9

میر رضا کے خون میں جسم کو سن کرنے والی دوا کیوں موجود تھی؟ نئے شواہد سامنے آ گئے

(24نیوز)  کراچی میں 25 سالہ نوجوان میر رضا علی میر کی موت کے معاملے میں ڈی این اے اور کیمیائی تجزیے کی نئی رپورٹس میں مقتول کی شناخت کی تصدیق کے ساتھ اس نوجوان کی موت کے حالات سے متعلق اہم شواہد سامنے آئے ہیں۔
سندھ فورینزک لیبارٹری کی رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کی ہنسلی کی ہڈی سے حاصل کیا گیا ڈی این اے ان کے والدین کے خون کے نمونوں سے مکمل طور پر مطابقت رکھتا ہے جس سے مقتول کی شناخت کی تصدیق ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جائے وقوعہ سے ملنے والے گملے کے ٹکڑے اور پلاسٹک کی تھیلی سے حاصل کیے گئے انسانی خون کے نمونے بھی ڈی این اے ٹیسٹ میں میر رضا علی کے قرار دیے گئے ہیں۔
میر رضا علی 28 جولائی کو لاپتہ ہوئے تھے اور اگلے روز ان کی لاش کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے ملی تھی۔ مقتول میر رضا کے لواحقین کا ابتدا سے ہی مؤقف رہا ہے کہ انھیں اغوا کرنے کے بعد تشدد کر کے قتل کیا گیا۔
کراچی پولیس ابتدائی طور پر اس تناظر میں تحقیقات کر رہی تھی کہ میر رضا نے خودکشی کی تاہم اہلخانہ کے اصرار اور پولیس سرجن کی جانب سے ابتدائی پوسٹ مارٹم  کے غلط ہونے کے الزامات کے بعد قبر کشائی کے بعد مقتول کا دوسری بار پوسٹ مارٹم کیا گیا جس میں سامنے آنے والی چوٹوں کی تفصیلات کے بعد خودکشی کا امکان مسترد کرتے ہوئے مقدمے میں قتل کی دفعہ شامل کر دی گئی ہے تاہم دو ہفتے کا وقت گزر جانے کے باوجود پولیس نے تاحال کسی فرد کو اس معاملے میں گرفتار نہیں کیا ہے۔

قمیض کا تجزیہ: گولی داخل ہونے کا سوراخ سات ملی میٹر، گولی نکلنے کا سوراخ پانچ گنا بڑا

اسی معاملے میں انڈسٹریل اینالیٹیکل سینٹر کی کیمیکل اور ہتھیاروں سے متعلق رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کی قمیض کے معائنے سے گولی لگنے کے اہم شواہد ملے ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق قمیض کے پچھلے حصے میں گولی داخل ہونے کا سوراخ تقریباً 6.99 ملی میٹر جبکہ سامنے کی جانب گولی نکلنے کا سوراخ تقریباً 35.37 ملی میٹر ہے۔
قمیض پر کیے گئے جدید الیکٹران مائکروسکوپی ٹیسٹ میں گولی چلنے کے بعد باقی رہنے والے بارود کے اجزا، جن میں لیڈ اور بیریم شامل ہیں، بھی پائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بارود کے ذرات زیادہ مقدار میں قمیض کے پچھلے حصے پر موجود تھے۔

 خون میں جسم کو سن کرنے والی دوا کی موجودگی کی تصدیق
کیمیکل رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کے خون کے نمونے میں جسم کو سن کرنے والی دوا ’بیوپیواکین‘ کے اثرات بھی پائے گئے ہیں جبکہ ان کی قمیض پر تیزاب کے اثرات کی بھی نشاندہی ہوئی ہے۔
تاہم رپورٹ کے مطابق مقتول کے معدے، پھیپھڑوں، جگر، گردے اور تلی کے نمونوں کے تجزیے میں کسی دوسرے زہریلے یا نشہ آور مادے کی موجودگی کے ثبوت نہیں ملے۔
 سندھ پولیس کے آئی جی جاوید عالم اوڈھو   نے سندھ بار کونسل میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ اس معاملے میں ’یقیناً کوتاہیاں ہوئی ہیں۔ میڈیکو لیگل محکمے سے بھی کوتاہیاں ہوئی ہیں۔ میڈیکولیگل آفیسر نے جو بتایا پولیس اس طرف گئی اب جو میڈیکل بورڈ کے نتائج آئے ہیں اس روشنی میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحقیقات کے حوالے سے پولیس پر ’نہ پہلے کوئی دباؤ تھا، نہ اب ہے۔‘

یہ بھی پڑھیں: جنوبی پنجاب میں  آئندہ تین سے پانچ گھنٹوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان 

پولیس کے ایک ایس ایچ کو کو معطل کیا جا چکا ہے اور اس میڈیکل افسر کو بھی عہدہ سے ہتا دیا گیا ہے جن کی ابتدائی تفتیش اور پہلے پورٹمارٹم کی میڈیکولیگل رپورٹ میں سنگین  خرابیاں سامنے آئیں۔ لیکن ان دونوں سے اب تک مناسب تفتیش کر کے یہ معلوم نہین کیا گیا کہ انہوں نے فاش غلط بیانیاں کس وجہ سے کیں۔

شرجیل انعام میمن اپنے خلاف پروپیگنڈا کی شکایت لے کر سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کے پاس چلے گئے

 سوشل میڈیا پر میر رضا علی کی لاش ملنے کے بعد سے ان کی موت کی وجوہات اور ذمہ داران کے بارے میں بحث شروع ہو گئی تھی۔ اس بحث کے بعد سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے اپنے اور اپنے بیٹے راول میمن کے خلاف سوشل میڈیا پر چلنے والی مبینہ مہم کے خلاف این سی سی آئی اے سے شکایت کی تھی۔
یہ شکایت ان کی جانب سے وکلا کے ذریعے کراچی کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر میں جمع کرائی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے شرجیل میمن اور ان کے خاندان کے بارے میں ایسی پوسٹیں اور ویڈیوز شیئر کی گئیں جن میں جھوٹے دعوے کیے گئے۔
شرجیل میمن کی شکایت کے مطابق نو اگست کو فیس بک کے بعض پیجز اور گروپس کے پیجز پر ایسی پوسٹس شیئر کی گئیں جن میں گلستانِ جوہر کے اس گیسٹ ہاؤس کو، جہاں مبینہ طور پر میر رضا علی کی موت کا واقعہ پیش آیا، شرجیل میمن کی ملکیت قرار دینے کی کوشش کی گئی اور یہ بھی کہا گیا کہ اس واقعے کے بعد شرجیل میمن کے بیٹے راول میمن اپنے سکیورٹی گارڈ کے ساتھ لندن چلے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  میر رضاعلی کیس میں اہم پیش رفت،ڈرائیور کا بیان سامنے آگیا 
شرجیل میمن نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا  کہ  خود ان کا یا ان کے بیٹے کا  اس گیسٹ ہاؤس، میر رضا علی کے قتل یا اس واقعے میں ملوث افراد سے کوئی تعلق نہیں۔
گلستان جوہر میں جس مقام سے میر رضا کی لاش ملی تھی اس کے قریب ایک گیسٹ ہاؤس واقع ہے۔ میر رضا کے والد نے ایک میڈیا آؤٹ لیٹ کے ساتھ گفتگو میں کہا تھا  کہ وہ تدفین کے دوسرے روز اس مقام پر گئے تھے جہاں سے لاش ملی تھی تو   جب وہ اس نزدیکی گیسٹ ہاؤس پر پہنچے تو انھیں دیکھ کر ملازم چلے گئے تھے۔

 فیروز آباد تھانے کی تفتیشی شعبے سے رابطہ کیا گیا تھا تو انھوں نے  مقتول کے والد کے اس بیان کے بارے میں کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کیا تھا اور صرف اتنا کہا تھا کہ یہ مدعی کی رائے ہے اور تفتیش کے دوران ایسے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں۔
شرجیل میمن کی جانب سے دائر درخواست میں یہ بھی کہا گیا  کہ سوشل میڈیا پوسٹس میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ میر رضا علی کی موت کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے میڈیکل بورڈ کو تبدیل کیا گیا تاکہ طبی اور فرانزک شواہد میں تبدیلی کی جا سکے۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ایک جیسے مواد کا شیئر کیا جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان کے خلاف منظم مہم چلائی گئی۔
شرجیل میمن نے این سی سی آئی اے سے درخواست کی کہ ان سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تحقیقات کی جائیں اور ان کے آئی پی ایڈریسز اور سم کارڈ کی معلومات کا جائزہ لیا جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ  ان کی کردار کشی کی مہم کے پیچھے کون لوگ ہیں۔

عدالتی کمیشن کا قیام اب ضروری نہیں!

عدالتی کمیشن بنانے کا اعلان ہونے کے بعد عدالتی کمیشن کی تشکیل سے پہلے تفتیش نئی ٹیم کے حوالے کر دی گئی۔ قبر کشائی اور کیمیکل ایگزیمینیشن سے حقائق سامنے آنے کے بعد پولیس کے ایس ایچ او اور سرکاری ہسپتال کے میدیکولیگل آفیسر کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔
میر رضا علی کے اہلخانہ کی جانب سے فی الحال اس معاملے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کی ضرورت نہ ہونے کی رائے دی گئی۔ اس کے بعد سندھ کے وزیرِ داخلہ ضیاالحسن لنجار نے کہا کہ ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں عدالتی تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل کا فیصلہ موخر کر دیا گیا ہے۔
گزرے ہوئے اتوار کی شام سندھ کے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار  اور کراچی کے مئیر مرتضیٰ وہاب نے کہا تھا کہ میر رضا علی کے قتل کیس کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں گی اور سندھ کے وزیراعلیٰ کی سفارش پر سندھ ہائی کورٹ کے ایک جج کی سربراہی میں عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   کار کو سڑک پر “جہاز کی رفتار “سےدوڑانے کا نیا ریکارڈ کس نے بنایا؟
وزیرِ داخلہ کی جانب سے پیر کو کہا گیا  کہ سندھ حکومت نے شفافیت یقینی بنانے اور متاثرہ خاندان کو مکمل اطمینان دلانے کے لیے عدالتی تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا تھا تاہم پولیس کی نئی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کے بعد  مقتول میر رضا کے خاندان کا مؤقف ہے کہ انھیں اس نئی تحقیقاتی ٹیم پر اعتماد ہے۔ یہی ٹیم اس معاملے کی تحقیقات کرے۔
 اتوار کو اس واقعے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کو تبدیل کیا گیا  تھا اور  پہلے تفتیش کرنے والے ایس ایچ او کو معطل کر دیا گیا تھا۔ اب ڈی آئی جی عامر فاروقی اس تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ ہیں جبکہ ایس ایس پی ریپڈ رسپانس فورس علی رضا کو کمیٹی کا سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔ کمیٹی میں ایس پی انویسٹی گیشن کورنگی قیس خان، ایس پی سینٹرل انویسٹی گیشن انعم تجمل اور سپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) زمان ٹاؤن کے ایک افسر شامل ہیں۔
پہلے پوسٹمارٹم کی بنیاد پر معطل ہونے والے ایس ایچ او نے مقتول کے اہل خانہ پر دباؤ ڈالا تھا کہ یہ قتل نہیں خودکشی ہے۔ 

دوسری مرتبہ عدالت کے حکم سے قبر کھول کر مقتول کا دوبارہ پوسٹمارٹم اور کیمیائی تجزیہ کیا گیاتو یہ سامنے آیا کہ میر رضا کو لگنے والی گولی ان کے کی کمر سے جسم میں داخل ہو کر سینے سے باہر نکلی تھی۔ یعنی خودکشی کا دور تک کوئی امکان نہیں تھا کیونکہ کوئی زندہ انسان خود کو اپنی کمر پر گولی نہیں مار سکتا۔
چار صفحات پر مشتمل دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا کی کمر کے بالائی حصے پر گولی لگنے کا نشان موجود تھا، جبکہ گولی چھاتی کے اگلے حصے سے باہر نکلی۔ رپورٹ کے مطابق اس کے نتیجے میں پسلیاں ٹوٹنے کے ساتھ میر رضا کے دل کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
قبر کشائی کے بعد میت کی معائنہ کرنے والے ڈاکٹروں کو میر رضا کی پیشانی کے دائیں جانب اور ناک کی ہڈی پر شدید چوٹ کے نشانات بھی ملے ہیں جبکہ اوپری دانتوں اور جبڑے کے قریب خون جما ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیئے:  ہنی ٹریپ اور بلیک میلنگ کا نیٹ ورک بے نقاب، تین بلیک میلرگرفتار  
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میر رضا کی کھوپڑی کے پچھلے حصے میں بھی فریکچر کی نشاندہی ہوئی ہے اور میڈیکل بورڈ کے مطابق یہ تمام چوٹیں موت سے پہلے لگی تھیں۔ 
مزید فرانزک تحقیقات کے لیے میڈیکل بورڈ نے میر رضا کے بال، دانت، ہڈیوں کے ٹکڑے، کفن کے کپڑے کا ایک ٹکڑا اور گولی کی باقیات کی جانچ کے لیے نمونے حاصل کیے ۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے اس ابتدائی رپورٹ کی تصدیق کی ۔

کوئی گرفتاری نہیں ہوئی

مقتول کے قتل سے پہلے شدید تشدد اور کم از کم دو آفیسرز کے سامنے موجود شواہد کو یکسر نظر انداز کر دینے کی صریھ تصدیق ہو جانے کے باوجود تین ایس پی افسروں اور ڈی آئی جی کی تفتیشی ٹیم نے ایک بھی شخص کو گرفتار کرنے کی ہدایت نہیں کی ہے۔ 

یہ بھی پڑھیں:  ٹرمپ کا پاسداران انقلاب کے خاتمے، فرار اور آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں