
لاہور ہائیکورٹ میں قتل کے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران جو کچھ سامنے آیا، وہ محض ایک مقدمے کی کارروائی نہیں تھی بلکہ پنجاب پولیس کے تفتیشی نظام کا ایسا آئینہ تھا جس میں برسوں سے چھپی خامیاں پوری شدت کے ساتھ نظر آئیں۔ اس مقدمے نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ اگر تفتیش کمزور، غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی ہو تو نہ صرف بے گناہ افراد قانون کی گرفت میں آ سکتے ہیں بلکہ اصل مجرم بھی سزا سے بچ نکلتے ہیں۔
اس سماعت کی سب سے غیر معمولی بات یہ تھی کہ خود ایڈیشنل آئی جی انویسٹیگیشن پنجاب شہزادہ سلطان نے عدالت کے سامنے پولیس کے اندر موجود ان خرابیوں کا اعتراف کیا جن کی نشاندہی وکلاء، ججز اور انسانی حقوق کی تنظیمیں برسوں سے کرتی آ رہی ہیں۔
انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ قانون میں “تتمہ بیان” کا کوئی تصور موجود نہیں، “باوثوق ذرائع” کی بنیاد پر کسی شخص کو ملزم بنانے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، لیکن بدقسمتی سے پولیس یہی کام کرتی رہی ہے۔ اس سے بھی زیادہ چونکا دینے والا اعتراف یہ تھا کہ پولیس نے اپنی بے ایمانی اور رشوت کے تحفظ کے لیے یہ پورا نظام خود تشکیل دیا، جس کے ذریعے ناجائز اقدامات کیے جاتے ہیں۔
یہ بیان کسی عام شہری، کسی وکیل یا کسی سیاسی رہنما کا نہیں بلکہ صوبے کے اعلیٰ ترین تفتیشی افسر کا تھا۔ اس اعتراف نے ان ہزاروں مقدمات پر سوالیہ نشان لگا دیا جن میں لوگوں کو صرف “مخبر” یا “باوثوق ذرائع” کی بنیاد پر نامزد کیا گیا۔
جسٹس محمد طارق ندیم نے بھی مقدمے کی سماعت کے دوران نہایت اہم قانونی نکات اٹھائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر ایف آئی آر کسی تحریری درخواست پر درج ہو چکی ہے تو بعد میں “سپلیمنٹری اسٹیٹمنٹ” یا “تتمہ بیان” کے ذریعے کسی نئے شخص کو شامل کرنا کس قانون کے تحت جائز ہے؟ مزید حیران کن بات یہ تھی کہ جس تتمہ بیان کا حوالہ دیا جا رہا تھا، وہ ریکارڈ میں موجود ہی نہیں تھا۔
عدالت نے بجا طور پر سوال اٹھایا کہ اگر قتل جیسے سنگین مقدمے میں ایک چشم دید گواہ خود یہ کہے کہ اسے ملزم کا نام کسی نامعلوم مخبر نے بتایا تو پھر ایسی گواہی کی قانونی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟ عدالت نے یہ بھی کہا کہ منشیات کے مقدمات میں مخبر کی اطلاع کسی حد تک قابل فہم ہو سکتی ہے، لیکن قتل کے مقدمے میں کسی نامعلوم شخص کی اطلاع پر کسی کو قاتل قرار دینا انصاف کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔
یہ معاملہ صرف ایک مقدمے تک محدود نہیں۔ پنجاب میں گزشتہ کئی برسوں سے عدالتیں بارہا پولیس کی ناقص تفتیش پر سخت ریمارکس دیتی رہی ہیں۔ متعدد مقدمات میں عدالتیں تفتیشی افسران کو طلب کرتی ہیں، ڈی پی اوز سے وضاحت مانگتی ہیں، اور کئی فیصلوں میں لکھ چکی ہیں کہ ناقص تفتیش کے باعث اصل ملزمان سزا سے بچ جاتے ہیں جبکہ بے گناہ افراد برسوں عدالتوں کے چکر لگاتے رہتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے فوجداری نظام میں سب سے اہم مرحلہ تفتیش ہوتا ہے۔ اگر یہی مرحلہ غیر قانونی، جانبدار یا ناقص ہو تو بعد کی پوری عدالتی کارروائی متاثر ہو جاتی ہے۔ عدالتیں صرف وہی فیصلہ کرتی ہیں جو ان کے سامنے پیش کیے گئے شواہد کی بنیاد پر ممکن ہو۔ اگر شواہد ہی جھوٹے، نامکمل یا مشکوک ہوں تو سزا دلوانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔
اس مقدمے میں عدالت نے پولیس مقدمات کے آڈٹ کا بھی ذکر کیا، جبکہ ایڈیشنل آئی جی نے بتایا کہ دس سال پرانے مقدمات کا آڈٹ کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک مثبت قدم ضرور ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ اگر خامیوں کا اعتراف خود محکمہ کر رہا ہے تو پھر اصلاحات کب ہوں گی؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ:
“تتمہ بیان” اور “باوثوق ذرائع” کے نام پر ہونے والی غیر قانونی روایت کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔
ہر قتل اور سنگین جرم کی تفتیش جدید فرانزک شواہد، ڈیجیٹل ثبوت اور سائنسی بنیادوں پر کی جائے۔
ناقص یا بدنیتی پر مبنی تفتیش کرنے والے افسران کے خلاف صرف محکمانہ کارروائی نہیں بلکہ قانونی کارروائی بھی کی جائے۔
تفتیشی افسران کی تربیت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔
پولیس افسران کی کارکردگی کا باقاعدہ آڈٹ اور احتساب یقینی بنایا جائے۔
ایڈیشنل آئی جی شہزادہ سلطان کے اعترافات نے ایک تلخ حقیقت کو بے نقاب کیا ہے۔ خامیوں کو تسلیم کرنا یقیناً اصلاح کی پہلی سیڑھی ہے، لیکن اگر اعتراف کے بعد بھی نظام نہ بدلا تو یہ اعتراف محض عدالتی کارروائی کا حصہ بن کر رہ جائے گا۔
پنجاب پولیس میں ہزاروں دیانت دار افسران اور اہلکار بھی موجود ہیں جو قانون کے مطابق کام کرنا چاہتے ہیں، مگر جب پورا تفتیشی ڈھانچہ غیر قانونی روایات، کمزور نگرانی اور ناقص احتساب کے زیر اثر ہو تو اچھے افسر بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتے۔
یہ مقدمہ ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ انصاف صرف عدالتوں سے نہیں بلکہ درست، شفاف اور غیر جانبدار تفتیش سے شروع ہوتا ہے۔ جب تک تفتیش کو سیاست، رشوت، سفارش اور غیر قانونی طریقوں سے پاک نہیں کیا جائے گا، تب تک قتل جیسے سنگین مقدمات میں بھی اصل مجرم سزا سے بچتے رہیں گے اور بے گناہ افراد انصاف کے لیے دربدر ہوتے رہیں گے۔
لاہور ہائیکورٹ نے ایک مرتبہ پھر پولیس نظام کو آئینہ دکھا دیا ہے۔ اب گیند حکومتِ پنجاب، پولیس کی اعلیٰ قیادت اور محکمہ انویسٹیگیشن کے کورٹ میں ہے۔ اگر اس تاریخی اعتراف کے باوجود بھی اصلاحات نہ ہوئیں تو مستقبل میں ہر ایسا مقدمہ صرف ایک سوال چھوڑ جائے گا: کیا انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود تفتیشی نظام بن چکا ہے؟






