2

خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں ذمہ داروں کو نہیں چھوڑیں گے؛ مصطفیٰ کمال

(24نیوز) وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ سانحہ پمز ایک حادثہ ہے،کوئی کوتاہی نظر آئی تو کارروائی ہوگی، کوشش کریں گے آئندہ ایسے حادثات نہ ہوں۔

پمز کے باہر میڈیا سے گفتگو میں مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ملکی تاریخ کا دلخراش واقعہ ہواہے، 14 نومود بچوں کی نگہداشت کا یونٹ ہے۔ والدین سے دلی تعزیت کرتا ہوں،اللہ تعالیٰ والدین کو صبرجمیل دے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سب سے پہلے خود کو احتساب کیلئے پیش کرتاہوں، جس نے بھی غلفت کی اس کونہیں چھوڑا جائے گا، کسی سے بھی رعایت نہیں ہوگی، لواحقین سے دلی تعزیت کرتا ہوں، جس نے بھی غفلت کی، اسے نہیں چھوڑا جائے گا۔

وفاقی وزیر صحت کے مطابق 6 بج کر 38 منٹ پر اے سی کےاندر سے سپارک ہوا، 6 بجکر39منٹ پر لوگوں کو باہر نکلتے دیکھا گیا،سٹاف نے بھی دیکھا اور ریکارڈ بھی ہے، ایک شعلہ سا نیچے گرا ہے،ایک منٹ میں پورا کمرہ آگ کی لپیٹ میں آگیا، آکسیجن نے آگ پکڑی،ساری لائنز میں آگ نظرآرہی تھی۔

استعفے سے متعلق سوال پر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وزیراعظم میرے باس ہیں،جو احکامات دیں گے مانوں گا، کسی کو لگانا اور معطل کرنا وزیراعظم کا استحقاق ہے، وزیراعظم کے سامنے خود کو پیش کرتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے ضروری ہدایات دی ہیں، صبح سے وزیراعظم سے رابطہ تھا، تحقیقات سب کے سامنے پیش کی جائیں گی، سب سے پہلے خود کو احتساب کیلئے پیش کیا، وزیراعظم کے پاس جاکرصورتحال سے آگاہ کروں گا، کوشش کریں گے آئندہ ایسے حادثات نہ ہوں۔
یہ بھی پڑھیں :  پمز ہسپتال کا مالیاتی بجٹ، 3 سال میں 22 ارب روپے جاری ہونے کا انکشاف

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں