
(24نیوز) خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان شفیع جان اور شہباز گل کے درمیان گزشتہ دنوں لفظی گولہ باری کے بعد پی ٹی آئی کورڈینیٹر سلمان اکرم راجہ اور سینیٹر مشعال یوسفزئی کے درمیان تلخ کلامی کی ایک آڈیو سامنے آئی ہے،سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی اور سینیٹر مشال یوسفزئی کے درمیان مبینہ آڈیو گفتگو آنے کے بعد پارٹی کے اندرونی معاملات، قیادت کے درمیان اختلافات سے متعلق سوالات ایک مرتبہ پھر زیر بحث آگئے۔
مبینہ آڈیو میں سینیٹر مشال یوسفزئی نے سلمان اکرم راجہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پریشر بار کونسل کے ممبرز نے بنانا ہےجن کو آپ نے پیسے لے کر ٹکٹس دیے،سازشیں اور گروپ بندی کرکے ایسے وکلاء کو ممبران بنایا جس کا آئی ایل ایف سے تعلق نہیں تھا،اپنی فیسیں بڑھائیں،کروڑوں کی کنسلٹنسی لی،سازشیں ہوئی ہیں اور جھوٹ بولا گیا،مشعال یوسفزئی نے کہاکہ جواب دیں کدھر ہیں بار کونسل کے ممبرز؟
مشعال یوسفزئی نے آڈیو میں مزید کہا کہ آپ نے سازش کی ہے عمران خان کے اکاؤنٹ کو استعمال کرکے اپنے لئے ٹوئٹس کی ہیں،ہم چپ ہیں تو چپ رہنے دیں،میں نے ٹوئیٹیں کردیں تو یہاں بہت سے لوگ منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔
پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نےمشال یوسفزئی سے سوال کرتے ہوئے کہا ہے کہ بتائیں کون سی سازش کی ہے،میری زندگی ایک کھلی کتاب کی طرح ہے،میں نے زندگی ایسی نہیں گزاری، میں نے زندگی میں ایسا کوئی لمحہ نہیں گزارا جس پر کوئی انگلی اٹھا سکے۔
انہوں نے مشعال یوسفزئی کو کہا کہ بولو جو بول سکتی ہو، کونسی بات کی ہے، کونسی سازش کی ہے؟بتاو سب کو میری سازش ، بہت کھلی زندگی گزاری ہے ، سچ کے ساتھ ،ہمت کے ساتھ ۔
یہ بھی پڑھیں : خاتونِ اول نے کراچی میں پاکستان کا پہلا آٹزم رہائشی مرکز افتتاح کر دیا






