لاہور : پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین و رکن قومی اسمبلی خوشحال خان کاکڑ نے کہا ہے کہ طلبہ سیاست پشتون قومی تحریک کا اہم حصہ ہے اور نوجوانوں کو جمہوری، سیاسی اور قومی شعور سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پنجاب میں مقیم پشتون طلبہ، مزدوروں اور محنت کشوں کو درپیش مسائل، امتیازی سلوک اور روزگار کی مشکلات کا خاتمہ اور ان کے بنیادی انسانی، شہری و آئینی حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن لاہور کی ضلعی کانفرنس کے کھلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جس کی صدارت سابق ضلعی سیکرٹری شیر شاہ مندوخیل نے کی۔کانفرنس میں سابق ضلعی سیکرٹری شیر شاہ مندوخیل نے گزشتہ دورانیے کی تنظیمی کارکردگی رپورٹ پیش کی، جس پر شرکاء نے تبادلۂ خیال کیا۔ بعد ازاں متفقہ طور پر گیارہ رکنی ضلعی کابینہ منتخب کی گئی، جس میں امجد خان ضلعی سیکرٹری اور سلمان پشتون یار سینئر معاون سیکرٹری منتخب ہوئے، جبکہ یحییٰ خان، عطاء الرحمن، خوشحال مندوخیل، عبداللہ برمک، شاہزیب کاکڑ، پیر محمد، سیف اللہ، فرحان کاکڑ، چنگیز خان اور طاہرہ بی بی کابینہ کے ارکان منتخب ہوئے۔ کانفرنس سے پشتونخوا ایس او خیبر پختونخوا/پنجاب زونل آرگنائزر غیرت خان یوسفزئی اور نومنتخب ضلعی سیکرٹری امجد خان نے بھی خطاب کیا۔خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ طلبہ کسی بھی قوم کا روشن مستقبل ہوتے ہیں اور ایک منظم، باشعور و نظریاتی طلبہ تنظیم مستقبل کی قیادت کی تربیت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ پشتونخوا ایس او کو چاہیے کہ وہ طلبہ کے جمہوری و تعلیمی حقوق کے تحفظ، تعلیمی سہولیات کی فراہمی، مادری زبان میں تعلیم، علمی و ادبی سرگرمیوں اور نوجوانوں کی فکری تربیت کے لیے اپنی جدوجہد مزید مؤثر بنائے۔ نوجوانوں کو اپنی تاریخ، ثقافت، مادری زبان اور قومی حقوق سے آگاہی حاصل کرتے ہوئے تنظیمی نظم و ضبط، جمہوری رویوں اور اجتماعی سوچ کو فروغ دینا چاہیے۔ انہوں نے پنجاب میں مقیم پشتون طلبہ، مزدوروں، محنت کشوں اور تاجروں کو درپیش مشکلات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی شہری کو اس کی قومی شناخت، زبان یا آبائی علاقے کی بنیاد پر ہراساں کرنا یا اس کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھنا بنیادی انسانی حقوق اور انسانی وقار کے منافی ہے۔ تمام شہریوں کو آئین و قانون کے تحت مساوی تحفظ حاصل ہونا چاہیے، جبکہ پشتون طلبہ کو تعلیمی اداروں میں مساوی مواقع اور مزدوروں کو مناسب اجرت، روزگار کے تحفظ اور باعزت زندگی کی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ قومی یکجہتی اور بین الصوبائی ہم آہنگی اسی وقت فروغ پا سکتی ہے جب ہر قوم اور ہر شہری کو عزت، برابری اور انصاف میسر ہو۔خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن طلبہ کے مسائل اجاگر کرنے، ان کے حقوق کے تحفظ اور نوجوانوں میں سیاسی و فکری شعور بیدار کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ مطالعاتی حلقوں، علمی و ادبی نشستوں اور سیاسی تربیتی پروگراموں کے ذریعے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنا اور انہیں قومی و جمہوری جدوجہد کے لیے منظم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ نئی منتخب کابینہ تنظیمی اتحاد کو مضبوط بنانے، طلبہ کے مسائل حل کرنے اور نوجوانوں کی علمی و سیاسی تربیت کے لیے بھرپور کردار ادا کرے گی۔
13






