
(محمد حسن خان )محکمہ ترقی نسواں کی جانب سے انڈونیشین خاتون کی بازیابی کی کاوش کامیاب ہوگئیں، عدالت نے انڈونیشین خاتون اندا مارلین کو سفارتی حکام کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا جس کے بعد انڈونیشن سفارتی حکام خاتون کو لے کر کراچی روانہ ہوگئے ۔
حیدرآباد میں قاسم آباد کے علاقے گل لطیف سوسائٹی سے انڈونیشین خاتون اندا مارلین کو بازیاب کروانے کے بعد آج عدالت میں پیش کیا گیا تھا ، خاتون کو سول جج نمبر 6 کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
عدالت میں انڈونیشن خاتون نے بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے موقف اپنایا کہ میں اپنے موجودہ شوہر کے ساتھ مزید ازدواجی تعلق میں نہیں رہنا چاہتی،خاتون نے 164 سی آر پی سی کے بیان میں اپنے وطن واپس جانے کی استدعا بھی کی ۔
عدالت نے خاتون کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد اُسے سفارتی حکام کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا، عدالتی احکامات کے بعد انڈونیشن سفارتی حکام اپنی شہری خاتون کو ہمراہ لیکر کراچی روانہ ہوگئے۔
واضح رہے کہ انڈونیشن خاتون کی شکایت پر محکمہ ترقی نسواں کے شکایتی سیل کی کارروائی کے بعد خاتون کو بازیاب کروایا گیا تھا،انڈونیشین خاتون اندا مرلین نے محکمہ ترقی نسواں کے حکام کو پیغام کے ذریعے شکایت کی تھی۔
انڈونیشین خاتون کا الزام تھا کہ شادی کا جھانسہ دے کر پاکستان بلایا گیا اور مبینہ طور پر قید میں رکھا گیا، خاتون کے مطابق اس کا پاسپورٹ اور دیگر قانونی دستاویزات بھی قبضے میں لے لیے گئے،خاتون کی شکایت پر شکایتی سیل حیدرآباد کی انچارج نسرین پلیجو نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پولیس سے رابطہ کیا تھا۔
نسرین پلیجو کی جانب سے نسیم نگر تھانے کو خاتون کی بازیابی کے لیے درخواست دی گئی تھی، نسیم نگر پولیس نے خاتون کی مبینہ موجودگی سے متعلق درخواست پر کارروائی نہ ہونے کا تحریری جواب دیا،پولیس کی جانب سے بتایا گیا کہ انڈونیشین خاتون مذکورہ مقام پر موجود نہیں تھی ۔
معاملہ حل نہ ہونے پر محکمہ ترقی نسواں کی شکایتی سیل کی انچارج نسرین پلیجو نے عدالت سے رجوع کیا تھا جس پر عدالت کے حکم پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے انڈونیشین خاتون کو بازیاب کرایا۔
نسرین پلیچو نے کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے، خواتین کو ہراساں کرنا یا حبسِ بے جا میں رکھنا بڑا جرم ہے،خواتین کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے محکمہ ترقی نسواں ہر وقت اقدامات کے لیے موجود ہے،ایسے معاملات میں پولیس افسران کو محکمہ ترقی نسواں کے ساتھ مکمل تعاون یقینی بنانا ہوگا،خواتین کو بروقت انصاف کی فراہمی کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں :وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیا اللہ لانگو کا کوئٹہ میں ٹراما سینٹر اور نجی ہسپتال کا دورہ






