7

دریاؤں میں سیلاب کا خدشہ : این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا

(روزینہ علی)نیشنل ڈیزاسٹر منیمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)  نے دریاؤں میں سیلاب کا خدشہ  ظاہر کرتے ہوئےنے الرٹ جاری کردیا۔ 

این ای او سی کے مطابق دریائے سندھ میں کالاباغ، چشمہ، تونسہ اور گڈو کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے دریائے راوی، چناب، جہلم، کابل اور ستلج میں بہاؤ معمول کے مطابق ریکارڈ کیا گیا ۔ 

ڈی جی خان، راجن پور کے پہاڑی نالے اور نالہ لئی بھی معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں۔08 تا 09 اگست کے دوران ملک کے بڑے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا امکان ہے

دریائے سندھ میں کالاباغ، چشمہ، تونسہ، گڈو اور سکھر، دریائے چناب میں مرالہ اور دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر نچلے درجے کے بہاؤ کا امکان ہے۔دریائے جہلم اور منگلا ڈیم سے بالائی علاقوں اور ملحقہ دریاؤں جبکہ دریائے کابل میں ادیزئی کے مقام پر بھی نچلے درجے کے بہاؤ کا امکان ہے۔

خیبر پختونخواہ میں چترال، اپر دیر، ایبٹ آباد، شانگلہ، خیبر، اورکزئی، کوہاٹ، ٹانک، شمالی و جنوبی وزیرستان کے ندی نالوں اور برساتی نالوں میں کم سے درمیانے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے۔آزاد کشمیر میں باغ اور کوٹلی میں اچانک کم سے درمیانے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔بلوچستان میں ژوب، موسیٰ خیل، کوہلو، بارکھان اور ڈیرہ بگٹی میں کم سے درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال کا خطرہ ہے۔پنجاب میں ڈی جی خان اور راجن پور کے پہاڑی برساتی نالوں میں کم سے درمیانے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے

راولپنڈی، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، فیصل آباد، اوکاڑہ اور لاہور کے شہری علاقوں میں کم سے درمیانے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے ۔

این ڈی ایم اے نے ڈیموں میں پانی کے ذخیرہ کی موجودہ صورتحال بھی جاری کر دی ۔تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1,548 فٹ، ذخیرہ 97.94 فیصد ریکارڈ، گزشتہ سال یہ ذخیرہ 95.98 فیصد تھا۔

منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 1,205.2 فٹ، ذخیرہ 62.99 فیصد ریکارڈ، گزشتہ سال یہ ذخیرہ 62.80 فیصد تھا،مقامی انتظامیہ کو حساس علاقوں میں ضروری وسائل پیشگی منتقل کرنے اور محفوظ انخلا کے انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت کی گئی ۔ عوام سیلابی نالوں، زیر آب سڑکوں، پلوں اور تیز آبی بہاؤ کو عبور کرنے سے گریز کریں اور جاری کردہ ٹریفک ہدایات پر عمل کریں۔

سیلابی خطرے سے دوچار آبادیوں کے رہائشی، سیاح اور مسافر ندی نالوں اوردریا کے کناروں سے دور رہیں،مون سون کے دوران پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، ملبے کے ریلوں اور اچانک آنے والے سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے،سفر سے پہلے موسم کی تازہ ترین پیش گوئی اور سڑکوں کی صورتحال ضرور معلوم کریں۔

 اگر شدید بارش یا کسی بھی ممکنہ خطرے کی وارننگ جاری ہو تو غیر ضروری سفر سے گریز کریں،سیلابی پانی یا تیز بہاؤ کو پیدل یا گاڑی کے ذریعے ہرگز عبور نہ کریں۔ یاد رکھیں، تیز بہاؤ والا پانی خواہ کم گہرا ہی کیوں نہ دکھائی دے، انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور انسانوں یا گاڑیوں کو بہا لے جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : دکانوں کی بندش کے نئے اوقات کا اعلان

 
لبرٹی گول چکر پرسعودی عرب،ترکیہ اورپاکستان کےدفاعی معاہدےکےاعزازمیں تقریب: سیکورٹی کے سخت انتظامات
 
 

مون سون کے دوران برساتی ندی نالوں کے بہاؤ میں اچانک شدید اضافہ بھی ہو سکتا ہے لہذا ایسے علاقوں میں سیاحتی سرگرمیوں کے دوران محتاط رہیں اور تیز بہاؤ والے پانی کے ریلوں سے دور رہیں۔احتیاطی تدابیر اختیار کریں، متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں اور انتظامیہ کی جانب سے بند کی گئی سڑکوں پر سفر سے مکمل گریز کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں