
(ویب ڈیسک)ایرانی میزائل حملے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ ہوگیا۔
عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 2.71 ڈالر اضافے کے بعد87.70 ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 2.26 ڈالر اضافے کے ساتھ 82.80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
رائٹرز کے مطابق امریکی خام تیل کے ذخائر میں گزشتہ ہفتے تقریباً 33 لاکھ بیرل کی کمی نے قیمتوں کو سہارا دیا۔ یہ اعداد و شمار امریکن پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ (API) کے حوالے سے سامنے آئے ہیں، جبکہ سرکاری اعداد و شمار امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) کی جانب سے بعد میں جاری کیے جائیں گے۔
رپورٹ کے مطابق اوپیک پلس اکتوبر سے تین ماہ کے لیے تیل کی پیداوار میں اضافے کا عمل روکنے پر غور کر رہا ہے، جس سے بھی عالمی منڈی میں قیمتوں کو تقویت ملی ہے۔
ادھر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹ کے خدشات بھی تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں تاہم منگل کے روز جنگ بندی کی کوششوں اور سفارتی رابطوں کی خبروں کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد کمی دیکھی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:دوسری جنگ بندی کے بعد پہلی بار ایران کا امریکی اڈوں پر حملہ، آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھ گئی
رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مثبت بات چیت کا دعویٰ کیا ہے تاہم مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں مزید فوجی کارروائی کی دھمکی بھی دی، دوسری جانب ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی خبروں کی تردید کی ہے۔
دریں اثنا، رائٹرز نے خلیجی ذرائع اور ایک مغربی سفارتکار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ عمان نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو معمول پر لانے کے لیے ایران کو ایک تجویز پیش کی ہے، جس کے تحت گزرنے والے جہازوں سے رضاکارانہ فیس وصول کرنے کا نظام متعارف کرانے کی تجویز شامل ہے۔ اس منصوبے کی خلیجی ممالک کی حمایت بھی حاصل ہے۔






