
1۔ آج دنیا کو بے لگام یکطرفه پن کے پھیلاؤ، اقوام متحده کے بنیادی اصول کی کمزوری، طاقت کے غیرقانونی استعمال، یکطرفه اور بلاجواز پابندیوں کے نفاذ اور معاشی اور مالیاتی میکانزم کا سیاسی دباؤ ڈالنے کے لیے بطورِ هتھیار استعمال جیسے تاریخی چیلنجز کا سامنا هے،بین الاقوامی نظام کے ممبرز بالخصوص حکومتوں کے لیے اس نظام کے حقیقی کرداروں کی حیثیت سے ضروری هے که کثیرالجهتی، قومی خودمختاری کے احترام، حکومتوں کی برابری اور بین الاقوامی تعلقات میں قانون کی حکمرانی (کے اصولوں) کا دفاع کریں۔
2۔ ایرانی قوم نے جون 2025 سے اب تک اپنے سب سے تلخ اور کڑوے دنوں کا تجربه کیا هے۔ اسلامی جمهوریه ایران کے سب سے بڑے سیاسی اور مذهبی عهدیدار کے طور پر رهبر معظم انقلاب اسلامی کی شهادت، میناب سکول پر گھناونا حمله اور 168 طالب علم بچوں کی شهادت، امریکه کی طرف سے صوبه فارس کے شهر لامرد پر جدید ترین مهلک هتھیاروں اور کلسٹر میزائیلوں کا تجربه اور اس شهر کے بے گناه لوگوں کا اندھا قتل، علاج اور صحت کے مراکز اور علمی مقامات اور یونیورسٹیوں پر حمله اور ان جرائم کا تسلسل اس بات کی نشانی هے که جب ایک سپر پاور سرکش هو جاتی هے تو بین الاقوامی امن و امان خطرے میں پڑ جاتا هے۔
3۔ امریکی حکومت نے جنگ مسلط کرکے، ایران کے ساتھ کئی دور پر مشتمل مذاکرات کو بند گلی میں دھکیل دیا هے۔ پاکستان کی خطے میں امن و امان واپس لانے کے لیے ثالثی کی کوششیں قابل تحسین هیں اور ایران اس اهم کردار کا احترام کرتا هے۔ یه بات بهت واضح هے که همیشه ایک فریق جنگوں کا آغاز کرتا هے مگر ان کے اختتام کے لیے، دو فریقوں کا کردار اور موجودگی ضروری هے۔ امریکیوں نے جنگ مسلط کی اور اگر وه اس کا خاتمه چاهتے هیں تو ضروری هے که پاکستانی مفاهمت کی یادداشت کا احترام کریں اور انهیں اپنے لکھے هوئے قواعد کے ذریعے ایران پر امن مسلط کرنے کے در پے نهیں هونا چاهیئے۔ مگر ظاهری طور پر ریاست هائے متحده امریکه چاهے جنگ چاهے امن کے ذریعے هو ایران پر اپنی خواهشات مسلط کرنے کے در پے هے۔ ایک نیام میں دو تلواریں نهیں هو سکتیں۔ امریکی ساری چیزیں ایک ساتھ چاهتے هیں اور سامنے والے فریق کے لیے کسی مقام و مرتبے کے قائل نهیں هیں۔ پاکستانی مفاهمت کی یادداشت کی شرائط کی واضح خلاف ورزی، ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے، پینے والے پانی کی تنصیبات، ماهی گیری کی کشتیوں، مقامی تجارتی جهازوں، موسمیات کے مراکز اور دوسری سویلین تنصیبات پر حملوں کا جاری رهنا، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے کھلے مصداق اور منه زوری کی پالیسی اور بین الاقوامی وعدوں سے بے اعتنائی کی پالیسی کے تسلسل کی واضح مثالیں هیں۔ اسلامی جمهوریه ایران اپنی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے اپنے پخته عزم پر زور دیتا هے۔
4۔ امریکی حکومت ایک ناقابل اعتماد اور قانون مخالف حکومت هے اور بین الاقوامی قوانین، ضوابط اور معاهدوں کی پابند نهیں هے اور اسی وجه سے سیاسی امور کے بهت سے تجزیه نگار اس بات پر یقین رکھتے هیں که بین الاقوامی برادری کے استحکام کے لیے مغربی ایشیاء کے علاقائی مسائل پر امریکه کا رویه خطرناک هے۔ جیسا که مسٹر ٹرمپ نے گذشته سال سے امریکه کی فتح اور ایران کی عسکری فورسز کی شکست پر مبنی خیال پیش کیا هے وه صرف ایک اسٹریٹجک سراب هے اور مسٹر ٹرمپ کی خود کو تباه کرنے والی پالیسیوں کا جاری رهنا، امریکه کو ایک گهری دلدل میں داخل کرے گا اور یه ظاهر کرتا هے که انهیں ایران کی تاریخ اور قوم کی درست پهچان اور سمجھ بوجھ نهیں هے۔ امریکه کی آبنائے هرمز کے سیکیورٹی اور بحری انتظامات کے نفاذ کے عمل میں براه راست مداخلت اور دوباره بحری ناکه بندی نے ایک دفعه پھر دنیا کی سب سے اهم اسٹریٹجک آبی گذرگاه کی سیکیورٹی کو خطرے میں ڈال دیا هے اور بین الاقوامی تجارتی شپنگ کی معمول کے بهاؤ میں خلل کا سبب بنا هے۔
5۔اسلامی جمهوریه ایران کی اصولی پالیسی همیشه بات چیت، سفارتکاری، اچھی همسایگی اور علاقائی تعاون پر مبنی رهی هے۔ همارا اب بھی یه ماننا هے که پائیدار امن اس وقت قابلِ حصول هو گا جب جارحیت، قبضه، دھمکی اور دوغلے معیارات کی جگه باهمی احترام، بین الاقوامی قانون پر غیرجانبدارانه عمل درآمد اور بین الاقوامی وعدوں کی حقیقی پابندی لیں گے۔
6۔ اگرچه یادداشت اسلام آباد پر دونوں ملکوں ایران اور امریکه کے صدور کی طرف دستخط هوئے تھے مگر علاقائی اور همسایه ممالک خاص طور پر خلیج فارس کے جنوبی علاقے کے عرب ممالک کے لیے امریکی حکومت کے “مشرق وسطی کے اتحادیوں” کے طور پر اس یادداشت کی شق نمبر ایک اور دو کی بنیاد پر ضروری هے که وه جنگ کے فوری اور مستقل خاتمے اور امن کو قائم کرنے اور اسکو برقرار رکھنے کے لیے تعاون کریں۔ یه ممالک مت بھولیں که انکی سرزمین اسلامی جمهوریه ایران کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال هوئی هے اور یه جارحیت ابھی تک جاری هے۔ یه که ان ممالک کی سرزمین امریکه کے اختیار میں دی گئی یا یه که امریکه نے ان ممالک کی اجازت کے بغیر انکی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال کیا، اس سے کوئی فرق نهیں پڑتا کیونکه آخر کار ان کی صلاحیتوں اور سهولیات میں سے همارے خلاف استعمال کیا گیا هے۔ اسی وجه سے یه ممالک ایران کے خلاف جنگی محاذ کا ایک حصه هیں اور ضروری هے که وه بھی پاکستانی یادداشت کے ساتھ وفادار رهیں۔
7۔ ریاست هائے متحده امریکه کی سینٹکام کے کمانڈر بریڈ کوپر نے صراحتاً خلیج تعاون کونسل کے چند ملکوں اور اردن کی ایران کے خلاف ریاست هائے متحده امریکه کی عسکری جارحیت میں شراکت داری کا اعلان کیا هے۔ اگر یه دعوی محض ایک جھوٹ هے تو ضروری هے که یه ممالک رسمی اور شفاف انداز میں اسے رد کریں۔ خطے میں عدم تحفظ اور بھڑکتی آگ کی صورتحال، ایران کے خلاف مسلسل جارحیت کی خصوصی پروڈکٹ هے اور افسوس کے ساتھ کچھ ممالک کی سرزمین عدم استحکام پیدا کرنیوالے ان اقدامات کی خدمت میں حاضر هے اور اسلامی جمهوریه ایران اپنے دفاع کے لیے جائز دفاع کا حق رکھتا هے۔
8۔ هم امید کرتے هیں که همسایه ممالک یه مشترکه سمجھ بوجھ رکھیں گے که جو اقدامات ایران کر رها هے وه خطے کے ممالک کے ساتھ دشمنی کی وجه سے نهیں هیں۔ هم سب یه مانتے هیں که هم همسایے هیں اور همسایه هی رهیں گے۔
ایران نے بارها “مضبوط خطے” کی منطق پر زور دیا هے اور اس کا ماننا هے که سارے خطے کو ایک طاقتور خطے میں تبدیل هونا چاهیئے؛ وه خطه جو که اپنے مسائل اور مشکلات بیرونی فورسز کی احتیاج کے بغیر حل کر سکے جو که خود عدم استحکام اور عدم تحفظ کی وجه هیں۔
یه خطه، ایک مشترکه خطه هے اور اسکی سیکیورٹی سب ممالک سے تعلق رکھتی هے اور سب کو چاهئیے اس کے امن و سلامتی اور خوشحالی کو وجود میں لانے اور برقرار رکھنے کی کوشش کریں۔
یہ بھی پڑھیں : ون ڈے سیریز میں ہمارا آغاز اچھا تھا,ہارنے پر مایوسی ہوئی ہے; کپتان فاطمہ ثنا






