
(ویب ڈیسک)عالمی منڈی میں منگل کے روز خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً ایک فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ سرمایہ کار امریکا کی جانب سے ایران پر حملوں میں عارضی وقفے اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت کا جائزہ لے رہے ہیں۔
برینٹ کروڈ کی قیمت 54 سینٹ (0.6 فیصد) کمی کے بعد 86.80 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 66 سینٹ (0.8 فیصد) کمی کے ساتھ 80 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
رپورٹس کے مطابق دونوں معاہدوں کی قیمتیں ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران تقریباً ایک فیصد تک گر گئیں، جو ایک ہفتے سے زائد عرصے کی کم ترین سطح تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ “مثبت بات چیت” جاری ہے اور تنازع کے سفارتی حل کا امکان موجود ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکی حملے دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں۔ دوسری جانب ایران نے بھی جوابی کارروائی کے امکان کا اظہار کیا ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال نے مشرق وسطیٰ میں توانائی کی ترسیل سے متعلق خدشات کو وقتی طور پر کم کیا ہے، تاہم خطے کی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیرانتخابات:پہلے مرحلے میں مسلم لیگ (ن) کو برتری حاصل ، پیپلز پارٹی کا دوسرا نمبر
ادھر یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اور سعودی حمایت یافتہ حکومت کے نامزد وزیر خارجہ افراح الزوبہ نے کہا کہ حوثی باغی باب المندب میں بھی آبنائے ہرمز جیسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حوثیوں کی مکمل ناکہ بندی کی صلاحیت پر سوالات موجود ہیں، لیکن بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
بارکلیز کے تجزیہ کاروں کے مطابق 24 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران آبنائے ہرمز سے خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی یومیہ خالص برآمدات تقریباً 2.9 ملین بیرل رہیں، جو اس سے پہلے ہفتے کے 5.9 ملین بیرل کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہیں۔
دوسری جانب ابتدائی سروے کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل اور پیٹرول کے ذخائر میں کمی جبکہ ڈیزل اور دیگر ڈسٹلیٹ ایندھن کے ذخائر میں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔






