موسمیاتی نظام ’ایل نینو‘ اب ’سپر ایل نینو‘ میں تبدیل
بحرالکاہل میں طاقتور شکل اختیار کرنے والا موسمیاتی نظام ’ایل نینو‘ اب ایک ’سپر ایل نینو‘ میں تبدیل ہو کر پوری دنیا کے موسم کو تبدیل کر رہا ہے۔*
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ ہر 2 سے 7 سال کے دوران بننے والا موسمیاتی نظام ’ایل نینو‘ وسطی اور مشرقی بحرالکاہل میں سمندروں کے پانی کے درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ اس سال کا ’ایل نینو‘ پانی کی سطح کے درجہ حرارت میں 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ اضافے کے باعث جون میں بننا شروع ہوا تھا، اس موسمیاتی نظام کی اوسطاً عمر ڈیڑھ سال یا 18 مہینے ہوتی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے مطابق تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ یہ موسمیاتی نظام اب ایک طاقتور شکل اختیار کر کے ’سپر ایل نینو‘ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اندازے ہیں کہ اگلے سال 2027 کے شروع میں ’سپر ایل نینو‘ اپنی طاقت کے عروج پر ہوگا اور خدشہ ہے کہ یہ اب تک کے سب سے طاقتور ’سپر ایل نینو‘ سسٹمز میں سے ایک ہوگا۔
امریکی محکمہ موسمیات کے مطابق اس ’سپر ایل نینو‘ کے زیرِ اثر ایک جانب مشرقی افریقہ اور جنوبی امریکہ میں انتہائی شدید بارشیں ہو سکتی ہیں، جبکہ دوسری جانب اسی موسمیاتی سسٹم کی وجہ سے جنوبی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ میں شدید خشک سالی کا خدشہ ہے۔






