(وسیم عظمت) شاہین آفریدی کو لنکا پریمیئر لیگ کی ٹیم کینڈی رائلز کے آفیشلز کے ساتھ تنازعہ بڑھنے پر لیگ کو چھوڑ کر واپس آنا پڑ گیا۔ لنکا لیگ کے لیگ میچوں کے مرحلہ میں بہت خراب باؤلنگ کر کے کینڈی رائلز کو مشکلات سے دوچار کرنے والے بظاہر بجھتے ہوئے سٹار شاہین آفریدی کو نکالا گیا یا اس نے خود چھوڑا؟ اہم حقائق سامنے آ گئے۔
شاہین آفریدی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کینڈی رائلز لنکا پریمیئر لیگ کے پلے آف مرحلے میں پہنچی تو شاہین آفریدی دوبارہ ٹیم کو جوائن کریں گے۔
آج میڈیا آؤٹ لیٹس میں یہ خبریں شائع ہو رہی ہیں کہ پاکستان کے سٹار باؤلر شاہین آفریدی لنکا پریمئیر لیگ کو چھوڑ کر پاکستان واپس آگئے ہیں۔
شاہد آفریدی ن کے قریبی ذرائع نے تو لنکا لیگ کو ادھورا چھوڑ کر واپس آنے کی وجہ یہ بتائی کہ میں نے “ذاتی وجوہات” کی بنا پر لنکا لیگ ادھوری چھوڑی۔ لیکن شاہد آفریدی کے چھپانے سے حقائق چھپے نہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ شاہین آفریدی کی ٹیم کینڈی رائلز کے آفیشلز نے شاہین آفریدی کی مسلسل بری اور ٹیم کو مشکل میں ڈال دینے والی پرفارمنس سے گھبرا کر شاہین کو کھلانے سے عملاً گریز کیا، وجہ پبلک کو نہیں بتائی، شاہین کو واپس جانے کے لئے بھی نہیں کہا لیکن کھلانے سے بھی عملاً انکار ہی کئے رکھا۔
لنکا لیگ میں بظاہر کیا ہوا ؟
شاہین آفریدی کا لنکا پریمئیر لیگ کے دوران اپنی ٹیم کینڈی رائلز کے ساتھ 19 جولائی کے میچ میں شامل نہ کرنے پر اختلاف پبلک کے سامنے آیا تھا۔
کولمبو کیپٹلز کے ساتھ میچ میں سابق سٹار باؤلر شاہین آفریدی کو “امپکٹ پلیئر ” کے طور پر کھلانے کا کہا گیا لیکن آفیشل ٹیم شیٹ میں ان کا نام شامل نہیں تھا جس پر شاہین آفریدی نے واپسی کیلئے سامان پیک کر لیا۔کینڈی رائلز انتظامیہ نے اس پر شاہین آفریدی سے معذرت کی تھی اور بتایا تھا کہ اینالسٹ کی غلطی کی وجہ سے ان کا نام فہرست میں شامل ہونے سے رہ گیا تھا۔ اس وقت تو آفیشلز نے ان کو روک لیا لیکن بعد میں وہ واپس آ گئے۔ یہ والا میچ کینڈی رائلز نے 23 رنز سے ہارا تھا اور کولمبو کیپس آسانی سے جیت گئے تھے۔
کینڈی رائلز کے آٹھ میچ ہو چکے ہیں اور وہ لیگ کے پوائنٹس ٹیبل پر پانچ میں سے چوتھی ٹیم ہیں۔ پلے آف مرحلہ میں کھیلنے کا دارومدار آخری پوزیش پر رہنے والی ٹیم ٹمبولا سکسرز کے دوسری پوزیشن پر موجود ٹیم جافنا کنگز کے ساتھ آخری لیگ میچ کے نتیجہ پر ہے۔ اگر یہ میچ جافنا کنگز کی بظاہر سٹرونگ ٹیم نے جیت لیا تو پھر کینڈی رائلز کو پلے آف مرحلہ کی چوتھی ٹیم کی حیثیت سے قسمت آزمانے کا چانس مل جائے گا۔ اگر ٹمبولا سکسرز یہ میچ جیت گئے تو پھر پلے آف کی چوتھی تیم ٹمبولا سکسرز ہو گی اور شاہین آفریدی کے بعد ساری کینڈی رائلز کو ہی پیک اپ کرنا پڑ جائے گا۔

آٹھ میچوں میں شاہین آفریدی کی پرفارمنس
شاہین آفریدی بقیہ میچز میں شریک ہوئے تھے، شاہین آفریدی نے لیگ کے 6 میچوں میں صرف 7 وکٹیں حاصل کیں۔ لنکا لیگ میں شاہین آٖریدی کو لینے والی ٹیم کینڈی رائلز نے لیگ مرحلہ میں آٹھ میچ کھیلے ان میں سے پانچ میچ ہار دیئے اور تین میچ جیت کر 6 پوائنٹس بنائے۔
کینڈی رائلز نے ٹورنامنٹ میں جو 3 میچ جیتے ہیں، شاہین شاہ آفریدی ان تمام 3 میچوں میں پلیئنگ الیون کا حصہ تھے۔
ان کی جیتے ہوئے میچوں میں شمولیت اور کارکردگی کی تفصیل کچھ یوں ہے۔
پہلی جیت (بمقابلہ ڈمبولا سکسرز): کینڈی رائلز نے یہ میچ 43 رنز سے جیتا تھا۔ شاہین آفریدی اس میچ میں کھیلے تھے اور انہوں نے 4 اوورز میں 38 رنز دے کر 1 وکٹ لی تھی۔
دوسری جیت (بمقابلہ گال مارولز): کینڈی رائلز نے یہ میچ 11 رنز سے جیتا تھا۔ شاہین اس میچ کا حصہ تھے اور انہوں نے 4 اوورز میں 46 رنز لٹا کر 1 وکٹ حاصل کی تھی۔
تیسری جیت (بمقابلہ گال مارولز – دوبارہ): کینڈی رائلز نے یہ میچ 6 وکٹوں سے جیتا تھا۔ شاہین اس ہائی اسکورنگ میچ میں بھی کھیلے تھے لیکن وہ کوئی وکٹ حاصل نہ کر سکے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کینڈی رائلز کی جیت میں ان کا باؤلنگ سے کوئی خاص یا جادوئی کردار نہیں رہا کیونکہ ان تمام میچوں میں انہوں نے خاصے رنز لٹائے تھے۔
شاہین آفریدی کی اکانومی
لنکا پریمیئر لیگ (LPL) میں ان کی 10.18 کی شرمناک اکانومی اور بے اثر باؤلنگ نے کسی بھی مقابل بیتر کو خوف میں مبتلا نہیں کیا اور کینڈی رائلز کے فین بھی اس باؤلنگ سے تشویش میں مبتلا دکھائی دیئے۔
یہ دیکھا گیا کہ کینڈی رائلز کے جن چھ میچوں میں شاہین آفریدی کو بال دی گئی ، ان میں کسی بھی بیٹر کو ان کا کوئی خوف نہیں تھا، اور نہ ہی کسی بلے باز کی باڈی لینگویج سے یہ لگا کہ وہ کسی “سٹار” کا سامنا کر رہا ہے۔
بیٹرز کی باڈی لینگویج میں خوف کیوں ختم ہو گیا؟
کسی بھی فاسٹ باؤلر کا بیٹر پر خوف اس کی رفتار (140+ اسپیڈ) اور لیٹ سوئنگ سے ہوتا ہے۔ لنکا لیگ میں شاہین آفریدی کے چھ میچوں کے دوران صورتحال یہ تھی کہ شاہین کی گیند 125 سے 130 کلومیٹر سے زیادہ رفتار س حاصل نہیں کر سکی اور تقریباً ہر بال بالکل سیدھی آ رہی تھی ۔
ٹی ٹوینٹی فارمیٹ کے عام بیٹرز میں شمار ہونے والے بیٹرز نے بھی شاہین کو بغیر کسی ڈر کے کریز سے باہر نکل کر شاٹس مارے۔
ماہرین کی رائے ہے کہ جب باؤلر کی گیند میں کاٹ نہ ہو، تو بیٹر کی باڈی لینگویج میں احترام یا خوف کی جگہ جارحیت اور تضحیک لے لیتی ہے، جو لنکا لیگ میں کینڈی رائلز کے چھ میچوں میں شاہین کے ساتھ واضح طور پر نظر آیا۔
لنکا لیگ سے پہلے شاہین آفریدی کی پرفارمنس
لنکا لیگ سے پہلے پاکستان کے لئے کھیلتے ہوئے اور پی ایس ایل الیون میں شاہین آفریدی کی پرفارمنس ملی جلی رہی۔
