کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان علی احمد لانگو کی قیادت میں پارٹی کے ایک وفد نے سوئی سدرن گیس کمپنی کے جنرل منیجر بلوچستان سے ملاقات کی، جس میں کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں گیس کی شدید قلت، کم پریشر اور گیس کنکشن کی عدم فراہمی سے متعلق عوامی مشکلات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
وفد میں نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری برائے انسانی حقوق انیل غوری، صوبائی ورکنگ کمیٹی کے رکن حاجی محمد نعیم بنگلزئی اور سابق ضلعی جنرل سیکرٹری ریاض احمد زہری شامل تھے۔
وفد نے جنرل منیجر بلوچستان کو آگاہ کیا کہ موسمِ سرما کی آمد اور درجۂ حرارت میں کمی کے باعث کوئٹہ کے شہریوں کو گیس کی فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ وفد نے مطالبہ کیا کہ کلی عالم خان، کلی شابو، عیسیٰ نگری، کلی رند آباد سمیت دیگر متاثرہ علاقوں میں گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور گیس پریشر کی کمی اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا فوری نوٹس لیا جائے۔
وفد نے کرسچن کالونی کوتوال کوئٹہ اور بشیر مسیح آباد فیز ٹو کے مسائل اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں میں مسیحی برادری سمیت ایک بڑی آبادی رہائش پذیر ہے، لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ کلی کوتوال کرسچن کالونی اور بشیر مسیح آباد فیز ٹو میں اب تک رہائشیوں کالونیوں کو گیس کنکشن کی بنیادی سہولت میسر نہیں۔ ان کالونیوں میں ایک بڑی تعداد میں لوگ آباد ہیں
سرد موسم میں گیس جیسی بنیادی ضرورت کی عدم دستیابی سے خواتین، بچوں، بزرگوں اور عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
وفد نے کہا کہ گیس کی فراہمی عوام کی بنیادی ضروریات اور بہتر معیارِ زندگی کا مسئلہ ہے۔ سوئی سدرن گیس کمپنی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ عوامی مشکلات کا فوری ازالہ کرے، نئے گیس کنکشن کی فراہمی کے معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے اور تمام متاثرہ علاقوں میں گیس پریشر بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
اس موقع پر جنرل منیجر بلوچستان نے وفد کی باتوں کو توجہ سے سنا اور متعلقہ مسائل کے حل کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
نیشنل پارٹی کے وفد نے واضح کیا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ پارٹی عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنا جمہوری اور سیاسی کردار ادا کرتی رہے گی اور مطالبہ کرتی ہے کہ کوئٹہ میں گیس لوڈشیڈنگ کا خاتمہ، گیس پریشر کی بحالی اور محروم آبادیوں تک گیس کنکشن کی فراہمی یقینی بنائی جائے، تاکہ شہری شدید سردی میں باعزت اور پُرسکون زندگی گزار سکیں۔
9






