
(ملک اشرف)لاہور ہائیکورٹ نے قتل کیس کے ملزم کی پھانسی کی سزا کا فیصلہ کالعدم قراردیتے ہوئے عمر حیات کی عمر قید اور10لاکھ روپے جرمانے کی سزا ختم کردی ۔
عدالت نے ملزم عمر حیات کو قتل کے مقدمے میں بری کرتے ہوئے فوری جیل سے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے فیصلہ جاری کیا،21صفحات کا فیصلہ عدالتی نظیر قراردیاگیاہے ۔
فیصلے کے مطابق استغاثہ عمر حیات کیخلاف جرم شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا،ملزم کو شک کا فائدہ دینا رعایت نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
فیصلے کے مطابق ملزم کے خلاف پوسٹ مارٹم رپورٹ قانون کے مطابق ثابت نہیں کی گئی،پوسٹ مارٹم رپورٹ ڈاکٹر یا کسی مستند گواہ کے ذریعے ثابت نہیں کرائی گئی، پبلک پراسیکیوٹر کے بیان کے ذریعے پوسٹمارٹم رپورٹ پیش کرنا قانون کے مطابق نہیں،استغاثہ کے عینی شاہدگواہوں کے بیانات میں اہم تضادات موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی شہر طائف میں موسلادھار بارش؛نشیبی علاقے زیرِ آب، ریڈ الرٹ جاری
فیصلے کے مطابق فائرنگ کے واقعے کے دیگر عینی شاہد گواہوں کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، فرانزک رپورٹ کے مطابق برآمد شدہ پستول سے جائے وقوعہ سے ملنے والا خول فائر نہیں ہوا تھا، صرف اسلحہ کی برآمدگی سے ملزم کا جرم ثابت نہیں کیا جاسکتا۔
عدالت نے عمر حیات کی سزا بڑھانے کی درخواست بھی غیر مؤثر قرار دیکر خارج کردی۔