پی ایس ایل الیون میں وہ لاہور قلندرز کے کیپٹن تھے۔ انہوں نے 10 میچ کھیل کر 16 وکٹیں حاصل کیں۔ لیکن پی ایس ایل الیون کے بہترین باؤلرز کے ٹیبل پر وہ چھٹی پوزیشن پر جگہ پا سکے۔ پانچ بہترین باؤلرز میں سرفہرست سفیان مقیم تھے۔

سٹار کی پاکستان انٹرنیشنل کرکٹ میں حالیہ کارکردگی (گزشتہ چند سیریز)
لنکا لیگ (جولائی 2026) میں جانے سے پہلے شاہین آفریدی نے پاکستان کے لیے سال 2026 کے آغاز میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ، نیوزی لینڈ، بنگلہ دیش اور آسٹریلیا کے خلاف میچز کھیلے۔
آسٹریلیا ون ڈےسیریز
آسٹریلیا کے ساتھ ون ڈے سیریز (مئی/جون 2026) کے دوران لاہور میں کھیلے گئے آخری دو ون ڈے میچوں میں انہوں نے بالترتیب 3/36 اور 3/30 کی عمدہ باؤلنگ کی، جس سے لگا کہ وہ فارم میں واپس آ رہے ہیں۔
بنگلہ دیش ٹیسٹ
بنگلہ دیش کے خلاف میرپور میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ (مئی 2026) میں شاہین نے مجموعی طور پر 5 وکٹیں (پہلی اننگز میں 3/113 اور دوسری اننگز میں 2/54) حاصل کیں، لیکن رنز بہت زیادہ دیئے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ (فروری 2026)
ورلڈ کپ میں ان کا آغاز انتہائی مایوس کن رہا۔ وہ یو ایس اے (USA) اور بھارت کے خلاف اہم میچوں میں پاور پلے میں وکٹیں لینے میں ناکام رہے۔ انگلینڈ کے ساتھ میچ میں انہوں نے 4/30 کی اچھی باؤلنگ ضرور کی، لیکن اہم میچوں میں ان کا اثر نہ ہونے کے برابر تھا۔
نیوزی لینڈ ٹؤر ، ٹی ٹوئنٹی سیریز
نیوزی لینڈ کی سازگار پچوں پر کیوی بلے بازوں نے شاہین کی کم رفتار کا فائدہ اٹھایا اور انہیں آڑے ہاتھوں لیا، جہاں انہوں نے 13 اوورز میں 133 رنز دے کر 10.23 کی مہنگی اکانومی سے رنز لٹائے۔
دسمبر 2025 میں بگ بیش ڈیزاسٹر
گزشتہ سال کے آخری مہینے میں شاہین آٖریدی کا آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ میں ڈیبیو اب لنکا لیگ سے بھی بڑٓ ڈیزاسٹر ثابت ہوا تھا۔ اس لیگ کو بھی ادھورا چھوڑ کر واپس آنا پرٓ تھا۔ بیگ بیش کے دوران شاہین کے ساتھ دو غیر معمولی ڈیزاسٹر ہوئے تھے۔
خطرناک باؤلنگ پر بین (Banishment on Debut)
دسمبر کے وسط میں بیگ بیش کی ٹیم برسبین ہیٹ کی طرف سے کھیلتے ہوئے شاہین آفریدی کا بگ بیش ڈیبیو بھی ایک بھیانک خواب ثابت ہوا تھا۔
میلبورن رینیگیڈز کے ساتھ میچ کے 18ویں اوور میں شاہین نے کمر کی اونچائی سے اوپر دو خطرناک ہائی فل ٹاس (Waist-high full tosses) پھینکیں۔
کرکٹ کے قوانین کے تحت امپائرز نے انہیں خطرناک باؤلنگ کرنے کا مجرم ٹھہرایا اور اس میچ میں مزید باؤلنگ کرنے سے روک دیا ۔

شاہین کو اس اوور کے درمیان میں ہی گراؤنڈ سے باہر جانا پڑا۔
اس ڈیبیو میچ میں انہوں نے صرف 2.4 اوورز میں 45 رنز لٹائے تھے اور انہیں ایک بھی وکٹ نہیں ملی تھی۔
گھٹنے کی کارٹلیج انجری (Knee Cartilage Injury)
دسمبر کے آخری ہفتے میں ایڈیلیڈ سٹرائیکرز کے ساتھ میچ کے آخری اوور میں فیلڈنگ کرتے ہوئے شاہین آفریدی کے گھٹنے کی کارٹلیج (Knee Cartilage) میں شدید چوٹ آ گئی تھی۔
اس انجری کے فوراً بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کے میڈیکل سٹاف نے برسبین ہیٹ (Brisbane Heat) کی مینجمنٹ سے رابطہ کیا تھا۔ چونکہ فروری 2026 میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سر پر تھا، اس لیے پی سی بی نے شاہین کو فوری طور پر آسٹریلیا سے واپس بلا لیا تھا۔ بعد میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے لاہور میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی (NCA) میں شاہین کی بحالی (Rehab) شروع کروائی تھی۔
بگ بیش لیگ میں پہلے وہ امپائرز کی طرف سے باؤلنگ سے روکے جانے کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ اور تنقید کا شکار ہوئے، اور پھر چند ہی دن بعد گھٹنے کی انجری نے ان کا سفر مکمل طور پر ختم کر دیا، جس کی وجہ سے انہیں یہ مقبول ترین لیگ چھوڑنا پڑی۔
کیا شاہین آفریدی اب بھی سٹار ہیں؟
شاہین آفریدی کئی سال سے کوئی متاثر کن پرفارمنس دینے پھر وہ “ستارہ” کس بنا پر ہیں؟
انہیں یہ لقب لنکا لیگ یا ان کی موجودہ گرتی ہوئی فارم کی وجہ سے نہیں ملا، بلکہ اس کارکردگی کی بنا پر ملا ہے جو وہ انٹرنیشنل کرکٹ میں پہلے دکھا چکے ہیں۔
صرف 26 سال کی عمر میں 300+ انٹرنیشنل وکٹیں
شاہین اب تک پاکستان کے لیے 115 ٹیسٹ وکٹیں، 104 ون ڈے وکٹیں اور 96 ٹی ٹوئنٹی وکٹیں لے چکے ہیں۔
آئی سی سی کے بڑے اعزازات
وہ 2021 میں دنیا کے بہترین کرکٹر (Sir Garfield Sobers Trophy) کا ایوارڈ جیت چکے ہیں، جو ہر کسی کو نہیں ملتا۔
تاریخی سپیلز
2021 کے ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف ان کا وہ پہلا اوور (روہت شرما اور کے ایل راہول کی وکٹیں) یا 2022 کے ورلڈ کپ کا فائنل ان کے تاریخی کارنامے ہیں، جہاں کاریگر بیٹر واقعی ان کا سامنا کرتے ہوئے کانپتے تھے۔
شاہین آفریدی ستارہ ہیں، لیکن “آؤٹ آف فارم”
کھیل کی دنیا میں کسی بھی کھلاڑی کا نام اور اس کا “سٹار اسٹیٹس” ایک سیزن یا چند میچوں کی خراب کارکردگی سے ختم نہیں ہوتا۔ وہ اپنے ماضی کے کارناموں کی وجہ سے اب بھی سٹار ہیں، لیکن ان کا جادو بالکل ختم ہو چکا ہے اور بیٹر ان کا تماشہ بنا رہے ہیں۔
جب تک وہ اپنی رفتار اور سوئنگ واپس نہیں لاتے، میدان میں انہیں وہ “سٹارز والا خوف اور عزت” دوبارہ کبھی نصیب نہیں ہوگی۔ یہ ایک چبھتا ہوا سوال ہے کہ کیسے اس سٹار کی روشنی اور چمکی واپس آئے گی اور کس حکیم کی دوائی سے ان کی بال کی رفتار اور سوئینگ واپس آ پائے گی۔
یہ بھی پڑھیئے: آج رات تھنڈر سٹارم اور موسلادھار بارش کی پیشین گوئی






