
پاکستان میں انصاف کے نظام پر سب سے بڑی تنقید یہ نہیں کہ عدالتیں انصاف نہیں کرتیں، بلکہ یہ ہے کہ انصاف کے حصول میں بہت زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔ برسوں تک چلنے والے مقدمات، بار بار کی پیشیاں، قانونی پیچیدگیاں، غیر ضروری التوا اور فرسودہ طریقہ کار عام شہری کے لیے انصاف کے سفر کو مشکل بنا دیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر نظامِ انصاف کے بنیادی قوانین کا ازسرنو جائزہ لینے اور انہیں موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی جائے تو اسے محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ اصلاحات کی جانب ایک سنجیدہ قدم سمجھا جانا چاہیے۔
اسی تناظر میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ خان کی جانب سے ضابطہ فوجداری 1898ء اور ضابطہ سول پروسیجر 1908ء میں اصلاحاتی ترامیم کے لیے الگ الگ کمیٹیوں کی تشکیل ایک اہم اور قابلِ توجہ پیش رفت ہے۔یہ اقدام اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ فوجداری اور سول مقدمات کا نظام محض عدالتوں تک محدود نہیں ہوتا۔ اس پورے عمل میں پولیس، پراسیکیوشن، وکلا، عدالتی عملہ، تفتیشی ادارے اور سائلین مختلف مراحل پر شامل ہوتے ہیں۔ اگر قانون میں موجود کوئی ایسی شق یا طریقہ کار عملی طور پر انصاف کی رفتار میں رکاوٹ بن رہا ہو تو اس کا جائزہ لینا وقت کی ضرورت بن جاتا ہے۔
فوجداری قانون میں اصلاحات کیوں ضروری ہیں؟
ضابطہ فوجداری 1898ء ایک ایسا قانون ہے جو ایک مختلف دور کے قانونی اور انتظامی تقاضوں کے تحت بنایا گیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ معاشرہ، جرائم کی نوعیت، تفتیش کے طریقے، ٹیکنالوجی اور عدالتی ضروریات تبدیل ہو چکی ہیں۔
ایسے میں اس قانون کا مسلسل جائزہ ضروری ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کون سے قانونی طریقہ کار آج بھی مؤثر ہیں اور کہاں اصلاح کی ضرورت ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی جانب سے قائم کی گئی 9 رکنی کمیٹی کو یہی ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ ضابطہ فوجداری کا تفصیلی جائزہ لے اور موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق اصلاحاتی ترامیم تجویز کرے۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ناصر چوہان کو کمیٹی کا کنوینر مقرر کرنا، جبکہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرلز، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل، سینئر کنسلٹنٹ اور جونیئر کنسلٹنٹس کو اس میں شامل کرنا اس بات کی علامت ہے کہ معاملے کو مختلف سطحوں پر قانونی تجربے اور عملی مشاہدے کی روشنی میں دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اصل کامیابی تاہم کمیٹی بنانے میں نہیں بلکہ اس کی سفارشات کو عملی شکل دینے میں ہوگی۔
سول مقدمات میں تاخیر کا مسئلہ
پاکستان کے عدالتی نظام میں سول مقدمات کا طویل عرصے تک زیرِ التوا رہنا ایک پرانا مسئلہ ہے۔ زمین، جائیداد، کرایہ داری، معاہدوں، وراثت اور دیگر شہری تنازعات میں فریقین بعض اوقات کئی سال تک عدالتوں کے چکر لگاتے رہتے ہیں۔
اس صورت حال کا سب سے زیادہ نقصان عام شہری کو ہوتا ہے۔
ایک شخص جو اپنے حق کے حصول کے لیے عدالت سے رجوع کرتا ہے، اگر اسے برسوں انتظار کرنا پڑے تو انصاف کی اصل روح متاثر ہوتی ہے۔ اسی لیے ضابطہ سول پروسیجر 1908ء کا ازسرنو جائزہ بھی انتہائی اہم ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی منظوری سے قائم کی گئی کمیٹی کو سول مقدمات میں تاخیر کے اسباب، عدالتی کارروائی کو تیز کرنے کے امکانات اور موجودہ قانونی طریقہ کار میں ضروری اصلاحات کا جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب رانا شمشاد خان کو کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے جبکہ مختلف سطحوں کے لاء افسران اور قانونی ماہرین کو اس میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سول قانون میں اصلاحات کے معاملے کو بھی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔
قانون وہی مؤثر جو وقت کے ساتھ چلے
قانون ایک زندہ معاشرے کی ضرورت پوری کرنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ اگر معاشرہ تبدیل ہو جائے، جرائم کی نوعیت تبدیل ہو جائے، ٹیکنالوجی آگے بڑھ جائے اور عدالتی نظام کے تقاضے بدل جائیں تو قوانین کا جائزہ بھی ناگزیر ہو جاتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی اصول کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ قانون میں ترمیم صرف ترمیم برائے ترمیم نہیں ہونی چاہیے۔
ہر مجوزہ تبدیلی کے مرکز میں انصاف، شفافیت، بنیادی حقوق اور قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے۔
