کوئٹہ ، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان، مرکزی سیکرٹری چیئرمین اللہ نورخان، صوبائی سیکرٹری اول فقیر خوشحال کاسی نے کہا ہے کہ پشتونخوا نیپ کی نظریات اصولی سیاست اور پارٹی کے منشور و آئین پر عملدرآمد اوراپنے عوام کے حقوق کیلئے بروقت آواز اُٹھانے پر آج پارٹی ہمارے غیور عوام کی ہردلعزیز تحریک کا روپ دھار چکی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع کوئٹہ سے مربوط کوٹوال علاقائی کانفرنس کے کھلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کی۔ اس سے پہلے کوٹوال علاقائی کانفرنس کا بند اجلاس پارٹی کی ضلعی سینئر معاون سیکریٹری ندا سنگر کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں سابقہ علاقائی سیکریٹری نے تنظیمی و سیاسی کارکردگی کی رپورٹ پیش کی، جس کا جائزہ لینے کے بعدمنظورکیا گیا اور نئے علاقائی ایگزیکٹو کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔ایگزیکٹیو میں عبیداللہ سنزر علاقائی سیکرٹری، تاج الدین کاسی سینئر معاون سیکرٹری معاونین سمیع اللہ مہترزئی، اصغر مشوانی، ایمل خان مشوانی، عرفان کاسی، خان کاکڑ، راز محمد وطنیار منتخب ہوئے۔ نئے ایگزیکٹیو سے صوبائی سیکرٹری اول فقیرخوشحال کاسی نے لیا۔کانفرنس سے پارٹی کے پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری زمان خان کاکڑ اور دیگر ہنماؤں نے خطاب کیا جبکہ کہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض صوبائی ڈپٹی سیکرٹری رحمت اللہ صابر نے انجام دیئے۔ مقررین نے کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر پارٹی کارکنوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ تنظیمی اداروں کو فعال اور مضبوط بنانا قومی سیاسی تحریک کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ پارٹی کے قومی جمہوری نظریات اور پروگرام کو عوام تک پہنچانے اور پشتون قومی حقوق کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد مزید منظم کریں۔دریں اثنا پشتونخوانیپ وزیر کاسی کاریز علاقائی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے نے کہا ہے کہ پشتونخوا نیپ اپنے عوام کی امنگوں کی ترجمان قومی سیاسی جماعت ہے، جو کوئٹہ شہر سمیت تمام جنوبی پشتونخوا کے عوام کے حقوق کے تحفظ اور ان کے مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ کوئٹہ کے تمام شہری، خواہ ان کا تعلق کسی بھی قومیت اور زبان سے ہو، پشتونخوا نیپ کے پلیٹ فارم سے اپنے حقوق کے دفاع اور ان کے حصول کے لیے سیاسی جدوجہد کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کوئٹہ کے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ پشتونخوا نیپ کے پلیٹ فارم سے متحد ہو کر اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کوئٹہ شہر سے مربوط وزیر کاسی کاریز علاقائی یونٹ کے کانفرنس سے اپنے صدارتی خطاب میں کیا۔ کانفرنس سے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان، مرکزی سیکرٹری اللہ نور خان شیرانی، صوبائی سیکرٹری فقیر خوشحال کاسی اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔کانفرنس میں علاقائی سیکرٹری نے گزشتہ تین سالہ کارکردگی کی تفصیلی رپورٹ پیش کی، جس کا مندوبین نے جائزہ لینے کے بعد منظوری دی۔ بعد ازاں علاقائی ایگزیکٹو کا انتخاب عمل میں لایا گیا، جس کے نتیجے میں عصمت اللہ خان ترین سیکرٹری، فرید کمال سینئر معاون جبکہ نعمان خان باروزئی، سہیل راجپوت، محمد اشرف ترین، محمد صدیق، وحید خان کاکڑ ایڈووکیٹ، صدام خان زرکون، فیض افغان، زین اللہ، نصیب اللہ اور محمد قاسم اچکزئی معاونین منتخب ہوئے۔ پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے نے نومنتخب عہدیداروں سے حلف لیا۔مقررین نے کہا کہ کوئٹہ شہر کے لاکھوں عوام اس وقت جن مشکلات اور اذیتوں سے دوچار ہیں، وہ ناقابل بیان ہیں۔ گیس پریشر کی شدید کمی اور گیس کمپنی کی جانب سے بھاری بلوں کا ارسال کرنا غریب عوام کے لیے ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔ شہر میں صفائی کی ابتر صورتحال، بالخصوص مرکزی شہر اور اس کے گردونواح میں گندگی کے ڈھیر، بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور پانی کی عدم دستیابی نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے کوئٹہ شہر کے بنیادی مسائل کے حل اور ترقی کے لیے کوئی قابل ذکر اقدام نہیں کیا، جبکہ صوبے کے چیف ایگزیکٹیو نے محض چند ہزار آبادی پر مشتمل اپنے علاقے میں چالیس سے پچاس ارب روپے خرچ کرکے ترقیاتی منصوبوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع کیا ہے، جس میں ضرورت سے زیادہ سڑکیں، کالج، اسپتال اور دیگر منصوبے تعمیر کیے گئے ہیں۔ ایسے اسپتال موجود ہیں جہاں مریض نہیں، کالج اور اسکول ہیں جہاں طلبہ موجود نہیں۔ چند ہزار افراد پر مشتمل علاقے پر اربوں روپے خرچ کرنا کسی طور بھی انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔مقررین نے کہا کہ کوئٹہ شہر صوبے کا دارالحکومت اور صوبے کے عوام کی ایک بڑی تعداد کا مسکن ہے، لیکن اس کے باوجود شہر کی ترقی اور بنیادی مسائل کے حل کے لیے کوئی سنجیدہ اور مؤثر منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ شہر میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہے، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، جگہ جگہ ٹریفک جام رہتا ہے اور امن و امان کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ ان حالات نے عوام اور تاجروں کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ بے روزگاری اور دیگر بنیادی مسائل نے بھی شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر کی حالت بہتر بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر ترقیاتی فنڈز اور ایک جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے، تاکہ شہر کو اس قابل بنایا جا سکے کہ یہاں آنے والے افراد کو محسوس ہو کہ وہ کسی صوبے کے دارالحکومت میں داخل ہوئے ہیں۔ افسوس کہ موجودہ صورتحال میں کوئٹہ شہر ایک تباہ حال اور پسماندہ علاقے کا منظر پیش کر رہا ہے۔مقررین نے واضح کیا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کوئٹہ شہر کے عوام کو درپیش مسائل اور حکومتی ناانصافیوں کے خلاف بھرپور سیاسی جدوجہد کرے گی اور عوام کو ساتھ ملا کر ایک منظم احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔
9






