3

ہندوتوا کا سیاسی منصوبہ: چالیس برس بعد کامیابیاں ناکامیاں اور مستقبل!

سنہ 1980 کی دہائی کے وسط سے بھارت کی سیاست میں ایک نئی نظریاتی کشمکش نے جنم لیا جس نے آنے والی چار دہائیوں میں پورے ملک کی سیاسی، سماجی اور آئینی سمت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ بہت سے سیاسی مبصرین کے نزدیک 1985 کے بعد ہندوتوا کی سیاست نے ایک منظم منصوبے کی شکل اختیار کی جس کا مقصد بھارت کی سیکولر قومی شناخت کو ایک ہندو قوم پرستانہ ریاستی تصور میں تبدیل کرنا تھا۔ 

لیکن ہندوتوا کا یہ مسلم مخالف منصوبہ چار دہائیوں کی مسلسل کوششوں کے باوجود نہ صرف اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا بلکہ بھارت کے مستقبل کو بھی بے یقینی سے دوچار کر گیا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ اس منصوبے کو مختلف ادوار میں امریکی اور اسرائیلی خفیہ اداروں کی تکنیکی معاونت اور بعض حلقوں کے مطابق مالی حمایت بھی حاصل رہی جس کا پس پردہ محرک بھارت کو ایک ایسی سخت گیر مذہبی ریاست میں تبدیل کرنا تھا جو جنوبی ایشیا میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کر سکے۔

تاہم چالیس برس کی طویل اور صبر آزما جدوجہد کے بعد بھی یہ منصوبہ اپنے مطلوبہ نتائج تو نہ دے سکا مگر اس مہم جوئی سے پیدا ہونے والی تلخیوں نے بھارت جیسے کثیر المذاہب، کثیر النسل اور کثیر اللسانی معاشرے کے سماجی توازن کو بری طرح متاثر کر دیا ، اکثریت کی بالادستی کے خوف نے اقلیتوں کو عدم تحفظ اور دباؤ کی ایسی کیفیت سے دوچار کیا جس نے کمزور طبقات کی وطن کے ساتھ وفاداری کے رشتوں کو کمزور کر دیا، یوں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں سکھوں، مسلمانوں، بدھوں اور عیسائیوں کے دلوں میں حب الوطنی کا جذبہ سرد اور ریاست کے ساتھ اعتماد کا تعلق کمزور پڑتا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:وفاقی آئینی عدالت: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کیخلاف دائر درخواستیں سماعت کیلئے مقرر

شومئی قسمت سے اسی پیچیدہ کشمکش کے دوران ہی بھارت نے قومی وحدت کی علامت اندرا گاندھی جیسی بااثر رہنما کو کھو دیا،جس سے کانگریس جیسی وہ سیکولر جماعت، جس نے مختلف مذاہب اور نسلی و لسانی شناخت رکھنے والے طبقات کو باہم جوڑ کر ایک مربوط قومی شعور میں سمو رکھا تھا، بتدریج اپنی سیاسی حیثیت کھوتی چلی گئی، پھر 21 مئی 1991 کو اندرا گاندھی کے سیاسی جانشین راجیو گاندھی کی سری پیرمبدور ریاست تامل ناڈو میں ایک انتخابی جلسے کے دوران پراسرار خودکش حملے میں ہلاکت نے بی جے پی منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے میدان صاف کر دیا ۔ یہ محض کانگریس کا زوال نہیں تھا بلکہ مملکت کے اس اساسی نظریہ کی موت تھی جس نے آزاد بھارت کو کبھی سیاسی بنیادیں فراہم کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا ۔

 اس سب کے باوجود آج بھارت داخلی طور پر بکھرتا ہوئے اپنے وجود کو سنبھالنے میں سرگرداں ہونے کے علاوہ نہ صرف چین کے مقابلے میں اپنی مطلوبہ پوزیشن حاصل کرنے میں ناکام رہا بلکہ ہندو توا نقطۂ نظر کی بدولت سفارت کاری اور دفاعی استعداد کے بعض پہلوؤں میں پاکستان سے بھی پیچھے کھڑا ہے ۔

اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ مودی کا بھارت اُن تزویراتی توقعات پر بھی پورا نہیں اتر سکا جو بعض مبصرین کے مطابق امریکہ اور اسرائیل اس سے وابستہ کیے ہوئے تھے، اس نقطۂ نظر کے مطابق مغربی طاقتیں مودی حکومت کو پاکستان کے خلاف ایسی طویل محاذ آرائی پر آمادہ کرنا چاہتی تھیں جو بالآخر چین کو بھی جنوبی ایشیا کی جنگی کشمکش میں الجھا دے، تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چین اور پاکستان اس ممکنہ منظرنامے سے پوری طرح باخبر اور اس کے لیے تیار تھے۔

اسی تناظر میں کہا جاتا ہے کہ جب 7 مئی 2025 کو بھارت نے پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کیا تو اسے توقع سے کہیں زیادہ سخت اور غیر معمولی جوابی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا،اس صورتِ حال نے نئی دہلی کی عسکری اور سیاسی قیادت کو یہ احساس دلایا کہ کسی بھی وسیع علاقائی جنگ کی قیمت بھارت کی داخلی سلامتی، معاشی استحکام اور سیاسی مستقبل کے لیے انتہائی بھاری ثابت ہو سکتی ہے۔ چنانچہ بھارتی قیادت نے مغربی طاقتوں کے وسیع تر جغرافیائی و تزویراتی اہداف کی خاطر اپنے ملک کو ایک ایسی طویل جنگ میں جھونکنے سے گریز کیا جس کا انجام غیر یقینی تھا۔

یہی مرحلہ جنوبی ایشیا میں چین کے خلاف امریکی حکمتِ عملی کے تعطل کا نقطۂ آغاز بھی بنا۔ اس کے بعد بعض مبصرین کے خیال میں مغربی حلقوں نے مودی حکومت پر اپنی سابقہ سیاسی سرمایہ کاری پر نظرِ ثانی شروع کر دی شاید اسی پس منظر میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ بھارتی مقتدرہ بھی بتدریج ہندوتوا کی جارحانہ سیاست سے فاصلہ اختیار کرتے ہوئے مودی کو بدلتے ہوئے سیاسی حالات کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی حکمتِ عملی اپنانے پہ مجبور ہوئی ہے۔

علی ہذالقیاس ،بھارت کا آئین، جو 26 جنوری 1950ء کو نافذ ہوا تھا، اپنے دیباچے میں انصاف، آزادی، مساوات اور اخوت کی ضمانت دیتا ہے۔ آئین کی دفعات 14، 15، 19، 21 اور 25 تمام شہریوں کو قانون کے سامنے برابری، اظہارِ رائے، شخصی آزادی اور مذہبی آزادی کا حق دیتی ہیں۔ یہی آئینی ڈھانچہ بھارت کی جمہوری شناخت کی بنیاد سمجھا جاتا ہے، تاہم پچھلی چار دہائیوں میں ریاستی پالیسیوں اور سیاسی بیانیے میں مذہبی شناخت کو غیر معمولی اہمیت دی گئی جس کے نتیجے میں آئینی اصول اور سیاسی عمل کے درمیان فاصلہ بڑھتا چلا گیا۔ 

پہلے1984 میں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد ملک شدید سیاسی بحران سے گزرا۔ اسی زمانے میں رام جنم بھومی تحریک نے زور پکڑا اور پھر راجیو گاندھی کی موت کے بعد 1992 میں بابری مسجدکی شہادت بھارتی سیاست کا ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔ اس واقعے نے نہ صرف ملک گیر فسادات کو جنم دیا بلکہ ہندو مسلم تعلقات میں ایسی دراڑ پیدا کی جس کے اثرات بہت دیر تک محسوس کیے جاتے رہیں گے ۔ بعدازاں گودھرا میں ٹرین کے اندر سینکڑوں مسافروں کو جلانے اور  2002 میں گجرات کے فسادات کی تلخیوں نے نہرو اور گاندھی کے عظیم ہندوستان کا چہرہ لہو لہان کر دیا ۔ شہریت ترمیمی قانون (CAA)، قومی رجسٹر برائے شہریت (NRC) پر ہونے والی بحث اور مختلف ریاستوں میں مذہبی تبدیلی، گاؤ کشی اور کشمیر سمیت دیگر ریاستوں کے خلاف بلڈوزر کارروائیوں جیسے اقدامات نے اس تاثر کو مزید تقویت دی کہ بھارت میں اکثریتی قوم پرستی ریاستی پالیسی کا اہم جز وبنتی جا رہی ہے۔چنانچہ گھٹن کے اس ماحول نے بھارتی معاشرے میں علیحدگی پسندی کے رجحان کی حوصلہ افزائی کی جس کے بعد سیکولر سیاسی جماعتوں کی لچکدار پالیسیوں کے نتیجے میں ہموار ہو جانے والے نسلی، لسانی اور مذہبی تنازعات کی دھار پھر سے تیز ہونے لگی۔  

ہندوتوا کی سیاست کا ایک اعلانیہ مقصد بھارت کو مضبوط اور فیصلہ کن عالمی طاقت کے طور پر پیش کرنا تھا۔ ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اس پالیسی نے بھارت کو معاشی، عسکری اور سفارتی سطح پر نئی طاقت عطا کی جبکہ ناقدین کا استدلال ہے کہ داخلی تقسیم نے اس کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ ان کے مطابق کسی بھی ریاست کی اصل طاقت صرف عسکری وسائل یا معاشی اشاریوں سے نہیں بلکہ داخلی اتحاد، آئینی استحکام اور شہریوں کے اعتماد سے جنم لیتی ہے۔

حقیقت بھی یہی ہے کہ بھارت کی سب سے بڑی طاقت ہمیشہ اس کا تنوع رہا ہے۔ دنیا میں شاید ہی کوئی دوسرا ملک ہو جہاں اتنی بڑی تعداد میں مذاہب، زبانیں، ثقافتیں اور نسلیں ایک ہی آئینی ڈھانچے کے اندر آباد ہوں یہی تنوع اس کی جمہوری طاقت اور عالمی سفارت کاری کا لچکدار ٹول تھا، انڈیا کے عالمی تعلقات میں ان کی اقلیتوں کا کردار نہایت اہم تھا، خاص کر بھارتی مسلمانوں نے مڈل ایسٹ کے مسلم ممالک کے ساتھ بھارت کے سفارتی تعلقات کو متوازن بنانے میں ناقابل فراموش کردار ادا کیا لیکن اگر کسی بھی معاشرے میں ایک طبقہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے تو قومی یکجہتی کمزور ہونے لگتی ہے۔ سکھ، مسلمان، عیسائی، بدھ، جین اور دیگر اقلیتوں کے تحفظات اسی تناظر میں زیرِ بحث آتے ہیں ۔ اگرچہ ان طبقات کے اندر رائے یکساں نہیں لیکن مختلف اوقات میں امتیازی سلوک اور نفرت انگیز واقعات پر تشویش کا اظہار ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ہوتا رہا ہے۔

جس طرح کانگریس، جس نے آزادی کی تحریک کی قیادت کی اور آزاد بھارت کی ریاستی بنیاد رکھی تھی ، کو سکھوں کے مذہبی مقام گولڈن ٹیمپل پر فوجی کارروائی کے دوران جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کی موت لے ڈوبی تھی اسی سے پیدا ہونے والے خلا سے تو بھارتیہ جنتا پارٹی نے فائدہ اٹھایا لیکن وہ کانگریس کے انجام سے سبق حاصل کرنے میں ناکام رہی ۔ بی جے پی نے بھی ہندوتوا کو اپنی سیاسی شناخت کا بنیادی ستون بنا کر اقلیتوں خاص کر مسلمانوں کو دیوار سے لگا دیا، اس تبدیلی نے بھارتی سیاست کے نظریاتی توازن کو یکسر بدل دیا۔ اب سیاسی مقابلہ صرف جماعتوں کے درمیان نہیں بلکہ دو مختلف قومی تصورات کے درمیان دکھائی دیتا ہے؛ ایک سیکولر، کثیرالثقافتی بھارت کا تصور اور دوسرا مذہبی قوم پرستی پر مبنی ریاست کا تصور۔

آج بھی بھارت میں قانونی سطح پر قومی سلامتی ایکٹ (NSA)، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کا قانون (UAPA) اور دیگر سخت قوانین کا اقلیتوں کے بعد سیاسی مخالفین کے خلاف جارحانہ استعمال پر بحث جاری ہے۔ آج بھی انسانی حقوق کے کارکن ، وکلاء اور کئی سابق جج بارہا اس خدشے کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں کہ قومی سلامتی کے قوانین کا استعمال صرف حقیقی سلامتی کے خطرات تک محدود رہنا چاہیے اور انہیں سیاسی اختلاف یا پرامن احتجاج کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ جمہوری معاشروں میں احتجاج اور اختلافِ رائے کو آئینی حق تصور کیا جاتا ہے، بشرطیکہ وہ پرامن ہو۔

اس پورے منظرنامے کا سب سے اہم سبق یہی ہے کہ کسی بھی کثیرالمذہبی اور کثیرالسانی ریاست کا استحکام طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور تمام شہریوں کے اعتماد سے قائم رہتا ہے۔ اگر اکثریت اور اقلیت کے درمیان اعتماد کی خلیج بڑھتی جائے تو ریاست کی داخلی قوت کمزور ہوتی ہے، چاہے اس کی فوج کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو۔

آنے والے برسوں میں بھارت کے سامنے اصل چیلنج چین، پاکستان یا کسی بیرونی طاقت سے زیادہ اپنی داخلی ہم آہنگی، آئینی توازن اور سماجی اعتماد کی بحالی ہوگا۔
 کاکروچ پارٹی کے نہ تھمنے والے احتجاج کے بعد بنگلہ دیش کی مانند بھارت میں بھی آج رجیم چینج کی گونج سنائی دے رہی ہے اور عام خیال یہی ہے کہ بھارتی ریاستی اسٹیبلشمنٹ کی اجتماعی خواہش ایک بکھرتے ہوئے معاشرے کو سنبھالنے کے لیے اب مودی مخالف بیانیے کی گونج میں اُن تمام زخم خوردہ طبقات کو دوبارہ قومی وحدت کی لڑی میں پرونے کی کوشش کر رہی ہے جو ہندوتوا کی نفرت، تشدد اور تقسیم پر مبنی سیاست کے باعث ریاست سے بدظن ہو چکے ہیں؟

کیا وہ سماجی اور قومی زندگی میں پڑ جانے والی ان گہری دراڑوں کو بھر پائے گی جنہوں نے بھارتی معاشرے کی ہم آہنگی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا؟ اگر نریندر مودی کی سیاسی بالادستی ختم ہو جائے یا ہندوتوا کی موجودہ سیاسی قوت کمزور پڑ جائے، تو کیا مسلمانوں، سکھوں، دلتوں اور دیگر محروم طبقات کا ریاست پر اعتماد دوبارہ بحال ہو سکے گا؟

سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا بھارت چار دہائیوں پر محیط ہندوتوا کی اس نظریاتی راہ سے واپس پلٹنے کی سیاسی صلاحیت رکھتا ہے؟ کیا اتنے گہرے، پیچیدہ اور تہہ در تہہ سیاسی، سماجی اور مذہبی تنازعات کو آئینی اداروں، جمہوری عمل اور قومی مفاہمت کے ذریعے منظم اور حل کیا جا سکتا ہے یا یہ تقسیم اب اس حد تک گہری ہو چکی ہے کہ اس سے نکلنے میں نسلوں کا وقت درکار ہوگا؟

یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات صرف بھارت کی آئندہ سیاست ہی نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے مستقبل کا تعین بھی کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں