
(24نیوز)سابق صوبائی وزیر بلدیات ابراہیم مراد نے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور انتظامی تقاضوں کے مطابق نئے صوبوں کا قیام وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے، بڑے جغرافیائی علاقوں کو ایک ہی مرکز سے مؤثر انداز میں چلانا عوامی مسائل کے فوری حل میں رکاوٹ بنتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 571 کلومیٹر دور واقع راجن پور جیسے علاقوں کی مؤثر گورننس لاہور سے ممکن نہیں، اسی طرح لاہور سے ساڑھے پانچ گھنٹے کی مسافت پر واقع مری جیسے دور دراز علاقوں کی انتظامی نگرانی بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
ابراہیم مراد نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں انتظامی سہولت کے لیے زیادہ تعداد میں ریاستیں اور صوبے قائم کیے گئے ہیں، امریکہ میں تقریباً 32 کروڑ آبادی کے لیے 50 ریاستیں جبکہ ایران میں تقریباً 9 کروڑ آبادی کے لیے 31 صوبے موجود ہیں، جو بہتر انتظامی تقسیم کی مثالیں ہیں۔
انہوں نے تجویز دی کہ ڈویژنز کو صوبوں کا درجہ دینے سے عوامی مسائل کے مؤثر حل، بہتر نگرانی اور تیز رفتار ترقی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، ان کے مطابق نئے انتظامی یونٹس سے وسائل اور بجٹ کی منصفانہ تقسیم، معاشی توازن اور عوامی نمائندگی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر میں عوامی مینڈیٹ سے ن لیگ کی حکومت قائم ہوگی:رانا ثناء اللہ
سابق صوبائی وزیر نے کہا کہ چھوٹے اور مؤثر انتظامی یونٹس کرپشن میں کمی، حکومتی کارکردگی میں بہتری اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں، متوازن انتظامی ڈھانچہ قومی اتحاد اور مؤثر حکمرانی کو مزید مضبوط کرے گا۔
ابراہیم مراد نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد میں نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر متفقہ لائحۂ عمل اختیار کریں، انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی قوتیں ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر اس قومی چیلنج کا پائیدار حل تلاش کر سکتی ہیں۔