فوجداری قانون میں ایسی اصلاحات ضروری ہیں جو بے گناہ شہری کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے حقیقی ملزم کے خلاف مؤثر کارروائی کو یقینی بنائیں۔ اسی طرح سول قانون میں ایسی تبدیلیاں ہونی چاہئیں جو فریقین کو غیر ضروری تاخیر، پیچیدہ کارروائی اور بار بار کی پیشیوں سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوں۔
اصل امتحان عملدرآمد کا ہے
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کا یہ اقدام بلاشبہ خوش آئند ہے، لیکن اصل امتحان اب شروع ہوگا۔
کمیٹیوں کو صرف قوانین کی خامیاں تلاش کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں عملی مسائل کی جڑ تک پہنچنا ہوگا۔ عدالتوں میں مقدمات کیوں التوا کا شکار ہوتے ہیں؟ کون سی قانونی شقیں غیر ضروری تاخیر کا باعث بنتی ہیں؟ تفتیش اور پراسیکیوشن کے مراحل میں کہاں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں؟ وکلا اور عدالتی نظام کو کن عملی مشکلات کا سامنا ہے؟ سائلین کو کن مراحل پر غیر ضروری مشکلات پیش آتی ہیں؟
ان تمام سوالات کا جواب تلاش کرنا ہوگا۔
اگر کمیٹیاں وکلا، ججز، پراسیکیوٹرز، پولیس افسران، عدالتی عملے اور سائلین کے عملی تجربات کو بھی اپنی سفارشات کا حصہ بنائیں تو اصلاحات زیادہ مؤثر ہو سکتی ہیں۔
اصلاحات میں توازن ضروری ہے
فوری انصاف کا مطلب صرف جلد فیصلہ نہیں بلکہ درست، منصفانہ اور قانونی تقاضوں کے مطابق فیصلہ ہے۔
اس لیے قانونی اصلاحات میں رفتار اور انصاف کے درمیان توازن برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہوگا۔ کسی ایسے طریقہ کار کو ختم کرنا دانشمندی نہیں ہوگا جو ملزم، مدعی یا کسی بھی فریق کے بنیادی قانونی حقوق کا تحفظ کرتا ہو۔
اصلاحات کا مقصد مقدمات کو جلد نمٹانا ضرور ہونا چاہیے، مگر اس کے ساتھ ساتھ انصاف کے بنیادی اصولوں، اپیل کے حق، شفاف سماعت اور فریقین کے قانونی حقوق کو بھی مکمل تحفظ ملنا چاہیے۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ایڈمن محمد نواز چوہدری کا انتظامی کردار بھی اہم
دونوں کمیٹیوں کے نوٹیفکیشن ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ایڈمن محمد نواز چوہدری کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔ بظاہر یہ ایک انتظامی کارروائی ہے، لیکن ایسے بڑے اصلاحاتی عمل میں انتظامی تسلسل اور کمیٹیوں کی مؤثر نگرانی بھی بہت اہم ہوتی ہے۔
اگر کمیٹیوں کو مطلوبہ ریکارڈ، قانونی مواد، متعلقہ اداروں سے معلومات اور عملی معاونت بروقت فراہم کی جائے تو سفارشات زیادہ جامع اور قابلِ عمل بن سکتی ہیں۔
ایک موقع، جسے ضائع نہیں ہونا چاہیے
پنجاب میں نظامِ انصاف کے حوالے سے یہ وقت اہم ہے۔ ایک طرف عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ ہے، دوسری طرف شہری فوری انصاف چاہتے ہیں۔ ایسے میں قوانین کے بنیادی ڈھانچے کا جائزہ لینے کی کوشش ایک مثبت سمت کی نشاندہی کرتی ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ خان کی جانب سے فوجداری اور سول قوانین میں اصلاحاتی ترامیم کے لیے الگ الگ کمیٹیوں کی تشکیل کو اسی وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
یہ اقدام کسی ایک فرد، ادارے یا حکومت کی کامیابی نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے پنجاب کے عدالتی نظام میں دیرپا بہتری کی بنیاد بننا چاہیے۔
اگر کمیٹیاں محض رسمی سفارشات کے بجائے زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے قابلِ عمل تجاویز مرتب کرتی ہیں، اگر سفارشات کو قانونی ماہرین اور متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد حتمی شکل دی جاتی ہے اور اگر ان تجاویز پر سنجیدگی سے قانون سازی ہوتی ہے تو یہ عمل پنجاب کے نظامِ انصاف میں ایک مثبت تبدیلی کا نقطۂ آغاز بن سکتا ہے۔
آخرکار انصاف کی اصل قدر صرف اس میں نہیں کہ عدالت کسی فریق کے حق میں فیصلہ دے، بلکہ یہ بھی ہے کہ حق دار کو اس کا حق بروقت ملے۔
اسی لیے ضابطہ فوجداری اور ضابطہ سول پروسیجر میں جدید تقاضوں کے مطابق اصلاحات کی کوشش کو ایک خوش آئند قدم سمجھنا چاہیے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کمیٹیوں کو مکمل آزادی، مطلوبہ وسائل اور عملی تعاون فراہم کیا جائے اور ان کی سفارشات کو محض فائلوں تک محدود رکھنے کے بجائے قانون اور عمل کا حصہ بنایا جائے۔
کیونکہ انصاف میں تاخیر صرف ایک قانونی مسئلہ نہیں، یہ عام شہری کی زندگی، وقت اور اعتماد کا مسئلہ بھی ہے۔ اور اگر موجودہ قوانین میں اصلاحات کے ذریعے اس تاخیر کو کم کرنے کی سنجیدہ کوشش کی جا رہی ہے تو اس کوشش کی حوصلہ افزائی بھی ہونی چاہیے اور اس کے نتائج پر نظر رکھنا بھی ضروری ہے۔






