
(24نیوز) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ موجودہ نظام کو ری سیٹ کرنے کی ضرورت ہے،جمہوریت کا سب سے بڑا حامی ہوں لیکن اس کے بھی کئی اقسام ہیں،مسائل کے حل کیلئےنئے انتظامی یونٹ اور نئی لیڈرشپ کی ضرورت ہے۔
اسلام آباد میں پہلی مرتبہ ’’پاکستان اکنامک سمٹ‘‘ کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے ماہرینِ اقتصادی امور سمیت وفاقی وزرا،سیاسی قیادت نے شرکت کی۔
سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ 10 سال بعد بھی یہی مسائل ہوں گے ، نظام کولیپس کرچکا ہے آپ مانے یا نہ مانے، دہائیوں سے اس نظام میں پھنسے ہوئے.
ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کا سب سے بڑا حامی ہوں لیکن اس کے بھی دو تین اقسام ہیں،جمہوریت کی روح میں رہ کر اس نظام کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے،انہوں نے بزنس مین کو مخطب کرتے ہوئے کہا کہ اس سیاسی نظام کو چلانے والے یہاں موجود ہیں، سارے فنڈ کرنے والے کسی نہ کسی طریقے سے اس نظام کو چلا رہا ہے، جس دن آپ لوگوں نے فیصلہ کیا کہ ہم نے اس کو ٹھیک کرنا تو یہ نظام ٹھیک ہوجائے گا۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ عام آدمی کو انصاف ، روزگار ، تعلیم چاہئے، آپ ان نواجوان کو جو بھی نام دے خواہ آپ ان کو کاکروچ کہے،جس دن یہ اکٹھے ہوگئے اس نظام کو گرادیں گے، اس سے پہلے کچھ کرنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ میاں عامر کی پریزنشٹیشن کو غور سے سنا ہے، اس ایڈمنسٹریشن کو عوام تک لے کر جانے کی ضرورت ہے، آپ جو کوشش کررہے ہیں اس کیلئے نئی لیڈرشپ کی ضرورت ہے،نئے صوبے ہی مسائل کا حل ہے، جب تک تمام سٹیک ہولڈرز اکھٹے نہیں بیٹھیں گے یہ ملک کبھی ترقی نہیں کرسکتا۔
چیئرمین یونائیٹڈ بزنس گروپ ایس ایم تنویر نے پاکستان اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کاروباری طبقے کو سازگار ماحول دیا جائے تو وہ 100 ارب ہی نہیں بلکہ 200 ارب ڈالر تک برآمدات بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل بہتری کیلئے بھرپور محنت کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تیل، سونے اور دیگر قدرتی وسائل سے مالا مال ہے،اس کے باوجود قرضوں پر انحصار ہے ، بڑھتے تجارتی خسارے پر قابو پانے، غربت اور درآمدات میں کمی لانے کیلئے پالیسیوں کے تسلسل اور کاروباری برادری پر اعتماد کی ضرورت ہے۔






