1

ارتکازِ اختیار ریاستی استحکام اور اصلاح احوال کی راہ میں حائل ہے ؟

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان، جس میں انہوں نے موجودہ سیاسی و انتظامی نظام کی فرسودگی کی جانب اشارہ کیا، نے قومی سلامتی، ریاستی استحکام اور ملک کے مستقبل سے متعلق کئی اہم سوالات کو ایک بار پھر قومی بحث کا حصہ بنا کر سیاسی حلقوں، پالیسی سازوں اور مبصرین کو موجودہ ریاستی نظم و نسق پر ازسرِنو غور کرنے کی دعوت دی ہے۔

چنانچہ اسی کے ساتھ محدود حلقوں کی خواہش اور فیصلہ سازی کے تابع سمجھے جانے والے موجودہ حکمرانی کے ڈھانچے کی مؤثریت، پائیداری اور اصلاح کی ضرورت پر بھی سنجیدہ بحث نے جنم لیا ۔ سوال یہ ہے کہ کیا قومی استحکام مضبوط اور خودمختار اداروں سے حاصل ہوگا یا اختیارات کے مزید ارتکاز سے؟ یہی بحث آج کے سیاسی منظرنامے کا ایک بنیادی موضوع بنتی جا رہی ہے۔

ریاستوں کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ان کی طاقت صرف عسکری قوت، مالی وسائل یا انتظامی صلاحیت میں نہیں بلکہ ان ادارہ جاتی اصولوں میں مضمر ہوتی ہے جو اختیارات کے توازن، آئین کی بالادستی اور عوامی اعتماد کو یقینی بناتے ہیں۔ جب ریاست کے مختلف اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم آئینی حدود کے مطابق برقرار رہتی ہے تو نظام میں لچک، استحکام ، جوابدہی اور احتساب پیدا ہوتا ہے لیکن جب طاقت اور اختیار بتدریج چند ہاتھوں تک محدود ہونے لگیں تو ریاست بظاہر مضبوط دکھائی دیتی ہے، مگر اندر سے اس کی ادارہ جاتی بنیادیں کمزور ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔

موجودہ قومی منظرنامے میں سب سے بنیادی مسئلہ یہی دکھائی دیتا ہے کہ اختیارات کے ارتکاز کا رجحان مسلسل مضبوط ہوا جبکہ آئین کے تصور کردہ توازن کو بتدریج کمزور کیا گیا۔ یہ رجحان کسی ایک حکومت، ادارے یا سیاسی جماعت تک محدود نہیں بلکہ مختلف ادوار میں مختلف صورتوں میں سامنے آتا رہا ۔ ہر دور میں اس کی توجیہ قومی سلامتی، سیاسی استحکام یا انتظامی ضرورت کے نام پر کی گئی لیکن عملی طور پر اس کا نتیجہ اداروں کے درمیان عدم توازن، باہمی کشیدگی اور عوامی اعتماد میں کمی کی شکل میں سامنے آیا۔

سیاسیات کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ طاقت کا غیر معمولی ارتکاز اکثر عدمِ تحفظ کے احساس سے جنم لیتا ہے۔ جب ریاستی یا سیاسی قیادت کو یہ خدشہ لاحق ہو کہ اختیارات کی تقسیم سے اس کی گرفت کمزور ہو سکتی ہے تو وہ زیادہ سے زیادہ اختیارات اپنے ہاتھ میں مرکوز کرنے کی کوشش میں سرگرداں ہو جاتے ہیں ۔ بظاہر یہ عمل نظم و نسق کو مضبوط بنانے کا تاثر دیتا ہے لیکن طویل مدت میں یہی حکمتِ عملی ریاستی اداروں کی خودمختاری، عوامی احتساب اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔ نتیجتاً پورا نظام اپنی ہی توسیع پسندانہ منطق کا اسیر بن جاتا ہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی آج پاکستان کو درپیش داخلی سلامتی کے چیلنجز کو اسی وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی ضرورت کی طرف متوجہ کرتے ہوئے چھوٹے انتظامی یونٹس کی تخلیق اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کو ہمارے پیچیدہ مسائل کا حل بتایا۔

