
(ویب ڈیسک) یورپی یونین نے دیگر کمپنیوں کو دبانے کے لیے مبینہ طور پر سرچ انجن کے شعبے میں بالادستی کو استعمال کرنے پر گوگل پر بھاری جرمانہ عائد کر دیا ہے۔
یورپی کمیشن نے ایک بیان میں بتایا کہ گوگل نے سرچ انجن کی بالادستی کو مسابقت ختم کرنے کے لیے غیر قانونی طریقہ سے استعمال کیا۔ اس جرم کے ثابت ہو جانے پر گوگل کو ایک ارب ڈالر جرمانہ عائد کر دیا ہے۔
بیان میں مزید بتایا گیا کہ اس وجہ سے گوگل پر 89 کروڑ یورو (ایک ارب ڈالرز) جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے۔
یہ اقدام یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی تناؤ میں اضافے کا باعث بنے گا کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جوابی اقدامات کا انتباہ کیا گیا ہے اور یورپی یونین کی تجارتی پالیسیوں کو ‘نامنصفانہ’ قرار دیا ہے۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے اپنی بالادست سرچ انجن کی پوزیشن کو غیر منصفانہ طریقے سے استعمال کرتے ہوئے اپنی شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو زیادہ افراد تک پہنچایا ہے۔
یورپی کمیشن کے سرکاری بیان کے مطابق گوگل نے اپنی سروسز کو سرچ رزلٹس میں اوپر رکھا جبکہ حریف کمپنیوں کی سرسز کو سرچ رزلٹس میں نیچے دھکیل دیا۔
یورپی کمیشن کے ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کے تحت ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنی سروسز کے ساتھ اس طرح کے جانبدارانہ رویئے کا مظاہرہ نہیں کرسکتیں۔ انہیں شفاف، منصفانہ اور غیر امتیازی پالیسیوں پر عملدرآمد کرنا ہوتا ہے۔
یورپی کمیشن نے بتایا کہ اس ک اپنی فیوریٹ کمپنیوں کو سرچ رزلٹس میں اوپر دکھانے کی غیر قانونی حرکت کے ساتھ گوگل نے غیر منصفانہ طور پر ڈویلپرز کو گوگل پلے اسٹور میں صارفین کو متبادل پیمنٹ آپشنز کے بارے میں بتانے سے روکا کیونکہ اس سے گوگل فیس میں کمی آسکتی ہے۔
یہ بھی ڈیجیٹل مارکیٹنگ ایکٹ کی خلاف ورزی ہے جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اجارہ داری قائم کرنے سے روکنا ہے۔
گوگل کو 60 دن میں فیصلے کو ماننا ہوگا ورنہ اس پر مزید جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔
گوگل ن کمپنی نے یورپی کمیشن کے جرمانہ عائد کرنے کے اعلان پر اپنے ردعمل میں کہا کہ “اس فیصلے سے یورپی صارفین کو نقصان پہنچے گا۔”
یاد رہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ یورپی کمیشن نے گوگل کی غیر قانونی پریکٹسز کی وجہ سے اس کمپنی پر بھاری جرمانہ عائد کیا ہے۔
2018 میں یورپی یونین نے گوگل نے اینڈرائیڈ موبائل آپریٹنگ سسٹم کی اجارہ داری پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ بعد میں اس جرمانے سے بچنے کے لئے گوگل کی اپیل کو بھی مسترد کر دیا گیا تھا۔
2017 میں سرچ کے شعبے میں اجارہ داری قائم کرنے پر گوگل پر 2.8 ارب ڈالرز جرمانہ عائد کیا گیا تھا اور 2024 میں اس کیس میں ایپل کو بھی مسترد کر دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی






