
(راو دلشاد)پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری اثاثوں کو قانونی اور مالیاتی تقاضوں کے مطابق آگے بڑھانے اور شناخت شدہ صوبائی اثاثوں کو ای میپ کے زیر انتظام لانے کے لیے لائحہ عمل کا جائزہ لیا گیا۔
وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمان کی صدارت میں کابینہ کمیٹی برائے ایسٹ مینجمنٹ اتھارٹی پنجاب کے پہلے اجلاس میں صوبائی وزرا ء سید محمد عاشق حسین شاہ، بلال اکبر خان، رانا سکندر حیات اور محمد کاظم پیرزادہ نے شرکت کی۔
اس موقع پر وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہا کہ مریم نواز حکومت عوامی وسائل کے بہترین استعمال اور شفاف گورننس کو ترجیح دے رہی ہے، ایسٹ مینجمنٹ اتھارٹی پنجاب کا قیام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
انھوں نے کہا کہ سرکاری اثاثے عوام کی امانت ہیں، مؤثر انتظام حکومت کی ذمہ داری ہے،اثاثہ جاتی انتظام کا مقصد صرف آمدن میں اضافہ نہیں، اثاثوں کی قدر، افادیت اور عوامی مفاد کا تحفظ بھی ضروری ہے ۔
مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ شناخت کردہ سرکاری اثاثوں کے ہر کیس کی نوعیت اور موجودہ صورتحال مختلف ہو سکتی ہے، اثاثوں سے متعلق معاملات دستیاب معلومات اور قوانین کے مطابق مرحلہ وار دیکھے جائیں گے،کسی بھی اثاثے کے بارے میں فیصلہ عوامی مفاد اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھ کیا جائے گا۔
وزیر خزانہ پنجاب نے کہا کہ ای میپ سے صوبائی اثاثوں کی ڈاکومیٹیشن اور مینجمنٹ میں بہتری آئے گی، سرکاری اثاثوں کی بہتر مینجمنٹ سے مزید معاشی مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :سب انسپکٹرز کو ترقی دینے کیلئے آئی جی پنجاب نے اجلاس طلب کرلیا






