کوئٹہ، : بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ (BBoIT) اور ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) کے اشتراک سے دو روزہ ویمن انٹرپرینیورز ایکسپو ’’ویکس نیٹ‘‘ کا آغاز ہوگیا۔ بیوٹمز ایکسپو سینٹر کوئٹہ میں منعقدہ نمائش کا افتتاح صوبائی مشیر وزیر اعلیٰ برائے ترقیِ نسواں ربابہ بلیدی نے کیا۔ افتتاحی تقریب میں بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ، انجینئر زمرک خان اچکزئی، سیکرٹری ٹی ڈی اے پی شہریار تاج، وائس چانسلر بیوٹمز پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ، چیمبر آف کامرس کے نمائندوں جنگیان دشتی،PHDEC کے سی ای او محمد نصیر اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی مشیر وزیر اعلیٰ برائے ترقیِ نسواں ربابہ بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کی خواتین کی ترقی، فلاح و بہبود اور معاشی خودمختاری کے لیے اٹھائے جانے والے تمام اقدامات کی بھرپور حمایت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو کاروباری میدان میں آگے لانا اور ان کی تیار کردہ مقامی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک پہنچانا ہمارا مشترکہ وژن ہے۔ محکمہ ترقیِ نسواں خواتین کے کاروبار کو فروغ دینے، انہیں معاشی سرگرمیوں میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے، مالی معاونت اور قرضوں کے حصول میں سہولت دینے کے ساتھ ساتھ ان کے مسائل کے حل کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سال نمائش میں تقریباً 100 اسٹالز لگائے گئے ہیں، تاہم آئندہ نمائش میں اس تعداد کو بڑھا کر تقریباً 300 اسٹالز تک لے جانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین کو اپنی مصنوعات اور کاروباری صلاحیتیں متعارف کرانے کا موقع مل سکے۔ بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے اپنے خطاب میں وفاقی وزیر جام کمال خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں خواتین کی کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور انہیں معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے منعقدہ اس اہم اقدام کو وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کی کوشش ہے کہ صوبے کی خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنایا جائے اور انہیں کاروبار شروع کرنے اور اسے وسعت دینے کے لیے مؤثر مواقع فراہم کیے جائیں۔ ویکس نیٹ جیسے اقدامات خواتین کو اپنی مصنوعات متعارف کرانے، کاروباری روابط قائم کرنے اور قومی و بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی خواتین میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں مناسب پلیٹ فارم، سہولیات اور مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ صوبے کی معیشت میں اپنا مؤثر کردار ادا کرسکیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انجینئر زمرک خان اچکزئی نے ویکس نیٹ کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے موجودہ حالات میں اس نوعیت کی کاروباری اور معاشی سرگرمیوں کا انعقاد نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف خواتین کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں بلکہ صوبے میں مثبت کاروباری ماحول کے فروغ اور معاشی سرگرمیوں میں اضافے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ انہوں نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اس طرح کی تقریبات کے تسلسل کی ضرورت پر زور دیا۔ سیکرٹری ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان شہریار تاج نے اپنے خطاب میں ویکس نیٹ کے پس منظر اور اس کے آغاز سے متعلق تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا آغاز 2000 میں کیا گیا تھا اور اب تک ملک بھر میں تقریباً 12 نمائشیں منعقد کی جاچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر جام کمال خان کی بھی ذاتی خواہش تھی کہ بلوچستان کی خواتین کو کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور اپنی مصنوعات کی نمائش کے لیے ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا جائے، جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت بنا سکیں۔ ویکس نیٹ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس کے ذریعے خواتین کاروباری افراد کو نئی منڈیوں، خریداروں اور کاروباری مواقع سے منسلک کرنے میں مدد ملے گی۔ وائس چانسلر بیوٹمز پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواتین کی کاروباری ترقی اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں مؤثر کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ چیمبر آف کامرس کے نمائندوں جنگیز عمراشئی اور دیگر مقررین نے بھی اس اقدام کو سراہا اور خواتین کاروباری افراد کو درپیش چیلنجز کے حل، ان کی مصنوعات کی مارکیٹنگ اور کاروباری روابط کے فروغ کے لیے ایسے پلیٹ فارمز کی اہمیت اجاگر کی۔ واضح رہے کہ دو روزہ ویکس نیٹ ویمن انٹرپرینیورز ایکسپو 31 اکتوبر اور یکم نومبر کو بیوٹمز ایکسپو سینٹر کوئٹہ میں جاری رہے گی، جس میں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کاروباری افراد اپنی تیار کردہ مصنوعات اور دستکاریوں کی نمائش کررہی ہیں۔
8






