
(دُرِ شہوار) میررضا کے دوسرے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کی مزید تفصیل سامنے آ گئی ہے۔ اب پتہ چلا ہے کہ میر رضا کو صرف ایک نہیں زیادہ گولیاں ماری گئی تھیں۔ پہلے ماری گئی گولیاں موت کا سبب نہیں تھیں۔ وہ ممکنہ طور پر تشدد کرنے کے لئے ماری گئیں۔
میر رضا کو پیچھے سے گولی لگی جو پسلیوں کو چیرتے ہوئےسینےسےباہرنکل گئی۔میررضاکےپاؤں پربھی گولیوں کےنشان ملے۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا کہ میررضاکےجسم پرتشددکےنشانات ہیں۔ میررضاکے جسم کے نچلے حصے پر خون کے دھبے ہیں۔
جبڑے پر گہری چوٹ اور زخم ہیں۔ میررضا کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔ مقتول کے جسم پر کالے دھبے بھی پائے گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گولی پیچھے سے لگنے کے بعد پسلی توڑ کر سینے سے باہر نکل جانے کا مطلب ہے کہ یہ گولی کافی قریب سے ماری گئی تھی۔ پاؤں پر گولیاں لگنے کی تصدیق ہونے سے یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ چہرے اور جسم پر تشدد کے ساتھ پیروں پر گالیاں بھی تشدد کے مقصد سے اور خوفزدہ کرنے کی غرض سے ماری گئی ہوں گی۔
پولیس سرجن کی رپورٹ
میر رضا کی قبر کشائی کے متعلق پولیس سرجن آفس کی رپورٹ بھی سامنے آگئی ہے۔
میر رضا کی قبر کشائی سول جج حامد اللہ کے حکم پر کی گئی۔
میر رضا کی قبر سے لاش 11 بج کر 50 منٹ پر نکالی گئی۔
میر رضا کا پوسٹ مارٹم دوپہر 12 بجے شروع کیا گیا۔
میر رضا کا پوسٹ مارٹم ایک بج کر 15 منٹ پر مکمل ہوا۔
میر رضا کی لاش دوبارہ ایک بج کر 32 منٹ پر دفن کردی گئی۔
پولیس سرجن رپورٹ کے مطابق میر رضا کی عمر 25 سے 26 سال تھی۔
رپورٹ کے مطابق لاش گلنے سڑنے کے آخری مرحلے میں تھی۔
کفن گلنے سڑنے کے سبب سیال مادے اور مٹی سے آلودہ تھی۔ مقتول میر رضا کا چہرہ ناقابل شناخت ہوچکا تھا۔ زبان منہ کے اندر گل چکی تھی۔
رپورٹ کے مطابق پورے جسم پر کیڑے موجود تھے۔
رپورٹ پر قبر کشائی نمبر 09/26، تاریخ 8 اگست 2026 درج ہے۔ میر رضا کیس کا تعلق تھانہ فیروز آباد، ایف آئی آر نمبر 795/26 سے ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: مقتول میر رضا کے قاتلوں تک پہنچنے میں کون طاقت رکاوٹ؟