مستزاد یہ کہ گزشتہ چند برسوں میں معاشی بحران نے اس فاصلے کو مزید گہرا کیا۔ مہنگائی، بے روزگاری، توانائی کی بلند قیمتیں، تعلیم اور صحت کی بڑھتی ہوئی لاگت اور عوامی خدمات کے معیار میں مسلسل کمی نے عام شہری پر شدید معاشی دباؤ ڈالا ہے۔ جب امن و امان کی صورت حال مخدوش، معاشی مشکلات میں اضافہ اور اس کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں کی کارکردگی بھی عوام کی توقعات پر پوری نہ اترے تو عوامی اعتماد کمزور ہونا فطری امر بن جاتا ہے ۔ ایسے میں  داخلی سلامتی کے مسائل کو صرف عسکری زاویے سے دیکھنا کافی نہیں ہو گا اور ان کے سیاسی، معاشی اور سماجی اسباب کو سمجھنے کی بجائے نئے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس کی تخلیق جیسی تدبیریں اس بڑھتے ہوئے انتشار کا علاج نہیں بن سکتیں کیونکہ اس کا اصل محرک بھی عوام کو کمزور  کرکے ارتکاز طاقت کا حصول ہے

امر واقعہ یہ ہے کہ ملک کا آئین اختیارات کی تقسیم کا واضح فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ پارلیمنٹ قانون سازی کا مرکز ، انتظامیہ ان قوانین پر عمل درآمد کی ذمہ دار ، عدلیہ آئین و قانون کی تشریح اور ان پر عمل درآمد کی نگرانی کرتی ہے، جبکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان بھی اختیارات کی تقسیم متعین ہے۔ اس آئینی ڈھانچے کا مقصد یہی ہے کہ کوئی ایک ادارہ یا مرکز غیر معمولی طاقت حاصل نہ کر سکے اور ریاستی نظام  متوازن اور عوامی جوابدہی کے اصولوں کے مطابق چلتا رہے۔

اگر اس توازن میں مسلسل خلل پیدا ہو تو اداروں کے درمیان کشیدگی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ ایسے حالات میں ہر ادارہ اپنی آئینی حدود سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے جس کے نتیجہ میں اختیارات کا تصادم پیدا ہوتا ہے، خیبر پختون خوا اسی کشمکش کی نمایاں مثال ہے ۔ اس تصادم کا سب سے زیادہ نقصان عام شہری کو اٹھانا پڑتا ہے، کیونکہ وفاقی اور صوبائی اداروں کی توجہ عوامی مسائل کے حل سے ہٹ کر ادارہ جاتی کشمکش کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔

چنانچہ اصلاح احوال کا راستہ طاقت کے مزید ارتکاز میں نہیں بلکہ اختیارات کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی خودمختاری میں مضمر ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام ریاستی ادارے اپنے اپنے آئینی دائرۂ اختیار کا احترام کریں، سیاسی اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کیا جائے، اور فیصلوں میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنایا جائے۔ مضبوط ریاست وہ نہیں ہوتی جس میں تمام اختیارات ایک ہی مرکز میں جمع ہوں، بلکہ وہ ہوتی ہے جس میں ادارے آزاد بھی ہوں، جوابدہ بھی ہوں اور ایک دوسرے کی آئینی حدود کا احترام بھی کرتے ہوں۔

اسی طرح عوامی اعتماد کی بحالی کو قومی سلامتی کے بنیادی جزو کے طور پر تسلیم کرنا ہوگا۔ اگر ریاست اپنے شہریوں کو حکم تو دے لیکن ان کی مدد نہ کرے تو فرد اور ریاست کے مابین عمرانیہ معاہدہ بے معنی ہو جاتا ہے ، حکومت جب انصاف، تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں مؤثر کردار ادا کرے گی تو داخلی استحکام خود بخود مضبوط ہوتا ہے۔ دنیا کے کامیاب ممالک کی مثالیں یہی بتاتی ہیں کہ پائیدار امن صرف عسکری قوت سے نہیں بلکہ مضبوط اداروں، شفاف حکمرانی اور عوامی اعتماد سے حاصل ہوتا ہے۔

اس تناظر میں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا حالیہ بیان بھی توجہ کا مستحق ہے۔ بعض تجزیہ نگار اسے موجودہ داخلی سلامتی کی صورتحال کے حوالے سے ایک سنجیدہ انتباہ اور اصلاحِ احوال کی ضرورت کی نشاندہی قرار دیتے ہیں۔ تاہم اصل اہمیت کسی ایک بیان کی نہیں بلکہ اس امر کی ہے کہ ریاستی ادارے اس صورتحال سے کیا سبق اخذ کرتے ہیں اور کیا عملی اقدامات اختیار کرتے ہیں۔

پاکستان اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں وقتی انتظامی فیصلے شاید فوری دباؤ کو کچھ حد تک کم کر دیں لیکن دیرپا استحکام کے لیے آئینی حکمرانی، اختیارات کے توازن، مؤثر وفاقیت، آزاد اور جوابدہ اداروں، اور عوامی اعتماد کی بحالی ناگزیر ہے۔ ریاست کی اصل طاقت اختیارات کے لامحدود ارتکاز میں نہیں بلکہ ان اختیارات کو آئینی حدود کے اندر تقسیم کرنے، قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے اور ہر ادارے کو اس کے متعین دائرۂ کار میں مؤثر انداز سے کام کرنے کا موقع فراہم کرنے میں ہے۔

اس رجحان کا ایک اور تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ جب ریاستی اختیارات بتدریج ایک ہی فرد یا محدود مرکز میں مرتکز ہونے لگیں تو پورے ملک اور کروڑوں شہریوں کی تقدیر بھی عملاً ایک شخص کی بصیرت، فہم، فیصلہ سازی اور استعداد کی مرہونِ منت بن جاتی ہے۔ یہ صورتِ حال نہ صرف ادارہ جاتی توازن کو متاثر کرتی ہے بلکہ ریاست کے مستقبل کو بھی غیر یقینی سے دوچار کر دیتی ہے، کیونکہ کسی بھی فرد کی صلاحیت، تجربہ یا بصیرت خواہ کتنی ہی غیر معمولی کیوں نہ ہو، وہ مضبوط اور خودمختار اداروں کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ ریاستوں کی پائیداری کا انحصار شخصیات پر نہیں بلکہ ایسے ادارہ جاتی نظام پر ہوتا ہے جو اختیارات کی تقسیم، جوابدہی، اجتماعی دانش اور آئین کی بالادستی کو یقینی بنائے۔ اسی لیے کسی بھی قوم کا مستقبل ایک فرد کی خواہش، فیصلوں یا محدود صلاحیتوں کا تابع نہیں ہونا چاہیے؛ دیرپا استحکام، جمہوری طرزِ حکمرانی اور قومی ترقی کی حقیقی ضمانت مضبوط ادارے، مؤثر احتساب اور اجتماعی فیصلہ سازی ہی فراہم کرتے ہیں۔

المختصر اگر بروقت ادارہ جاتی اصلاحات، اختیارات کے توازن اور عوامی مسائل کے حل کی طرف پیش رفت نہ کی گئی تو داخلی سلامتی، معاشی استحکام اور سیاسی ہم آہنگی کے بحران ایک دوسرے کو مزید تقویت دے سکتے ہیں۔ لیکن اگر آئین کی روح کے مطابق اختیارات کی تقسیم، قانون کی حکمرانی اور قومی مکالمے کو ترجیح دی جائے تو موجودہ مشکلات پر قابو پانا اور ریاستی استحکام کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا ممکن ہے۔ یہی راستہ نہ صرف ریاست کی اخلاقی ساکھ کو مستحکم کر سکتا ہے بلکہ اسے ایک زیادہ مضبوط، متوازن اور پائیدار جمہوری نظام کی طرف بھی لے جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں