2

پاکستان عالمی سیاست میں ابھرتی ہوئی ’’ہِنج پاور‘‘ کے طور پر سامنے آ رہا ہے، فنانشل ٹائمز کی رپورٹ

(ویب ڈیسک) پاکستان عالمی سیاست میں ایک ابھرتی ہوئی ’’ہِنج پاور‘‘ کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔  اسلام آباد امریکہ، چین، خلیجی ریاستوں اور ایران کے ساتھ اپنے روابط کو سٹریٹیجک قوت میں بدل رہا ہے۔ سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی علاقائی سلامتی کی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔

انٹرنیشنل نیوز آؤٹ لیٹ فنانشل ٹائمز نے پاکستان کے ترکیے اور سعودی عرب کے ساتھ حالیہ دفاعی معاہدہ کے متعلق اپنی ایک مفصل رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کے براہ راست مذاکرات کی میزبانی کرکے اپنی سفارتی اہمیت کا واضح اشارہ دیا۔پاکستان بدلتے ہوئے عالمی نظام میں زیادہ فعال اور مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے آگے بڑھ رہا ہے۔

فنانشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی علاقائی سلامتی کی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔

پاکستان کی بڑی سٹریٹیجک قوت یہ ہے کہ وہ واشنگٹن اور بیجنگ دونوں کے ساتھ مفادات پر مبنی شراکت داری رکھ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی  پاکستان خلیجی ریاستوں اور ایران دونوں کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے کی منفرد صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستان کسی ایک کیمپ تک محدود ہوئے بغیر مختلف طاقت کے مراکز کے ساتھ کام کرنے والی اہم درمیانی طاقت بن رہا ہے۔

امریکہ کے ساتھ کرپٹو اور اہم معدنیات کے شعبوں میں تجارتی امکانات پاکستان کی نئی معاشی سفارت کاری کا حصہ ہیں۔

وسط ایشیا کو پاکستانی بندرگاہوں سے ملانے کا منصوبہ نئی منڈیوں اور علاقائی تجارت کے دروازے کھول سکتا ہے۔

سعودی پشت پناہی پاکستان میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے اعتماد کا اہم سہارا بن سکتی ہے۔

پاکستان اپنے جغرافیائی گردونواح کی حدود سے نکل کر وسیع تر عالمی کردار حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

پاکستان کی خارجہ حکمت عملی اسے بیک وقت امریکہ، چین، مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا میں سٹریٹیجک گنجائش فراہم کر رہی ہے۔

اسلام آباد کی بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمی پاکستان کو عالمی طاقتوں کے درمیان ایک اہم رابطہ کار ریاست بنا رہی ہے۔

نئی عالمی بساط میں پاکستان کی سٹریٹیجک اہمیت اس حد تک بڑھ رہی ہے کہ اسے عالمی ’’رسک بورڈ‘‘ پر الگ مقام ملنا چاہیے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق پاکستان تیزی سے ایک ایسی اہم ’’ہِنج پاور‘‘ کے طور پر ابھر رہا ہے جو بدلتے ہوئے عالمی نظام میں مختلف طاقت کے مراکز کے ساتھ بیک وقت روابط کو اپنے سٹریٹیجک فائدے میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسلام آباد امریکہ، چین، خلیجی ریاستوں اور ایران کے ساتھ تعلقات کو زیادہ فعال خارجہ پالیسی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

اخبار نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیچیدہ مذاکرات کی میزبانی، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے، امریکہ کے ساتھ کرپٹو اور اہم معدنیات میں تجارت کے امکانات، اور وسط ایشیا کو پاکستانی بندرگاہوں سے جوڑنے کی خواہش کو پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اور سٹریٹیجک اہمیت کی مثالیں قرار دیا ہے۔

کفنانشل ٹائمز کے مطابق پاکستان کی نمایاں قوت یہ ہے کہ وہ قومی مفاد اور حالات کے مطابق واشنگٹن اور بیجنگ دونوں کے ساتھ کام کر سکتا ہے، جبکہ خلیجی ریاستوں اور ایران کے ساتھ بھی رابطے برقرار رکھتا ہے۔ اس طرح پاکستان کسی ایک عالمی کیمپ تک محدود ہوئے بغیر مختلف طاقت کے مراکز کے ساتھ شراکت داری قائم کرنے کی صلاحیت رکھنے والی اہم درمیانی طاقت کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں