
(24نیوز) پارلیمنٹ ہاؤس میں جوائنٹ اپوزیشن کا پہلا اہم پارلیمانی اجلاس منعقد ہوا جس میں اپوزیشن جماعتوں کے سربراہان اور پارلیمانی نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی،اجلاس کا بنیادی مقصد پارلیمان کے اندر اور باہر حکومت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا اور ملکی صورتحال پر متفقہ لائحہ عمل تیار کرنا تھا۔
اجلاس کے دوران تمام اپوزیشن رہنماؤں نے آٹھارویں ترمیم کے تحفظ، عدلیہ کی بحالی، آئین کی بالادستی اور عوام کو درپیش سنگین مسائل پر ایک موقف اپنانے کا اعلان کیا۔
سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان محمود خان اچکزئی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کا ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا آئین کی بحالی، پارلیمنٹ کی مضبوطی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے ایک نیا آغاز ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے ملکی سیکیورٹی اور معاشی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک صوبوں کی تقسیم کا متحمل نہیں ہو سکتا، ایسی کوششوں سے بداعتمادی بڑھے گی ،18ویں ترمیم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ریاست کے لیے نقصان دہ ہوگی،ملک میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تسلی بخش نہیں ہے،جہاں ہماری سرزمین خون سے سرخ ہے، وہاں حکمران سرخ قالینوں پر چل رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر میں عوام سڑکوں پر ہیں،تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کر کے پرامن ماحول پیدا کیا جانا چاہیے۔
راجہ علامہ ناصر عباس کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ملک میں قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کی پامالی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال ہو رہا ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے بانی کی صحت سے متعلق سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی کے حکم پر عمل نہ کرنے اور قانون کو پامال کرنے پر تنقید کی،انہوں نے کہا کہ قانون اور عدلیہ کے فیصلوں کو پاؤں تلے روندنے کی تعلیم دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس مہینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی،اس ماہ میں اپوزیشن کا متحد ہونا نیک شگون ہے،بدامنی بڑھ چکی ہے ،لڑکی حنا جاوید کو شوہر ، سسر اور نوکر نے مل کر مارا،ملک میں لوگوں کے گلے کٹے ہونے کی لاشیں مل رہی ہیں،دوستیاں نہیں دشمنیاں پال رہے ہیں،اس وقت لوگوں کے جان کی حفاظت نہیں ہے ،چادر چار دیواری کا تقدس پامال ہو رہا ہے،ہماری ناموس محفوظ نہیں ہے،ڈاکٹر یاسمین راشدہ کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔
بیرسٹر گوہر نے وضاحت کی کہ اس اجلاس میں یہ فیصلہ ہوا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں متحد ہونگی ،ساری اپوزیشن جماعتیں پارلیمنٹ کے اندر ایک ہی مؤقف اپنائیں گی امن و امان، مہنگائی، پاکستان کے بیرونی ممالک سے تعلقات کی صورتحال پر یکساں مؤقف اپنائیں گے، صوبوں کے حوالے سے ایک دن میں ترمیم نہیں ہو سکتی۔
پی ٹی آئی نے مولانا فضل الرحمان کو اپنی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ارجنٹینا سے عبرتناک شکست کے بعد بھارتی ہاکی ٹیم ورلڈ کپ سے باہر






