
(24نیوز) پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز ہسپتال) کے این آئی سی یو میں آگ کیسے لگی، کس نے کہاں غفلت کی، آگ لگنے سے 15 بچوں کے فوت ہو جانے کے سانحہ کی مصدقہ رپورٹ سامنے آ گئی۔
پمز ہسپتال سانحہ کیسے پیش آیا- ہسپتال کی انتظامیہ نے سانحہ کی رپورٹ تیار کر لی ہے۔ اس رپورٹ میں نشاندہی ہوئی ہے کہ آگ اچانک نہیں پھیلی بلکہ پہلے آگ کم تھی، بتدریج یہ پھیلی۔
این آئی سی یو میں انکیوبیٹر موجود ہوتے ہیں کمزور جو نومولود بچوںسانس لینے میں مدد دینے کے لئے آکسیجن فراہم کرتے ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ کی تحقیقات میں یہ سامنے آیا کہ آگ ایک انکیوبیٹر سے منسلک نیبولائزر کے پھٹ جانے سے لگی۔ یہ نیبولائزر آکسیجن سلنڈر سے منسلک تھا۔ اس کے پھٹنے سے گیس پھٹی اور اس گیس کو آگ لگی جو پہلے تھوڑی تھی، اس پر قابو نہیں پایا گیا تو یہ پھیل گئی۔ ماحول میں آکسیجن نسبتاً زیادہ تھی۔ اس نے بھی آگ کے پھیلنے میں کردار ادا کیا۔
نیبولائزر پھٹنے سے آکسیجن نے آگ پکڑی اور آگ سے کثیر مقدار میں دھواں پیدا ہوا، یہ دھواں پھیلنے اور بچوں کو فراہم کی جا رہی آکسیجن کی سپلائی بند ہو جانے سے زیادہ اموات ہوئیں۔ دھواں پائپ کے ذریعے بچوں کے سانس میں گیا۔
ابتدائی رپورٹ میں تصدیق ہوئی ہے کہ آگ پہلے کم تھی، پھر تیزی سے پھیل گئی۔ پمز انتظامیہ کی ابتدائی رپورٹ کے کچھ نکات میڈیا کے سامنے ٓٓ گئے ہیں۔ اس واقعہ کے ذمہ داروں کے تعین کے متعلق ہسپتال کی انتظامیہ نے چپ سادھ رکھی ہے۔ ابتدائی رپورٹ کے جو نکات میڈیا میں لیک کئے گئے ہیں ان میں بھی سانحہ کے ذمہ داروں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ہیلتھ پروفیشلز نے بھی مصطفیٰ کمال کے استعفے، اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کامطالبہ کردیا






