
(ویب ڈیسک) یمنی فوج نے 200 سے زائد حوثی ملیشیا کے کارکنوں کو ہلاک کردیا ہے۔ یہ سب ہلاکتیں گزشتہ دو دن کے دوران ہوئی ہیں۔ حوثیوں نے جیلوں سے سینکڑوں قیدیوں کو جنگ میں ساتھ دینے کی شرط پر رہا کر دیا۔
یمن کی فوج نے آج بتایا ہے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران 200 سےحوثی فورسز کے اہلکاروں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔فوجی ذرائع نے بتایا کہ یمن میں جاری کشیدگی کے دوران یہ حوثی گروپ کے بدترین نقصانات میں سے ایک ہے۔
یمن کی فوج نے حوثیوں کے قبضہ میںا آئے ہوئے علاقوں میں ڈرون حملے کیے اور شدید جھڑپیں بھی ہوئیں اور اس دوران 200 سے زائد حوثیوں کو ہلاک کیا گیا۔ زیادہ حوثی صوبہ طیز میں مارے گئے ہیں۔
یمن میں جاری کشیدگی کے دوران یہ حوثی گروپ کے لیے پہنچنے والے بدترین نقصانات میں سے ایک ہے۔
یمنی فوجی کے مطابق دو دن کے دوران فوج کی کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے حوثیوں کا تعلق الصمد بریگیڈ سے ہے۔ حوثیوں کے قبضہ میں آئے ہوئے مرکزی شہر صنعا کے ہسپتالوں میں زخمی حوثیوں کے ساتھ ہلاک ہو چکے جنگجوؤں کی بھی کئی لاشیں لائی گئی ہیں۔
حوثیوں کی جوابی کارروائیوں کی تیاریاں
دوسری جانب حوثیوں کی جانب سے جنوبی طیز کے علاقے ال براہ میں حوثی سپیشل فورس اور جنگجوؤں کی بڑی تعداد تعینات کی گئی ہے، جس کا مقصد جانی نقصان کا بدلہ لینا اور مزید سخت کارروائیاں جاری رکھنا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہفتے کو بھی جھڑپوں کے دوران حوثی فباغیوں کے 64 جنگجوؤں کو ہلاک کردیا گیا تھا۔
حوثیوں نے سینکڑوں قیدیوں کو جیل سے رہا کر دیا
صنعا میں حوثی باغیوں کے ذرائع کا کہنا تھا کہ حوثیوں نے فوجی اہلکاروں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے لڑائی میں شریک ہونے کی شرط پر جیل سے سینکڑوں قیدیوں کو رہا کرنا شروع کردیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ صعدہ، حجہ اور صنعا کی جیلوں سے تقریباً 850 قیدیوں کو رہا کیا گیا، جن میں جرائم اور منشیات سے متعلق الزامات کا سامنا کرنے والے افراد بھی شامل ہیں، اسی طرح ذمار صوبے میں مزید 1,400 قیدیوں کو رہا کرنے کی تیاری جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: پوپ لیو نے مغربی کنارے میں آبادکاروں کا تشدد روکنے ، دو ریاستی حل کی طرف بڑھنےکا مطالبہ کر دیا






