3

کیا بھارت ایک نئی سیاسی تبدیلی کے دہانے پر کھڑا ہے؟

 دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت اس وقت اپنی تاریخ کے ایک ایسے فیصلہ کن موڑ پر کھڑی دکھائی دیتی ہے جہاں ریاست، سیاست، آئین، عدلیہ، میڈیا اور مجموعی سماجی ڈھانچے کے مستقبل سے متعلق بنیادی سوالات ایک بار پھر شدت سے اٹھائے جا رہے ہیں۔

وزیراعظم نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مسلسل انتخابی کامیابیوں نے ہندو توا، جسے عموماً ہندو اکثریتی سیاست سے منسلک نظریہ سمجھا جاتا ہے، کو بھارتی سیاسی بیانیے کا مرکزی محور بنا دیا ہے۔

اس نظریے کے حامی اسے بھارت کی قدیم تہذیبی شناخت اور ثقافتی ورثے کی بحالی کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ تاہم ناقدین کے مطابق ایک واحد، متحد اور ہمہ گیر قدیم بھارتی تہذیب کا تصور برصغیر کی تاریخی ارتقا کو حد سے زیادہ سادہ بنا کر پیش کرتا ہے۔ صدیوں کے دوران برصغیر مختلف مذاہب، ریاستوں، زبانوں، نسلی برادریوں، تجارتی روابط اور تہذیبی تبادلوں کے امتزاج سے تشکیل پایا ہے۔ اس کی تاریخ کسی یکساں اور جامد تہذیب کی نہیں بلکہ ایک مسلسل ارتقا پذیر، متنوع اور کثیرالثقافتی تہذیبی دھارے کی عکاسی کرتی ہے۔ موجودہ ڈیجیٹل اور باہم مربوط دنیا میں متعدد مورخین اور سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ایسی واحد تاریخی شناخت کی تشکیل نہ تو تاریخی حقائق سے مطابقت رکھتی ہے اور نہ ہی سماجی طور پر قابلِ عمل ہے۔ ان کے مطابق اس طرزِ فکر نے بھارت کے آئینی سیکولرازم، مذہبی ہم آہنگی اور وفاقی توازن کو غیر معمولی دباؤ سے دوچار کر دیا ہے۔

سنہ 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد مودی حکومت نے متعدد ایسے اقدامات کیے جنہوں نے نہ صرف بھارت بلکہ عالمی سطح پر بھی سیاسی اور سفارتی حلقوں میں وسیع بحث کو جنم دیا۔ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت (آرٹیکل 370) کا خاتمہ، شہریت ترمیمی قانون (CAA)، یکساں سول کوڈ پر مباحث، مذہبی تبدیلی سے متعلق قوانین، گاؤ رکھشا کے نام پر ہجوم کے تشدد کے واقعات اور مختلف ریاستوں میں “بلڈوزر سیاست” جیسے اقدامات نے ملک میں سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کیا۔ مبصرین کے مطابق اقتدار میں آنے سے قبل بے جی پی کی طرف سے ایودھیا کی بابری مسجد کو گرانے کی پیش دستی اور بعد ازاں زعم حکمرانی میں وہاں رام مندر کی تعمیر کے علاؤہ ہندوستان کے طول ارض میں مساجد گرانے کی مہمات نے بھارت کی سب سے بڑی  مسلمان اقلیت کو دیوار سے لگا کر قومی سلامتی کے لیے سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیئے۔

متعدد سیاسی مبصرین کے مطابق ہندو توا اب محض ایک نظریاتی تحریک نہیں رہا بلکہ انتخابی سیاست، ریاستی اداروں، عوامی بیانیے اور میڈیا کے بعض حصوں پر بھی اس کے نمایاں اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس ماحول میں مسلمان، سکھ، عیسائی، دلت اور بعض مواقع پر اختلافِ رائے رکھنے والے ہندو بھی بڑھتے ہوئے سماجی اور سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ دوسری جانب حکومت اور اس کے حامی ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ قانون تمام شہریوں پر یکساں طور پر نافذ ہوتا ہے اور ایسی تنقید سیاسی محرکات پر مبنی ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں بھارت کی عدلیہ، پولیس، تحقیقاتی اداروں اور میڈیا کی آزادی کے حوالے سے بھی بحث میں اضافہ ہوا ہے۔ سابق ججوں، ریٹائرڈ سول سرونٹس، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے مختلف مواقع پر اداروں کی خودمختاری کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے، جبکہ حکومت مسلسل اس بات پر زور دیتی ہے کہ بھارت کے تمام آئینی ادارے آزاد اور مؤثر انداز میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔

میڈیا کا کردار بھی اس سیاسی تبدیلی کا ایک اہم پہلو بن چکا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مرکزی دھارے کے بعض ٹی وی چینلز حکومتی مؤقف کو زیادہ نمایاں جگہ دیتے ہیں جبکہ اختلافی آوازوں کے لیے گنجائش محدود ہوتی جا رہی ہے۔ آزاد صحافیوں اور ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز نے بھی یہی مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنقیدی صحافت کے لیے ماحول پہلے کی نسبت زیادہ محدود ہو گیا ہے۔ اس کے برعکس حکومتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا آج بھی متنوع، متحرک اور آزاد ہے۔

انتخابی سیاست بھی اس بحث کا ایک اہم پہلو ہے۔ بی جے پی کی مسلسل انتخابی کامیابیوں کی وجوہات میں اس کا مضبوط تنظیمی ڈھانچہ، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا وسیع نیٹ ورک، جدید انتخابی حکمت عملی، مؤثر ڈیجیٹل مہم اور وزیراعظم مودی کی ذاتی مقبولیت کو اہم عوامل قرار دیا جاتا ہے لیکن ان کی اصل طاقت مذہبی عصبیت سے مملو وہ جماعتی آمریت ہے جسے اب ریاستی مقتدرہ کی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔ دوسری جانب کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتیں انتخابی فنڈنگ، ریاستی اداروں کے مبینہ استعمال، بعض علاقوں میں ووٹر رجسٹریشن کے طریقہ کار اور غیر مساوی سیاسی ماحول پر مسلسل سوالات اٹھاتی رہی ہیں۔ یہ متضاد بیانیے آج بھی بھارتی سیاست میں شدید کشمکش کا باعث ہیں۔

کانگریس رہنما راہول گاندھی نے “بھارت جوڑو یاترا” اور “بھارت جوڑو نیائے یاترا” کے ذریعے بی جے پی کے سیاسی بیانیے کا متبادل پیش کرنے کی کوشش کی۔ ان کا مؤقف ہے کہ بھارت کی حقیقی طاقت اس کی آئینی جمہوریت، مذہبی تکثیریت، ثقافتی تنوع اور لسانی رنگا رنگی میں مضمر ہے، نہ کہ اکثریتی سیاست میں۔ ان کے مطابق آئینی اداروں کا تحفظ اور سماجی ہم آہنگی کا فروغ بھارت کے جمہوری مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔

ملک کے مختلف حصوں میں حالیہ عوامی مظاہروں، سیاسی سرگرمیوں اور بے چینی نے ایک بار پھر یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ آیا بھارت ایک نئی سیاسی تبدیلی کے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ اگر یہ عوامی ردِعمل ایک وسیع قومی تحریک کی شکل اختیار کرتا ہے تو بعض تجزیہ نگاروں کے نزدیک یہ 1975 کی ایمرجنسی کے بعد بھارت کی سب سے بڑی جمہوری عوامی بیداری ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم اس کا انحصار عوامی حمایت، اپوزیشن کے اتحاد، ریاستی ردِعمل اور آئینی اداروں کی مضبوطی پر ہوگا۔

تاریخی طور پر بھارت کی اصل قوت اس کی غیر معمولی تہذیبی رنگا رنگی، مذہبی تنوع، وفاقی نظام اور جمہوری روایات رہی ہے۔ اگر بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم کو آئینی طریقہ کار، جمہوری مکالمے اور قانون کی حکمرانی کے ذریعے حل نہ کیا گیا تو اس کے اثرات صرف بھارت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ جنوبی ایشیا کے امن، علاقائی استحکام، معاشی تعاون اور ترقی کے امکانات پر بھی مرتب ہوں گے۔

اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ آئندہ انتخابات میں کون سی جماعت کامیاب ہوگی، بلکہ یہ ہے کہ کیا بھارت اپنی آئینی بنیادوں جمہوریت، وفاقیت، مذہبی آزادی، قانون کی حکمرانی اور تمام شہریوں کے مساوی حقوق کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رکھ پائے گا یا نہیں۔ اسی سوال کا جواب آنے والے برسوں میں نہ صرف بھارت کی سیاسی سمت بلکہ عالمی سطح پر اس کے کردار کا بھی تعین کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں