
(24 نیوز)کے ٹو ائیرویز کارگو طیارہ حادثے کی تحقیقات کے لیے بین الاقوامی ڈیپ سی سرچ ٹیم کی اگست کے وسط سےاگست کے آخر تک پاکستان آمد متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق جدید آلات ڈائیونگ بیل،ائیربیگس اور ریموٹ وہیکل سمیت دیگرسے لیس خصوصی ڈائیورز انتہائی گہرے سمندر میں سالویج آپریشن کریں گے،عملے، انجن، فیوزلاج اور بلیک باکس کی تلاش پر خطیر اخراجات متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈیپ سی سرچ آپریشن پر 10 ملین ڈالر (تقریباً 2 ارب 78 کروڑ روپے) لاگت آنے کا امکان ہے،طیارہ ساز کمپنی اور انشورنس کمپنی بھی ملبے اور حقائق کی تلاش میں متحرک ہے، سمندر میں تباہ ہونے والا کارگو طیارہ آئرلینڈ کی کمپنی کی ملکیت تھا۔
ذرائع کے مطابق راجہ طارق اور دیگر شیئرہولڈرز نے طیارہ ڈرائی لیز پرحاصل کیا تھا، انشورنس کلیم کی رقم آئرلینڈ کی ملکیت رکھنے والی کمپنی کو ادا کی جائے گی، بین الاقوامی قوانین کے تحت متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دیا جائے گا،طیارے کے مالک طارق راجہ متعدد رابطوں کے باوجود تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش نہ ہوئے۔
ذرائع کے مطابق دبئی میں مقیم طارق راجہ نے میڈیکل گراؤنڈ پر پیشی سے معذرت کر لی ہے، طارق راجہ زوم کے ذریعے تحقیقاتی حکام سے رابطے میں رہیں گے، بیورو آف ائیرکرافٹ سیفٹی انویسٹی گیشن اگست کے پہلے ہفتے میں اب تک کی پیش رفت کی عبوری رپورٹ حکومت پاکستان کو پیش کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں :چیئرمین قائمہ کمیٹی مواصلات برہم، موٹروے پولیس کو نکاح نامے چیک نہ کرنے کی ہدایت






