7

بلوچستان کا 1089ارب روپے کاسرپلس بجٹ پیش, تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ، 5 ہزار نئی آسامیاں منظور

(24نیوز)بلوچستان اسمبلی کا بجٹ اجلاس شروع ہوگیا، صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی آئندہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کر رہے ہیں۔

بجٹ تقریر کے دوران شعیب نوشیروانی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی قیادت میں حکومت کا ایک اور وعدہ پورا ہوا ہے،انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال مختص شدہ ترقیاتی فنڈ کا 115 فیصد حصہ استعمال کیا گیا جو صوبے کی تاریخ میں بلند ترین استعمال شدہ فنڈ ہے۔

صوبائی وزیر خزانہ کے مطابق آئندہ مالی سال 2026-27 کا کل بجٹ حجم 1089.26 ارب روپے ہے جبکہ کل آمدن کا تخمینہ 1134.92 ارب روپے لگایا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ بجٹ سرپلس ہے اور کل محصولات و اخراجات میں 45.66 ارب روپے کا مثبت فرق رکھا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وفاقی ٹرانسفرز کی مد میں 800.13 ارب روپے وصول ہونے کا تخمینہ ہے جبکہ صوبے کی اپنی محصولات کا ہدف 170.09 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے،فارن فنڈڈ پراجیکٹس کے لیے 65.34 ارب روپے اور پراجیکٹ فنانسنگ و کیپٹل ریسیپٹس کے لیے 68.75 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، کیش کیری فارورڈ کی مد میں 30.61 ارب روپے شامل ہیں۔

شعیب نوشیروانی نے کہا کہ جاری اخراجات کے لیے 797.82 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ فارن فنڈڈ منصوبوں پر 40.38 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے،وفاقی ترقیاتی منصوبوں کے لیے 44.56 ارب روپے اور صوبائی پی ایس ڈی پی کا حجم 206.61 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے،آئندہ مالی سال کا سرپلس بجٹ مالی نظم و ضبط کی عکاسی کرتا ہے اور آمدن و اخراجات میں 45.66 ارب روپے کا مثبت فرق برقرار رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

بجٹ میں صحت کے شعبے کے لیے 96 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے  جن میں 6 ارب روپے ترقیاتی اور 90 ارب روپے غیر ترقیاتی فنڈز شامل ہیں، محکمہ  سکول ایجوکیشن کے لیے 127 ارب روپے جبکہ ہائیر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن کے لیے 31 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

زراعت کے شعبے کے لیے 23.6 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جبکہ امن و امان کے شعبے میں ترقیاتی فنڈ کے لیے 243 ملین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 1.2 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ تعلیمی خدمات پر زیرو سیلز ٹیکس مقرر کردیا گیا ہے،رئیل سٹیٹ کے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے جائیداد کی منتقلی پر عائد کیپٹل ویلیو ٹیکس اور اسٹامپ ڈیوٹی کی شرح 2 فیصد سے کم کرکے 1 فیصد کردی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان ایجوکیشن سپورٹ فنڈ کے ذریعے مستحق طلبہ کی معاونت کے لیے 2.82 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے لیے 1.5 ارب روپے مزید اضافہ کیا گیا ہے۔

شعیب نوشیروانی نے کہا کہ خواتین کی معاشی خودمختاری کو فروغ دینے کے لیے بلاسود قرضے فراہم کیے جائیں گے جبکہ شہید بینظیر بھٹو  سکالرشپ کے لیے 54 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی غرض سے مختلف سرکاری محکموں میں 5 ہزار نئی آسامیاں تخلیق کی جائیں گی۔

صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ مالی مشکلات کے باوجود وفاق کی طرز پر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کردیا گیا ہے،انہوں نے واضح کیا کہ یہ ٹیکس فری بجٹ ہے اور اس میں کوئی نیا ٹیکس نافذ نہیں کیا گیا۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ کا کل حجم 1 ہزار 134 ارب 92 کروڑ روپے ہے جبکہ غیر ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 797 ارب 80 کروڑ روپے اور ترقیاتی بجٹ کا تخمینہ 291 ارب 55 کروڑ روپے ہے۔

دستاویزات کے مطابق ترقیاتی بجٹ میں وفاقی ترقیاتی منصوبوں کے 44 ارب 55 کروڑ روپے شامل ہیں۔ این ایف سی ایوارڈ کے تحت بلوچستان کو وفاقی محاصل سے 834 ارب 44 کروڑ روپے ملنے کا اندازہ ہے جبکہ صوبے کے اپنے وسائل سے آمدنی کا تخمینہ 170 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے مجموعی اخراجات کا تخمینہ 1 ہزار 89 ارب 36 کروڑ روپے ہے جبکہ 45 ارب 56 کروڑ روپے کا سرپلس ظاہر کیا گیا ہے۔

شعبہ وار مختص فنڈز کے مطابق تعلیم کے لیے 157 ارب 28 کروڑ روپے، امن و امان کے لیے 107 ارب 92 کروڑ روپے، صحت کے لیے 73 ارب 99 کروڑ روپے، سماجی تحفظ کے لیے 15 ارب 13 کروڑ روپے اور کھیل و تفریحی سرگرمیوں کے لیے 8 ارب 54 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :  ملکی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے نکل کر سرپلس میں آ گیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں