3

  تیل کی قیمتوں کو چین نے کیسے کنٹرول کیا؟ حیران کن قدم نے سب کچھ بدل دیا 

(ویب ڈیسک )امریکہ اور ایران کے درمیان فروری سے جاری شدید جنگ کے پانچ ماہ گزرنے کے باوجود عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں وہ تباہ کن اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا جس کی ماہرین نے پیش گوئی کی تھی۔جنگ کے آغاز پر تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ عالمی سپلائی کی اہم شاہراہ ‘آبنائے ہرمز’ بند ہونے سے تیل 150 سے 200 ڈالر فی بیرل تک جا سکتا ہے، تاہم برینٹ کروڈ کی قیمتیں زیادہ سے زیادہ 126 ڈالر تک پہنچ کر واپس آ گئیں اور اوسطاً 101 ڈالر فی بیرل کے قریب رہیں۔

 تیل کی قیمتیں کنٹرول میں رہنے کی سب سے بڑی وجہ خام تیل کے سب سے بڑے خریدار چین کی پالیسی بنی، چین نے جون تک اپنی خام تیل کی درآمدات گزشتہ ایک دہائی کی کم ترین سطح پر پہنچا دیں۔

 ایندھن کی برآمدات پر پابندیوں، الیکٹرک گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے استعمال اور پیٹروکیمیکل شعبے کی سست روی نے عالمی سطح پر تیل کی طلب کے دباؤ کو کافی حد تک کم کر دیا۔

 یہ بھی پڑھیں:تیل سستا!عالمی منڈی سے بڑی خبر

دنیا کے سب سے بڑے تیل پیدا کرنے والے ملک امریکہ نے اپنی پیداوار اپریل تک 13.93 ملین بیرل روزانہ کی تاریخی سطح پر پہنچا دی، اس کے علاوہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی   کے ساتھ مل کر اپنے ہنگامی سٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو   سے تیل مارکیٹ میں جاری کیا، جس سے سپلائی کی کمی کا خطرہ ٹل گیا۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وقت کے ساتھ امن مذاکرات اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق بیانات نے مارکیٹ میں قیاس آرائیوں کو روکے رکھا، یکلخت بدلتی صورتحال کے باعث عالمی سرمایہ کاروں نے تیل پر بڑے شرطیے داؤ  لگانے سے گریز کیا، جس سے منڈی میں مصنوعی تیزی نہیں آ سکی۔

 سعودی عرب نے آبنائے ہرمز کے متاثرہ راستے کا متبادل تلاش کرتے ہوئے بحیرہ احمر کی ‘ینبع’ بندرگاہ سے تیل کی برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا، جون میں آبنائے ہرمز کے ذریعے سپلائی عارضی طور پر بحال ہونے سے بھی عالمی مارکیٹ کو بڑا سہارا ملا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں