
آج کل اسلام آباد میں والی بال کے بہت چرچے ہیں، کیوں نہ ہوں چرچے آخر پاکستان والی بال ٹیم نے اتنی شاندار اور زبردست پرفارمنس دکھائی ہے کاوا چیمپیئن شپ میں ، کاوا یعنی سینٹرل ایشیئن والی بال چیمپئن شپ جس کا انعقاد اسلام آباد سپورٹس کمپلیکس کے لیاقت جمنازیم میں ہوا، چھ ٹیموں نے اس چیمپیئن شپ میں شرکت کی جن میں پاکستان سمیت سری لنکا ، بنگلادیش، نیپال، ازبکستان اور قازقستان کی ٹیمیں شامل ہیں، پاکستان ٹیم چیمپیئن شپ کے آغاز سے ہی ہر ٹیم کے لیے طوفان ثابت ہوئی، کپتان جہان مراد کی قیادت میں پاکستان ٹیم نے حیران کن کھیل پیش کیا اور ہر ٹیم کو تین صفر سے شکست دی یعنی چوتھے اور پانچویں سیٹ کے کھیل کی نوبت ہی نہ آئی، ہر دن دیگر ممالک کی ٹیمیں اس عزم کے ساتھ میدان میں آتی تھیں کہ آج تو پاکستان کی شکست یقینی بنائیں گے لیکن پاکستان ٹیم کے اتحاد اور گیم اسٹریٹجی نے مخالف ٹیموں کے ارادوں پر ہمیشہ پانی پھیرا، پاکستان کے ساتھ کھیلنے والی تمام ٹیمیں شکست سے دوچار ہوتی رہیں، پاکستانی سمیشرز کے چونکا دینے والے سمیشز نے مخالف کھلاڑیوں پر اپنی دھاک بٹھا دی اور ناقابل شکست پاکستان فائنل میں بھی بنگلادیش کو تین صفر سے شکست دے کر گولڈ میڈل کا حقدار بنا۔
پاکستان ٹیم میں جو کھیل کے میدان میں اتحاد نظر آ رہا تھا وہ یقیناً پاکستان کی کرکٹ ٹیم سے کہیں زیادہ تھا، ٹیم کے ہر کھلاڑی نے اپنی بیسٹ پرفارمنس دی جن میں مراد خان وزیر، مصور، کاشف، عثمان ، خضر اور دیگر تمام کھلاڑی شامل ہیں، کوئی ایسا کھلاڑی نہیں تھا جس کے بارے کہا جائے کہ یہ ٹیم میں رہنے کا حقدار نہیں، اور یقیناً ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔
جی جان لگا کر پاکستان کا نام روشن کرنے اور گولڈ میڈل لانے والی ٹیم حکومت سے ہمیشہ کچھ اچھے کی امید رکھتی ہے اور ایسی ہی امید کپتان جہان مراد کی بھی ہے جنہیں فخر بنوں کہا جاتا ہے ، بنوں سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے اور وہ کسی بڑی رقم کا نہیں نا ہی کسی دیگر مراعات کا ہے بلکہ مطالبہ یہ ہے کہ امن دیا جائے، بنوں کے عوام کی زندگی میں سکون لایا جائے خیبرپختونخوا میں امن لایا جائے، کپتان جہان مراد نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آپ جتنی ٹرافیاں کہیں گے ہم لا دیں گے، ہم پاکستان کا نام روشن کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں لیکن ہمیں صرف اس کے بدلے بنون میں امن دیا جائے، انکا شکوہ ہے کہ خراب حالات اور بد امنی کی وجہ سے اب وہ دو دو ہفتے گھر نہیں جا پاتے، مائیں بہنیں ڈری سہمی ہوئی ہیں فون کر کے کہتی ہیں کہ گھر نا آنا کیونکہ انہیں اپنے بیٹوں کی زندگیاں عزیز ہیں، لیکن وہ بیٹے کیا کریں جو اپنی ماؤں بہنوں کے لیے اپنی فیملی کے لیے پریشان ہیں اس لیے بس ٹرافی لو امن دو۔
پاکستان کے اس نوجوان کھلاڑی کا کوئی ناجائز مطالبہ نہیں، یہ نوجوان اپنے علاقے کے مسائل کے باوجود آنے والی ایشیئن گیمز کے لیے والی بال ٹیم کے ساتھ ابھی سے گولڈ میڈل کی تیاری کر رہا ہے، اولین ترجیح اب بھی پاکستان ہے جس کا نام ہمیشہ سنہری حروف میں دیکھنا چاہتے ہیں لیکن مطالبہ بس ایک امن صرف امن.
نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر






