1

نئے انتظامی یونٹس اور نئے صوبے: وقت کی ضرورت یا سیاسی بحث؟

پاکستان میں انتظامی اصلاحات، نئے انتظامی یونٹس اور نئے صوبوں کے قیام کا موضوع ایک بار پھر قومی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے ملک میں نئے انتظامی یونٹس یا مزید صوبوں کے قیام سے متعلق مؤقف نے اس بحث کو نئی جہت دی ہے۔ اس مؤقف کی پاکستان بار کونسل کی جانب سے بھرپور حمایت اس بات کا اظہار ہے کہ اب یہ معاملہ صرف سیاسی نہیں بلکہ انتظامی، آئینی اور عوامی مفاد سے بھی جڑ چکا ہے۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین پیر مسعود چشتی نے اس حوالے سے جس انداز میں اپنی رائے کا اظہار کیا، وہ قابلِ غور ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں انتظامی اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں اور اختیارات کی منصفانہ تقسیم ہی حقیقی جمہوریت کی بنیاد ہے۔ درحقیقت دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بہتر طرزِ حکمرانی کا انحصار مضبوط اور مؤثر انتظامی ڈھانچے پر ہوتا ہے، جہاں عوامی خدمات بروقت اور مقامی سطح پر فراہم کی جاتی ہیں۔

پاکستان اس وقت آبادی کے لحاظ سے دنیا کے بڑے ممالک میں شامل ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں آبادی میں غیر معمولی اضافہ ہوا، لیکن انتظامی ڈھانچہ تقریباً وہی ہے۔ ایک صوبائی حکومت کے لیے کروڑوں افراد کے مسائل، ترقیاتی منصوبے، امن و امان، صحت، تعلیم اور انصاف کے نظام کو یکساں مؤثر انداز میں چلانا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئے انتظامی یونٹس یا نئے صوبوں کی تجویز محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی ضرورت کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا مؤقف اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ انتظامی معاملات کا عملی تجربہ رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق عوام تک ریاستی خدمات کی مؤثر رسائی کے لیے انتظامی ڈھانچے کا ازسرِنو جائزہ لینا وقت کی ضرورت ہے۔ اگر اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا جائے اور انتظامی اکائیاں عوام کے قریب ہوں تو حکومتی فیصلوں پر عملدرآمد کی رفتار میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔

پاکستان بار کونسل کی حمایت اس بحث کو مزید تقویت دیتی ہے۔ وکلاء برادری آئین، قانون اور ریاستی نظام کو قریب سے سمجھتی ہے۔ پیر مسعود چشتی کا یہ کہنا کہ مضبوط انتظامی ڈھانچہ دہشت گردی سمیت دیگر داخلی چیلنجز سے نمٹنے میں بھی معاون ثابت ہوگا، زمینی حقائق سے مطابقت رکھتا ہے۔ جہاں انتظامیہ عوام کے قریب ہو، وہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور انصاف کی فراہمی نسبتاً بہتر ہوتی ہے۔

دنیا کے کئی ممالک نے وقت کے ساتھ اپنی انتظامی تقسیم میں تبدیلیاں کیں تاکہ عوامی ضروریات کے مطابق حکمرانی کا نظام بہتر بنایا جا سکے۔ پاکستان میں بھی ماضی میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس پر مختلف ادوار میں بحث ہوتی رہی ہے، مگر اس معاملے پر قومی اتفاقِ رائے پیدا نہ ہو سکا۔ اب جبکہ آبادی، شہری مسائل، انفراسٹرکچر، وسائل کی تقسیم اور امن و امان جیسے چیلنجز بڑھ رہے ہیں، اس موضوع پر سنجیدہ اور تعمیری مکالمے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔

یقیناً نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا قیام آسان عمل نہیں۔ اس کے لیے آئینی تقاضے، سیاسی اتفاقِ رائے، مالی وسائل اور مؤثر منصوبہ بندی درکار ہوگی۔ تاہم اس اہم قومی معاملے پر جذبات کے بجائے دلیل، آئین اور عوامی مفاد کی بنیاد پر فیصلہ ہونا چاہیے۔

اگر ان اصلاحات کا مقصد صرف عوام کو بہتر حکمرانی، تیز رفتار انصاف، مؤثر انتظامیہ، بہتر سروس ڈلیوری اور وسائل کی منصفانہ تقسیم فراہم کرنا ہو تو اس پر قومی سطح پر سنجیدہ غور و فکر کیا جانا چاہیے۔ پاکستان بار کونسل کی حمایت بھی اسی سوچ کی عکاس ہے کہ ریاستی اداروں کو مضبوط، مؤثر اور عوام دوست بنانے کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ مضبوط پاکستان کے لیے مضبوط انتظامی نظام بنیادی ضرورت ہے۔ اگر نئے انتظامی یونٹس یا نئے صوبے عوامی سہولت، بہتر گورننس، مؤثر ریاستی نظام اور قومی یکجہتی کا ذریعہ بن سکتے ہیں تو اس موضوع پر کھلے ذہن کے ساتھ قومی مکالمہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں