چمن: افغانستان میں پولیو کے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد پاک افغان سرحدی ضلع چمن میں پولیو وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کے خدشات کے پیشِ نظر ضلع بھر میں 2 نومبر سے خصوصی انسدادِ پولیو مہم شروع کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے آج بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر خصوصی انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی نے صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کو خصوصی بریفنگ دیتے ہوئے پولیو وائرس کے ممکنہ خطرات، حفاظتی اقدامات اور آئندہ مہم کی تیاریوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں پولیو کیسز کی موجودگی کے باعث سرحدی ضلع چمن میں خصوصی احتیاط اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے، تاکہ پولیو وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔اس موقع پر عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے ضلعی سربراہ ڈاکٹر نادر اچکزئی اور ڈسٹرکٹ کمیونیکیشن آفیسر اشرف خان نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو انسدادِ پولیو کے قطرے لازمی پلوائیں اور پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں، تاکہ معصوم بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھا جا سکے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے والدین، علمائے کرام، قبائلی عمائدین، میڈیا اور معاشرے کے تمام طبقات کا تعاون ناگزیر ہے۔ عوام کی بھرپور شمولیت اور تعاون سے ہی پولیو جیسے موذی مرض کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
8






