3

وزیراعظم اپنا گھر پروگرام میں درخواست دینے والوں کے لئے بڑی خوشخبری آگئی

(ویب ڈیسک)   وزیراعظم کے “اپنا گھر” پروگرام میں درخواست دینے والوں کے لئے وہ خوشخبری آگئی  جس کا انتظار کیا جا رہا تھا۔  ہاؤسنگ قرضے منظور کر لیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے “وزیراعظم اپنا گھر پروگرام” کے تحت کمرشل بینکوں نے 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر لیے ہیں، جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی جاری ہے۔

ایک کروڑ گھروں کی تعمیر میں مدد

وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس میں گفتگو  کرتے ہوئے  بتایا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر  پروگرام پاکستان میں ایک کروڑ  کے لگ بھگ گھروں کی کمی کو پورا کرنے میں مددگار  ہوگا۔ اس پروگرام کے طفیل کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر  قرضوں کی مدد سے اپنے گھر کی ملکیت حاصل کرنے کا موقع ملا ہے۔ 

عدنان پاشا نے بتایا کہ  وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام کے تحت قرض صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر دیا جا رہا ہے۔   وزارتِ خزانہ اس پروگرام میں شریک بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ برداشت کر رہی ہے اور 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس مزید سستا بنایا جا سکے۔

بیس لاکھ اکیٹرک بائیک بانٹنے کا منصوبہ

عدنان پاشا  نے بتایا کہ حکومت ملک میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ بھی رکھتی ہے۔  پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں  ایک سال میں تقریباً 8 ارب ڈالر مالیت کا  پٹرول پھونکتی  ہیں۔پٹرول ماحول کے لئے ضرر رساں ایندھن ہے اور اسے امپورٹ پرنے پر زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے۔  پٹرول کی کنزمپشن میں کمی کے لیے حکومت  الیکٹرک بائیک خریدنے میں دلچسپی رکھنے والے شہریوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ الیکٹرک بائیک خریدنے کیلئے حکومت سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے۔ تاہم  عدنان پاشا نے بتایا کہ الیکٹرک بائیکس کی ملک میں پیداوار اور سپلائی کے مسائل بدستور موجود ہیں۔

زرخیزی سکیم میں 21 بینکوں کا تعاون

انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی سکیم بھی شروع کی ہے، جس کے تحت 21 بینکوں، پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے اشتراک سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔

اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے زرعی قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت اور مؤثریت کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیئے:   تھنڈر سٹارم کہاں اور بارشیں کہاں؛ موسم کی نئی فورکاسٹ آگئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں