں کھولی جائیں گی۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا، سوئی سمیت ایسٹ اور ویسٹ ڈیرہ بگٹی میں لو بی ٹی یو گیس سے صنعتی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا، بلوچستان کے قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والے ثمرات سب سے پہلے مقامی آبادی تک پہنچانا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا، لو بی ٹی یو گیس منصوبہ توانائی، روزگار اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ حکومت بلوچستان وسائل کی مؤثر مونیٹائزیشن کے ذریعے صوبے کی معاشی خودمختاری کو مضبوط بنائے گی۔
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وفاق اور صوبے کے درمیان مؤثر تعاون سے بلوچستان میں صنعتی، اقتصادی اور سماجی ترقی کی رفتار مزید تیز ہوگی۔
ریاستِ پاکستان اور بلوچستان کے عوام کے وسیع تر مفاد میں اجتماعی ترقیاتی منصوبوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
یہ بھی پرھیں: ایران کے فیفا ورلڈ کپ میں 32 کے راؤنڈ میں پہنچنے کا راستہ؛ مصر اور بیلجئیم کیلئے امکانات کیا ہیں؟






