
(24 نیوز)سپین کے علاقے ویلنشیا کے قصبے بونیول میں مشہور ٹماٹر میلے ’لا ٹماٹینا‘ کا انعقاد ہوا جس میں ہزاروں افراد نے ایک دوسرے پر ٹماٹروں کی بوچھاڑ کردی۔
اس منفرد ٹماٹر فیسٹیول میں 20 ہزار سے زیادہ شرکا نے حصہ لیا، جبکہ تقریب کے دوران تقریباً 165 ٹن ٹماٹر استعمال کیے گئے۔
شرکا ایک دوسرے پر ٹماٹر پھینکتے رہے اور کچھ ہی دیر میں پورا علاقہ ٹماٹر کے گودے سے بھر گیا۔
سالانہ میلے کے دوران ٹماٹروں سے لدے ٹرک ہجوم کے درمیان سے گزرتے رہے اور ٹرکوں پر موجود افراد نے ٹماٹر، شرکا کی طرف اچھالے۔
جواب میں شرکا نے بھی ایک دوسرے پر ٹماٹر پھینکے، کچھ ہی دیر میں سفید کپڑے پہن کر آنے والے افراد گلابی اور سرخ رنگ میں نظر آنے لگے، جبکہ سڑکوں پر موسیقی بھی بجتی رہی۔
لا ٹوماٹینا سپین کا ایک مشہور سالانہ ثقافتی اور تفریحی تہوار ہے، جو ویلنسیا کے قریب واقع شہر بونیول میں ہر سال اگست کے آخری بدھ کو منعقد ہوتا ہے۔
Thousands of ecstatic revelers dived into tomato pulp as the ‘La Tomatina’ food fight festival kicked off in Spain’s Bunol. During the annual event in Bunol, attendees throw tomatoes at each other for one hour pic.twitter.com/Ot3v1Z7EpW
— Reuters (@Reuters) August 26, 2026
اس تہوار کی خاص بات یہ ہے کہ ہزاروں افراد تقریباً ایک گھنٹے تک ایک دوسرے پر ٹماٹر پھینکتے ہیں، جس کے نتیجے میں شہر کی سڑکیں ٹماٹروں کے گودے سے بھر جاتی ہیں۔
اس روایت کا آغاز 1945 میں ایک اچانک جھگڑے سے ہوا، جب مقامی نوجوانوں نے قریب موجود ٹماٹروں کو ایک دوسرے پر پھینکنا شروع کر دیا، بعد میں یہی واقعہ باقاعدہ سالانہ روایت بن گیا۔
اس سال بھی ٹماٹر فیسٹیول میں 20 ہزار سے زیادہ افراد کی شرکت متوقع تھی اور ایسا ہی ہوا۔
رپورٹس کے مطابق مجموعی طور پر اس سال تقریباً 22 ہزار افراد نے میلے میں شرکت کی، جن میں تقریباً 40 فیصد مختلف ممالک کے سیاح تھے۔
اس فیسٹیول میں بھارت سے آنے والے سیاحوں کی تعداد میں بھی حالیہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اس کے علاوہ آسٹریلیا، جاپان، یورپ اور ایشیا کے مختلف ممالک سے بھی سیاح شریک ہوئے۔
میلے میں شرکت کرنے والے غیر مقامی افراد کے لیے ٹکٹ کی قیمت 15 یورو، یعنی تقریباً 17.50 امریکی ڈالر، رکھی گئی تھی۔
منتظمین کے مطابق شرکا کے لیے بنیادی اصول یہ ہے کہ ٹماٹر پھینکنے سے پہلے انہیں دبا کر نرم کیا جائے تاکہ کسی شخص کو چوٹ نہ لگے۔
اس کے باوجود بہت سے افراد اپنی آنکھوں اور کانوں کی حفاظت کے لیے سوئمنگ گاگلز اور کانوں میں لگانے والے حفاظتی پلگ استعمال کرتے ہیں۔
ایک گھنٹہ مکمل ہونے پر توپ کے گولے جیسی آواز نے میلے کے اختتام کا اعلان کیا۔
اس میلے میں شرکا پر بعد میں صاف پانی کا اسپرے بھی کیا جاتا ہے جس میں انجوائے کرتے ہوئے سب اپنے کپڑے صاف کرتے نظر آئے، جبکہ قصبے کی سڑکوں کو بعد میں پانی سے دھو دیا گیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹماٹروں کے داغ کپڑوں پر مستقل بھی رہ سکتے ہیں، لیکن بونیول کی سڑکوں پر موجود ٹماٹر کا رس اپنی تیزابیت کی وجہ سے صفائی میں بھی مدد دیتا ہے۔
جس کے باعث میلے کے بعد دھلائی مکمل ہونے پر بعض اوقات سڑکیں تقریب سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ صاف نظر آتی ہیں۔
لا ٹماٹینا اب صرف مقامی روایت نہیں رہی بلکہ دنیا بھر سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے والا ایک منفرد ثقافتی اور تفریحی میلہ بن چکی ہے۔
مختلف ممالک سے آنے والے سیاحوں کی بڑھتی ہوئی شرکت نے اسے اسپین کی معروف بین الاقوامی تقریبات میں شامل کر دیا ہے۔






