7

غفلت قتل… یا پھر کچھ اور؟

معاشرے کی ترقی صرف بلند و بالا عمارتوں، رنگ برنگی تفریح گاہوں اور جدید سہولتوں سے نہیں ہوتی بلکہ اس کا اصل معیار انسانی جان کی حرمت اور اس کے تحفظ سے متعین ہوتا ہے۔ افسوس کہ ہمارے ہاں بعض افراد اور ادارے مالی منفعت کی دوڑ میں اس بنیادی حقیقت کو فراموش کر بیٹھتے ہیں۔ یہی بے حسی اور لاپروائی کبھی کسی ماں کی گود اجاڑ دیتی ہے، کبھی کسی باپ کے بڑھاپے کا سہارا چھین لیتی ہے اور کبھی ایک پورے خاندان کو عمر بھر کے کرب میں مبتلا کر دیتی ہے۔
کچھ لوگ نہ ماضی کے سانحات سے سبق سیکھتے ہیں، نہ قانون کی پاسداری کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں اور نہ ہی انہیں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ ان کی ایک معمولی سی غفلت کسی معصوم جان کی قیمت بن سکتی ہے۔ جب تک کوئی سانحہ رونما نہیں ہوتا، سب کچھ معمول کے مطابق دکھائی دیتا ہے، لیکن ایک لمحے کی بے احتیاطی کئی زندگیاں اندھیرے میں دھکیل دیتی ہے۔
گزشتہ دنوں لاہور کے ایک واٹر پارک میں پیش آنے والا المناک واقعہ بھی ایسے ہی کئی سوالات چھوڑ گیا ہے۔ ایک معصوم بچی ہمیشہ کے لیے اپنے والدین سے بچھڑ گئی۔ اس حادثے کی مکمل حقیقت اور قانونی ذمہ داری کا تعین یقیناً تحقیقاتی ادارے اور عدالتیں کریں گی، مگر یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا عوامی تفریح گاہوں میں حفاظتی انتظامات واقعی اس معیار کے ہیں جن کا دعویٰ کیا جاتا ہے؟ کیا حفاظتی ضابطوں پر عمل درآمد صرف کاغذوں تک محدود ہے؟ اور اگر کہیں کوتاہی ہوئی ہے تو اس کا حساب کون دے گا؟
جب بھی کسی معصوم بچے یا بچی کی ناگہانی موت کی خبر سنتا ہوں تو دل کے کسی نہاں خانے میں دفن اپنا ننھا عل احمد یاد آ جاتا ہے، جو بہت کم عمری میں ہمیں داغِ مفارقت دے گیا تھا۔ کہتے ہیں زخم کی شدت وہی جانتا ہے جس نے چوٹ کھائی ہو۔ گزشتہ روز جب اس ننھی کلی کے بچھڑنے کی خبر سنی تو دل بے اختیار بھر آیا۔ میں نے یہ خبر اپنی شریکِ حیات سے شیئر کی تو ہمارے اپنے زخم بھی جیسے پھر سے ہرے ہو گئے۔ آج بھی یہ سطور نم آنکھوں کے ساتھ لکھ رہا ہوں اور بارگاہِ الٰہی میں یہی دعا ہے کہ دنیا کے کسی ماں باپ کو اولاد کے غم کی آزمائش نہ دیکھنی پڑے۔
بعد ازاں معلوم ہوا کہ اس اندوہناک سانحے سے گزرنے والا خاندان ہمارے اپنے علاقے میں رہتا ہے۔ ان کے چہروں پر چھائی خاموشی، بجھی ہوئی آنکھیں اور شکستہ لہجہ اس درد کی گواہی دے رہے تھے جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ اولاد کا غم انسان کی کمر توڑ دیتا ہے، اور وہ بیٹی جو برسوں کی دعاؤں کے بعد نصیب ہوئی ہو، اگر اچانک حادثے کی نذر ہو جائے تو والدین کا دل عمر بھر کے لیے ویران ہو جاتا ہے۔
دل یہ سوچ کر مزید بے چین ہو جاتا ہے کہ اگر ان والدین کو پہلے سے معلوم ہوتا کہ جہاں وہ اپنے بچوں کو چند خوشگوار لمحے گزارنے لے جا رہے ہیں وہاں حفاظتی انتظامات ناکافی ہیں یا متعلقہ ضابطوں پر پوری طرح عمل نہیں ہو رہا، تو شاید وہ کبھی وہاں کا رخ نہ کرتے۔
اس سانحے کی تفصیلات دہرانا گویا زخموں کو پھر سے کریدنے کے مترادف ہے، مگر ان کا ذکر اس لیے ضروری ہے کہ آئندہ کسی اور گھر کا چراغ نہ بجھے۔ تفریح گاہوں کے مالکان کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ان کے پاس آنے والا ہر بچہ کسی ماں کی دعا، کسی باپ کی امید، کسی بہن کا مان اور کسی خاندان کی خوشی ہوتا ہے۔ داخلہ فیس وصول کرنا آسان ہے، مگر ان معصوم جانوں کی حفاظت کی ذمہ داری اس سے کہیں زیادہ بڑی امانت ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک بھر کے تمام واٹر پارکس، سوئمنگ پولز اور عوامی تفریحی مراکز کا غیرجانبدارانہ حفاظتی آڈٹ کیا جائے۔ نکاسیٔ آب کے نظام، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے طریقۂ کار، تربیت یافتہ ریسکیو عملے، لائف گارڈز، سی سی ٹی وی نگرانی اور دیگر حفاظتی انتظامات کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے۔ جہاں بھی کوتاہی ثابت ہو، وہاں قانون بلاامتیاز حرکت میں آئے تاکہ آئندہ کسی کی غفلت کسی اور معصوم زندگی کی قیمت نہ بنے۔
قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
“جس نے ایک بے گناہ جان کو قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا، اور جس نے ایک جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا۔” (سورۃ المائدہ: 32)
یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسانی جان کی حفاظت محض قانونی نہیں بلکہ دینی اور اخلاقی فریضہ بھی ہے۔
آخر میں صرف ایک سوال باقی رہ جاتا ہے۔
اگر حفاظتی اصول موجود تھے مگر ان پر عمل نہیں ہوا… اگر خطرات معلوم تھے مگر انہیں نظرانداز کیا گیا… اگر مدد بروقت ممکن تھی مگر تاخیر ہوئی…
تو پھر یہ صرف ایک حادثہ تھا؟
یا ایسی غفلت، جس کی قیمت ایک معصوم زندگی نے ادا کی؟
اس سوال کا جواب قانون ضرور دے گا، مگر ہر صاحبِ ضمیر انسان کو اپنے دل میں بھی اس کا جواب تلاش کرنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں