
(24 نیوز)پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) نے ملک میں فٹبال کے فروغ، نوجوان کھلاڑیوں کی صلاحیتیں نکھارنے اور عالمی سطح پر پاکستان کی شناخت بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ فیڈریشن نے کھیل کی بنیادی مہارتوں میں بہتری اور ملکی سطح پر فٹبال کے نظام کو مضبوط بنانے کو اپنی اہم ترجیحات قرار دیا ہے۔
آذربائیجان میں فیفا انڈر 15 ورلڈ کپ اینڈ فیسٹیول 2026 میں شرکت کے بعد قومی ٹیم کی وطن واپسی پر منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہیڈ کوچ احسان اللہ خان نے کہا کہ ایونٹ میں شرکت کا مقصد نوجوان کھلاڑیوں کو بین الاقوامی فٹبال کا تجربہ فراہم کرنا، مختلف ممالک کے کھیلنے کے انداز سے روشناس کرانا اور انہیں زیادہ سے زیادہ میچز کھیلنے کے مواقع دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ کوچنگ اسٹاف نے کھلاڑیوں کو ہار کے خوف کے بغیر کھیلنے، اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کرنے اور بنیادی فٹبال مہارتوں پر توجہ دینے کی ترغیب دی۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی کامیاب ٹیمیں بنیادی مہارتوں پر مسلسل محنت کی بدولت آگے بڑھتی ہیں اور پاکستان کو بھی اپنی فٹبال کی بنیادیں انہی اصولوں پر استوار کرنا ہوں گی۔
احسان اللہ خان نے امید ظاہر کی کہ اگر پاکستان بنیادی فٹبال مہارتوں کے فروغ پر مستقل توجہ دے تو مستقبل میں عالمی سطح کی ٹیموں میں شامل ہونے کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ہیڈ کوچ نے اس بین الاقوامی ایونٹ میں شرکت کے مواقع فراہم کرنے پر پی ایف ایف کے صدر سید محسن گیلانی اور فیڈریشن کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے نوجوان کھلاڑیوں کے والدین کی معاونت کو بھی سراہا، جو ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے آذربائیجان پہنچے تھے۔
انہوں نے پی ایف ایف صدر کی جانب سے کھلاڑیوں کی ذاتی حوصلہ افزائی اور ہر کھلاڑی کے لیے اضافی 25 ہزار روپے انعام کے اعلان کو بھی خوش آئند قرار دیا۔
ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے احسان اللہ خان نے کہا کہ بنیادی مہارتوں پر عمل درآمد اور دفاعی حکمت عملی میں تبدیلی کے دوران بعض مشکلات سامنے آئیں، جنہیں دور کرنے کے لیے مسلسل تربیت اور مزید مسابقتی مقابلوں میں شرکت ضروری ہے۔
اس موقع پر پی ایف ایف کے ٹیکنیکل ڈائریکٹر عدیل رزقی نے کہا کہ ٹورنامنٹ نے عالمی ٹیموں کے مقابلے میں پاکستانی کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کا جائزہ لینے اور بہتری کے شعبوں کی نشاندہی کرنے کا اہم موقع فراہم کیا۔ ان کے مطابق اس مہم میں نتائج کے بجائے نوجوان کھلاڑیوں کی ترقی کو ترجیح دی گئی۔
عدیل رزقی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں فٹبال کے مستقبل کو مضبوط بنانے کے لیے نچلی سطح سے ایک منظم نظام تشکیل دینا ضروری ہے، جس کے تحت باصلاحیت کھلاڑیوں کی بروقت شناخت، تربیت اور انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
پی ایف ایف کے ڈائریکٹر میڈیا اینڈ کمیونیکیشنز عمید وسیم نے حکومتی تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں کی تربیت کے لیے سرکاری سہولیات اور فٹبال انفراسٹرکچر سمیت مقابلوں کے انعقاد میں معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے انڈر 17 قومی چیمپئن شپ میں شریک ٹیموں کے لیے رہائش کے انتظامات کو بھی اہم قرار دیا۔
قومی انڈر 15 ٹیم کے کھلاڑی الہان خان نے کہا کہ عالمی ایونٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرنا ان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ ان کے مطابق ٹیم نے اردن سمیت مضبوط حریفوں کے خلاف اچھی مزاحمت کی، تاہم اہم مواقع پر گول کے مواقع ضائع ہونے کے باعث بہتر نتائج حاصل نہ کیے جا سکے۔
ٹیم کے ایک اور کھلاڑی اویس نے بھی ایونٹ کے دوران تعاون اور حوصلہ افزائی پر پی ایف ایف کے صدر سید محسن گیلانی کا شکریہ ادا کیا۔
پریس کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ آذربائیجان میں ہونے والے ایونٹ سے پاکستانی فٹبال کو اہم بین الاقوامی تجربہ حاصل ہوا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تجربات کو مستقل تربیت، مضبوط ملکی مقابلوں اور نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں :ایران سے مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں:امریکی صدر ٹرمپ






