
(24 ںیوز) امریکی ریاست مشی گن میں آنتوں کی خطرناک وبا (سائیکلوسپوریاسس) کے باعث پہلی بار 2 افراد جان کی بازی ہار گئے، یہ اموات 3 اگست 2026ء کو سامنے آئیں، جو ملک بھر میں پھیلنے والی اس غدود و پیٹ کی وبا کی پہلی تصدیق شدہ ہلاکتیں ہیں۔
رائٹرز کی رپورٹ کے ریاست مشی گن کے محکمہ صحت نے پیر کو دونوں اموات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ اب تک اس آنتوں کی وبا سے ہونے والی پہلی ہلاکتیں ہیں۔
محکمہ صحت کے مطابق دونوں متاثرہ افراد پہلے ہی مختلف سنگین طبی مسائل کا شکار تھے، جبکہ سائیکلو سپوریاسس اور جسم میں پانی کی شدید کمی (ڈی ہائیڈریشن) نے ان کی حالت مزید بگاڑ دی تھی، ریاستی حکام نے بتایا کہ آنتوں کی وبا کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم اس حوالے سے فی الحال کوئی نئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
امریکی محکمہ صحت ایف ڈی اے کی تحقیقات کے مطابق یہ وبا اب تک 9 ریاستوں تک پھیل چکی ہے، اور اس کا تعلق وسطی میکسیکو میں نجی کمپنی ٹیلر فارمز سے حاصل کیے گئے آئس برگ لیٹس سے جوڑا گیا ہے، تاہم حکام دیگر ممکنہ ذرائع کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق صرف مشی گن میں وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر 11 ہزار 234 ہو گئی ہے، جو گزشتہ رپورٹ کے مقابلے میں 461 زیادہ ہے، اب تک آنتوں کی وبا سے متاثرہ 193 افراد کو اسپتال میں داخل کیا گیا جبکہ وین کاؤنٹی سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے جہاں 1ہزار379 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
محکمہ صحت کے مطابق 30 سے 39 سال کی عمر کے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور اس عمر کے 2ہزار216 مریض سامنے آئے ہیں، یہ بیماری سائیکلو سپورا نامی طفیلیے (پیرا سائٹ) سے ہوتی ہے، جس کی عام علامات میں شدید اسہال، متلی، پیٹ کی خرابی اور دیگر معدے کے مسائل شامل ہیں۔
ادھر سی ڈی سی کے مطابق 28 جولائی تک ملک بھر میں 6 ہزار707 لیبارٹری سے تصدیق شدہ کیسز ریکارڈ کیے جاچکے ہیں، جبکہ 11 ہزار 500 سے زائد مشتبہ کیسز کی مزید تحقیقات جاری ہیں، قومی اعداد و شمار میں صرف لیبارٹری سے تصدیق شدہ کیسز ہی شامل کیے جاتے ہیں۔
وبا کے باعث امریکا میں عوام ریستورانوں میں جانے سے گریز کر رہے ہیں، جبکہ گروسری اسٹورز سے لیٹس کی خریداری میں بھی نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے کیونکہ عوام محفوظ غذاؤں کے انتخاب کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی پاسداران کا آبنائے ہرمز پر ایم کیو 9 ریپر ڈرون مار گرانے کا دعویٰ






