
(24نیوز) وزیر اعظم شہباز شریف نے صحت کے وفاقی سیکرٹری کو کیوں برطرف کیا؟ وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ہسپتال کی طرف سے کچھ ضروری کاموں کی نشاندہی کی گئی ہو لیکن اس پر کوئی کارروائی نہ کی گئی ہو۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سانحہ کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونا چاہئے۔
ایک نیوز چینل کے اینکر پرسن سے انٹرویو میں وزیر اعظم کے میشر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پمز ہسپتال میں بچوں کی وارڈ میں آگ لگنے کا سانحہ الم ناک ہے۔ اس سانحہ کی انکوائری ہونا چاہئے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے۔ جو بھی ذمہ دار ہیں، ان کو سزا دے کر مثال بنانا چاہئے۔
پس منظر
آج بدھ کے روز کو وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو ہٹانے کی فوری وجہ PIMS کے نرسری وارڈ میں پیش آنے والی تباہ کن آگ ہے، جس میں 15 نومولود بچوں کی المناک وفات ہو گئی ہے۔ لواحقین کی کوشش سے ایک نومولود بچے کو بچا لیا گیا۔ اس سانحہ کی جوہات ابھی واضح نہیں اور نہ ہی وفاقی سیکرٹری صحت کو برطرف کرنے کے فیصلہ کی وجہ واضح ہے، تاہم وزیراعظم کے مشیر کی تازہ ترین گفتگو سے یہ واضح ہوا ہے کہ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے وفاقی وزارت صحت کو ہسپتال کی حساس ترین وارڈ میں آگ لگنے کے سانحہ کے ضمن میں کوتاہی کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں کہ پمز ہسپتال میں آگ لگنے کی صورت میں سیفٹی کے سنگین خلا کی کئی سال پہلے نشندہی ہو جانے کے باوجود سیفٹی کے مناسب اتنطامات نہ ہونے میں ہسپتال انتظامیہ کا کیا کردار ہے اور وفاقی وزارت صحت کا کیا کردار ہے۔
آج بننے والی آٹھ رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی fact-finding committee کو عین یہی چیزیں دیکھنے کا اختیار دیا گیا ہے کہ آگ کی اصل وجہ، fire-safety arrangements کی موجودگی اور functional ہونے کی حالت، اور rescue/firefighting response کی effectiveness کی کیا صورتحال تھی۔ اس فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کو 24 گھنٹے میں رپورٹ دینا ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: ہیلتھ پروفیشلز نے بھی مصطفیٰ کمال کے استعفے، اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کامطالبہ کردیا






