8

ایران پر حملوں کی چھٹی رات،  کمیونیکیشن ٹاور، سڑک کا پل، بوشہر، ایرانشہر، بندر عباس میں حملوں کی اطلاعات

(ویب ڈیسک) ایران کے جنوبی حصوں میں امریکہ کے مسلسل چھٹی رات ہو رہے حملوں کے متعلق ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا کہ بندر عباس میں دھماکوں کی کئی آوازیں سنی گئیں۔ اس کے بعد جنوبی ایران میں کئی شہروں سے حملوں کی اطلاعات سامنے ٓٓئیں۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایران کے بندر عباس میں دھماکوں کی آواز سنی گئیں۔ اس کے ساتھ بوشہر اور اہواز میں جزیرہ قشم پر 10  حملوں سمیت پورے جنوبی ایران میں دھماکوں کی اطلاعات  ملی ہیں۔
ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے ایران کے بندر خمیر علاقے میں ایک پل پر مشتبہ امریکی حملے کی بھی اطلاع دی ہے۔
تسنیم  نیوزایجنسینے بتایا ہے کہ امریکہ نے بندر عباس شہر میں ایک پہاڑی پر قائم کمیونیکیشن ٹاور کو نشانہ بنایا جس سے علاقے میں بجلی منقطع ہوگئی، تسنیم خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ جنوبی ایرانی شہر کے ایک علاقے پر امریکی حملے میں 7 افراد زخمی بھی ہوئے۔
تسنیم نے کہا کہ امریکی لڑاکا طیاروں نے ایران کے ایران شہر ہوائی اڈے پر میزائل حملہ کیا۔
ایران کے سرکاری  نیوز آؤٹ لیٹ اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ (IRIB) نے مقامی وقت کے مطابق جمعرات کی شب کو بتایا کہ ملک کے جنوبی ساحل پر واقع ایک اہم بندرگاہی شہر مغربی بندر عباس میں تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ دھماکوں کا ذریعہ فی الحال نامعلوم ہے۔ یہ اطلاع امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے ایران کے خلاف امریکی فضائی حملوں کی تازہ لہر کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے۔

بندر عباس میں مزید تباہی کی اطلاع ہے۔
ایرانی شہر بندر عباس سے نکلنے والی ابتدائی تصاویر میں اس شہر میں تباہی کے آثار دکھائی دے رہے ہیں، تازہ ترین امریکی حملوں کے بعد، الجزیرہ عربی  صحافی رپورٹ کر رہے ہیں۔

گزشتہ دنوں کے دوران امریکہ کی مسلح افواج کی سنٹرل کمانڈ حملوں کے آغاز اور اختتام کے بعد سوشل میڈیا پر رسمی بیان جاری کرتی رہی ہے۔ آج شب پاکستانی وقت کے مطابق رات گیارہ بجے حملے شروع ہونے کا اعلان کیا گیا لیکن اس کے بعد کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی۔

 پچھلے چند دنوں کے حملوں کے دوران  امریکی بمباری کی مہم زیادہ تر جنوبی ایران پر مرکوز رہی ہے، لیکن کچھ حالیہ حملے خاص طور پر ملک کے اندر گہرائی تک پہنچے ہیں۔ان حملوں کے ردعمل میں ایران خلیج فارس کے پڑوسیوں کو  حملوں کا  نشانہ بنا رہا ہے لیکن آج جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات شروع ہونے والی نئی سٹرائیکس کے بعد سے اب تک ایران کی جانب سے کسی خلیجی ملک پر حملے ہونے کی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ البتہ جمعرات کی شام کو  کویت کی وزارت دفاع نے کہا  تھا کہ کویت کے فضائی دفاع نے جمعرات کی صبح سے لے کر اب تک 32 ڈرونز کو روکا ہے۔ وزارت کے مطابق، ملبہ گرنے سے کچھ رہائشی علاقوں کو نقصان پہنچا، لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

 تیل کی ترسیل انتہائی کم ہو گئی

 ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کل رات عملاً شروع ہوئی تھی، وہ  بدستور برقرار ہے، اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آمدورفت گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اس کی پہلے کی کم ترین سطح سے بھی گر گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے جمعرات کو ان خدشات کو کم اہمیت سینے کا تاثر دیا کہ نئے حملوں کے سبب ایک بار پھر تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ  ہو رہا ہے۔   پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے قیمتوں میں اضافے کو “تیل کی منڈی میں عارضی رکاوٹ” قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

 ایرانی کے شدید غصہ بھرے بیانات اور بڑے پیمانہ پر خطہ کے ملکوں کے انفراسٹرکچر پر حملوں کی دھمکی 

 ایران کی وزارت خارجہ نے امریکہ پر ملک میں شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا کے “جنگی جرائم”  کرنے کا الزام لگایا، جبکہ تجارتی جہاز رانی اور پڑوسی عرب ریاستوں پر اپنے حملوں کا دفاع اپنے دفاع کی کارروائیوں کے طور پر کیا۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایران کے اندر سڑکوں کے  پلوں اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے کی اپنی دھمکیوں کی تجدید کی۔ تہران نے جمعرات کو  جواب میں یہ دھمکی دی کہ اگر ایران کے سول انفراسٹرکچر پر حملے ہوئے تو ایران خلیج کے خطہ میں سارے انفراسٹرکچر کو تباہ کر دے گا۔ ایرانی وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی مداخلت ایک “اٹوٹ سرخ لکیر” ہے۔

سی این این کے ڈیوس ونکی، سوفی ٹینو، حرا ہمایوں، ڈالیا عبدالوہاب، ایوری شمٹز، بیٹسی کلین اور ایڈا کریمی نے اس رپورٹ میں تعاون کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں